آصف تنویر تیمی
اس وقت پورا عالم عرب بالخصوص خلیج عرب ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔گذشتہ دو تین دہائیوں میں سعودی عرب،امارات،قطر،اور کویت میں اقتصادی اعتبار سے بڑا بدلاؤ دیکھنے کو ملا ہے۔سعودی عرب کا ویژن 2030 اس سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ اب تک کے جائزہ کے مطابق سعودی عرب اپنے اس ویژن میں پورے طور پر کامیاب بھی ہے۔آنے والے ایام اور سال اس بات کے گواہ بنیں گے کہ سعودی عرب معیشت اور توانائی کے لحاظ سے ایک طاقت ور ملک ہے۔اس ویژن کی تکمیل کے بعد سعودی عرب کا انحصار صرف پٹرول اور ڈیزل پر نہیں بلکہ معیشت اور اقتصاد کے بہت سے ذرائع ہوں گے۔ چند ہفتوں قبل سعودی عرب میں گیس کے سوتے کا انکشاف ہوا ہے۔میرے خیال میں دنیا کے لئے اس میں اشارہ ہے کہ اگر مستقبل میں پٹرول اور ڈیزل کی جگہ گیس حاصل کرلے تو بھی سعودی عرب کسی کا محتاج نہیں ہوگا۔ حرمین شریفین کی خدمات کی بدولت اللہ تعالی نے مملکت سعودی عرب کو وہ نعمتیں عطا کرتا ہے جن سے دوسرے ممالک محروم ہیں۔ ان نعمتوں کا صحیح استعمال کوئی سعودی عرب سے سیکھے۔دنیا کا کوئی گوشہ ان کی سخاوت اور فیاضی سے خالی نہیں۔خاص طور سے بد حال مسلم ممالک پر سعودی عرب دل کھول کااپنا خزانہ لٹاتا ہے۔یمن،لبنان،شام اور بہت سارے افریقی ممالک اس کے گواہ ہیں۔ابھی انڈونیشیا میں جب آگ زنی کا دل خراش واقعہ پیش آیا۔اربوں کا مالی نقصان ہوا۔مملکت سعودی عرب نے وہاں کے سب سے بڑے اسلامی مرکز کی اصلاح ومرمت کی ذمہ داری اپنے ذمہ لی۔اس طرح کے نہ جانے کتنے رفاہی کام سعودی عرب آئے دن کرتا رہتا ہے۔ کبھی ان کے رفاہی کاموں کی خبر میڈیا میں آتی اور کبھی نہیں آتی ہے۔لیکن لوگ سعودی عرب کے مال واسباب سے کسی نہ کسی طرح ضرور مستفید ہوتے ہیں۔
اس وقت پوری عربی اور اسلامی دنیا کی نگاہ سعودی عرب پر ٹکی ہوئی ہے۔وہ سب سعودی عرب کے جھنڈے تلے اپنے تمام شعبہائے زندگی میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔کسی خاص ملک کے غلام اور دم چھلہ بن کر رہنا نہیں چاہتے۔کئی دہائیوں تک انہوں نے اس کو بھی برداشت کیا ہے مگر اب بالکل اس میں اپنا قیمتی وقت ضائع کرنا نہیں چاہئے۔وہ دنیا کو واضح یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ جو عربوں کے مفاد میں سوچے گا عرب ان کے ساتھ رہیں گے وہ کسی کے بے جا استبداد کو برداشت کرنے والے نہیں ہیں۔انہیں ہر حال میں امن واستقرار اور ترقی عزیز ہے۔
7؍دسمبر سے 10؍دسمبر 2022تک سعودی عرب کی راجدھانی ریاض میں عرب چین اور پھر چین اور خلیج کی کامیاب چوٹی کانفرنس ہوئی جس میں چینی صدر شی جن پنگ کے علاوہ مصر، عراق، قطر، کویت،امارات، تونس، فلسطین، موریتانیہ، اردن، سوڈان، بحرین، عمان، جزائر، لبنان سربراہان کے علاوہ بڑی تعداد میں ان ممالک کے سفراء اور عمائدین نے شرکت کی۔تمام نے شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کا اس کانفرنس کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔اس کانفرنس میںعرب اور چین کا دوطرفہ سٹریٹیجک تعلقات کو مزید بڑھاوا دینے،اور معیشت اور دفاع کے معاملوں میں دوطرفہ تعاون کرنے پر اتفاق ہوا ۔چینی صدر نے اپنے خطاب میں اس بات کا برملا اعلان کیا کہ وہ عرب دنیا میں اپنی سرمایہ کاری میں مزید اضافہ کریں گے، واضح رہے کہ اس وقت چین سعودی عرب کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے، ایک رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۱ء تک ۱۸۷ ارب ڈالر کا مشترکہ تجارتی کاروبار دونوں ملک کرچکے ہیں۔ چین اپنی کل ضروریات کا ۱۸ فیصد تیل سعودی عرب سے خریدتا ہے۔ اسی طرح سعودی کمپنی ارامکو کے کافی بہتر تعلقات چین سے ہے۔ چینی مصنوعات کی بڑی منڈی عرب دنیا بالخصوص خلیج عرب ہے۔
اس چوٹی کانفرنس میں چینی صدر شی جن پنگ کی دو تین باتیں کافی اہم تھیں۔ دوسرے ممالک عربوں کے اندرونی مسائل میں کسی قسم کی مداخلت نہ کریں۔ ہر ملک کو اس کا قائدانہ حق ملنا چاہئے۔کوئی کسی پر اپنی مرضی جبرا تھوپنے کی کوشش نہ کرے۔ جبر اور استحصال کی وجہ سے دنیا میں بے چینی اور بے اطمینانی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔چین آنے والے تین سے پانچ سالوں میں اپنے بہت سارے اقتصادی منصوبوں کو سعودی عرب میں پورا کرنے کی کوشش کرے گا۔
اس کانفرنس کی ایک خاص بات یہ رہی کہ تمام ملکوں نے فلسطین کی آزادی اور قدس کو اس کی راجدھانی بنانے پر زور دیا۔فلسطین پر ہورہے ظلم وزیادتی کو غیر انسانی اور غیر اخلاقی عمل قرار دیا۔چین نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اس قدیم قضیہ کو بہت دنوں تک معلق نہیں رکھا جاسکتا۔فلسطین کے مسئلہ کو مکمل طور پر ختم کرنے کے سمت میں چین موثر کردار ادا کرے گا،تاکہ مزید انسانی جانیں تلف نہ ہوں۔اور شرق اوسط میں امن واستقرار کو ممکن بنایا جاسکے۔ فلسطین کے مسئلہ کو بلا سلجھائے شرق اوسط کا امان بحال نہیں ہوسکتا۔
چینی صدر شی جن پنگ کی اس چوٹی کانفرنس میں شرکت پرنس محمد بن سلمان کے چین کے سرکاری دورہ کے بعد عمل میں آئی ہے۔اس کانفرنس سے عربوں اور خلیجی ممالک کو بڑی توقعات وابستہ ہیں۔وہ اب ہر محاذ پر کامیابی کا جھنڈا گاڑنا چاہتے ہیں۔اور اس کے لئے ایک طرف امن استقرار کی ضرورت ہے تو دوسری طرف مضبوط اور مستحکم معیشت کی۔اور ان دونوں کو یقینی بنانے میں عرب ممالک مکمل طور سے کوشاں ہیں۔
اس چوٹی کانفرنس کی متنوع اہمیت کے پیش نظر تمام عرب ملکوں کے روساء سے اس میں شرکت کی۔صرف شرکت ہی نہیں بلکہ پوری صفائی کے ساتھ اپنے عزائم اور ارادوں کا اظہار بھی کیا۔ عربوں کے ان مضبوط ارادوں اور ان کی مسلسل ترقی کی طرف بڑھتے قدم سے ان کے تابناک مستقبل کا پتہ چلتا ہے۔ ان کی کوششوں میں تسلسل رہا تو عنقریب عربستان اقتصاد اور معیشت کے لحاظ سے چمنستان میں تبدیل ہوجائے گا۔ ان کی طاقتوں اور رسوخ میں بھی اضافہ ہوگا۔ اور اس طرح پوری دنیا میں مسلمانوں کی ساخ مضبوط ہوگی۔ اسلامو فوبیا کا نعرہ کمزور ہوگا۔ دنیا میں مزید اسلامی تعلیمات کی نشر واشاعت ہوگی۔توحید کو فروغ ملے گا اور شرک کا غلغلہ کم ہوگا۔












