جالے، محمد رفیع ساگر : دربھنگہ۔سیتامڑھی ریل سیکشن پر جالے تھانہ کے کھیسر اور چندونا کے درمیان منما ٹپانی کے قریب ریلوے ٹریک سے برآمد پوپری سب ڈویزن کے گنگٹی گاوں کے چچا ۔بھتیجے کی قتل شدہ برہنہ لاشوں کی گتھی سلجھانے میں 8 دن گزر جانے کے باوجود جالے پولیس اب تک کسی خاص نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ہے۔ قاتل کون ہے؟ قتل کی وجہ کیا تھی؟ اور پولیس اس معمہ کو حل کرنے میں کیوں ناکام ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو علاقے میں گردش کر رہے ہیں، لیکن ان کا کوئی واضح جواب سامنے نہیں آیا۔حالانکہ پولیس کی جانب سے کئی بار جائے وقوعہ کا معائنہ کیا جا چکا ہے، کئی لوگوں سے پوچھ گچھ کی گئی، لیکن کوئی ٹھوس سراغ نہیں ملا۔ مقتولین کی بائک، موبائل اور کپڑے بھی غائب ہیں، جس کی وجہ سے تفتیش میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ پولیس موبائل لوکیشن اور کال ڈیٹیلز کی جانچ میں مصروف ہے، مگر اب تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔غور طلب ہو کہ 16 فروری کی رات 26 سالہ چاند بابو نداف اور بھتیجہ 19 سالہ ابران نداف 9 بجے گھر سے مداری پور کے لئے نکلے تھے جہاں چاند نداف کا سسرال ہے۔ رات دیر تک واپس نہ آنے پر جب اہل خانہ نے ان کے موبائل پر رابطہ کرنے کی کوشش کی تو کوئی جواب نہیں ملا۔ رات ساڑھے دس بجے ابران نداف نے اپنے والد کو فون کرکے گھر واپس آنے کی اطلاع دی، مگر وہ گھر نہیں پہنچا۔ اگلی صبح گاؤں کے ایک آٹو ڈرائیور نے اطلاع دی کہ جالے تھانہ حلقہ کے کھیسر اور چندونا کے درمیان ریلوے ٹریک پر دو لاشیں پڑی ہوئی ہیں۔ لاشوں کی حالت دیکھ کر یہ واضح تھا کہ قتل کے بعد انہیں ٹریک پر پھینکا گیا تھا۔پولیس کی ناکامی پر سوالات اٹھایا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ اگر یہ قتل ہے تو اب تک قاتلوں کا سراغ کیوں نہیں ملا؟مقتولین کے موبائل اور بائک کہاں گئے؟کیا یہ منصوبہ بند قتل تھا یا کوئی اور معاملہ ہے؟پولیس اب تک کسی نتیجے پر کیوں نہیں پہنچ پائی؟مقتولین کے اہل خانہ مسلسل انصاف کی اپیل کر رہے ہیں، لیکن پولیس کی سست روی پر وہ ناراض ہیں۔ مقامی لوگ بھی اس کیس میں تاخیر پر سوال اٹھا رہے ہیں اور تفتیش میں تیزی لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ علاقے میں خوف کا ماحول برقرار ہے اور لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر پولیس اب تک قاتلوں تک کیوں نہیں پہنچ پائی؟ایس ڈی پی او صدر سرکل 2 جیوتی کماری کا کہنا ہے کہ معاملے کی باریکی سے تفتیش کی جا رہی ہے اور جلد ہی مجرموں کو گرفتار کر لیا جائے گا، لیکن 8 دن گزرنے کے باوجود کسی بڑی کامیابی کا اعلان نہیں کیا جا سکا، جس سے معاملہ مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔











