
ہسپورہ/ اورنگ آباد: اردو دنیا کے مشہور و معروف مکالمہ کاربے باک نڈر صحافی نثار احمد صدیقی راجد لیڈر ارجن سنگھ جدیو لیڈر چندریش پٹیل کانگریسی لیڈر میتھلیش شرما پروفیسر اسلام عشرت ڈاکٹر ممتاز دانش و ڈاکٹر ذاکر حسین نے ایک مشترکہ بیان اردو کونسل ہند کے مطالبات سے متعلق جاری کیا ہے کہ 8 سال قبل تک نتیش حکومت مسلم اقلیت و اردو کے لئے جو کام کرتے رہے وہ لائق تحسین تھے۔ اسی کام کی بنیاد پر ہندوستان کے کوچے کوچے میں نتیش حکومت کی تعریفیں سننے کو ملتی رہی اور اخبارات میں چھائے رہے۔ لیکن ادھر چند سالوں سے نتیش حکومت کا رویہ بدلا بدلا سا ہے۔ اردو زبان و اقلیتی ادارے سے انکی بے رخی و بے زاری آج کل صاف نظر آرہی ہے۔ سیکولر عوام کو یاد ہوگا کہ نتیش جی نے چند سال قبل یہ اعلان کیا تھا کہ ہر اسکول میں ایک اردو ٹیچر بحال کئے جائیں گے لیکن اس اعلان کا کیا ہوا ۔۔۔ ؟ اس کے علاوہ اردو اخبارات کے لئے ہندی رسم الخط میں اشتہار دینا ۔ چہ معنی دارد۔ ؟ جبکہ بہار راج بھاشا ایکٹ 1981 ( بہار ایکٹ 2ـ1981) نوٹیفکیشن نمبر 652 ‘ 1139′ 1440’ کے تحت بہار کی سرکاری زبان اردو کو دوسرا درجہ دیا گیا ہے۔ پھر ایسا کیوں۔ ؟ آج جو جونیئر مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ (پٹنہ) میں کئی عہدے عرصہ دراز سے خالی پڑے ہوئے ہیں ۔ اسی طرح عربی و فارسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے بہت سارے پوسٹ خالی ہیں پھر ان خالی عہدوں پر بحالیاں کیوں نہیں کی جارہی ہے؟ مدرسہ بورڈ و اقلیتی کمیشن بہار بھی اپنے چیرمین کے لئے کئی سالوں سے انتظار کر رہا ہے۔ بہار کی سب ہی یونیورسٹیوں و کالجوں میں اردو کے شعبہ اب تک نہیں کھولے گئے۔ جبکہ بہار کی دوسری سرکاری زبان اردو ہے۔ پھر ایسا کیوں ؟ یاد رہے نتیش حکومت میں ہی محکمہ تعلیم نے مکتوب نمبر 1099 مورخہ 15 مئی 2020ء کے تحت اسکولوں میں اردو کی تعلیم کی لازمیت کو ختم کر دیا۔ جس سے اردو ٹیچر کی بحالی کا راستہ بند ہو گیا۔ اس اقدام سے بہار کی دوسری سرکاری زبان اردو پر برا اثر پڑا۔ جبکہ بہار ایکٹ 2-1981 کے تحت اس زبان کی ترقی و فروغ کےلئے حکومت بہار پابند عہد ہے۔ نتیش حکومت نے مقامی زبان میتھلی مگہی و بھوجپوری میں تعلیم دینے کا حکم نامہ جاری کیا لیکن دوسری سرکاری زبان اردو کو اس میں شامل نہیں کیا گیا۔ ایسا کیوں ـ؟ کیا نتیش حکومت مرکزی حکومت کے نقشِ قدم پر چل رہی ہے۔؟ آج مرکزی حکومت کے تحت جو بھی اردو و اقلیتی ادارے ہیں وہ سب کی پوزیشن سیکولر عوام کے سامنے عیاں ہے۔ ہم سب بیان کردہ وزیر اعلیٰ بہار سے گزارش ہے کہ ” اردو کونسل ہند” کے مطالبات کو نظر انداز نہ کریں اور اس پر عمل پیرا ہو جائے ۔











