14 دسمبر کو دہلی کے دوارکا میں ایک لڑکے نے 17 سالہ اسکول کی طالبہ پر تیزاب پھینک دیا تھا جس کے نتیجے میں اس کی دونوں آنکھوں کو شدید نقصان پہنچا ہے ،اب متاثرہ اسپتال میں داخل ہے اور اس کا صفدر جنگ ہسپتال میں علاج چل رہا ہے، بتایا جاتا ہے کہ لڑکی کا چہرہ سات سے آٹھ فیصد جھلس گیا ہے اور اس کی آنکھیں بھی سخت متاثر ہوئی ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آر سی) نے جمعہ کو دہلی حکومت اور شہر کے پولیس کمشنر کو تیزاب پھینکے جانے پر نوٹس جاری کیا ہے ۔وہیں اس واقعہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے کمیشن نے اسٹیٹ لیگل سروسز اتھارٹیز کے ممبر سکریٹری کو بھی نوٹس بھیجا، اس بات کا مشاہدہ کرتے ہوئے کہ رپورٹ شدہ واقعہ متاثرہ کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سنگین مسائل کو جنم دیتا ہے۔یقینا یہ واقعہ نہایت سنگین اور جھنجوڑنے والا ہے جو دہلی میں خواتین کے تحفظ ان کے خلاف سنگین اور بے خوف جرائم کے چلن کو بیاں کرتا ہے، تو دوسری طرف انتظامیہ اور سسٹم پربھی کئی سوال کھڑے کرتا ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس معاملے میں دہلی حکومت کو نوٹس کیوں بھیجا گیا ،سمجھ سے باہر ہے۔سوال یہ بھی ہے کہ اس اان لائن کمپنی کو نوٹس بھیجا جانا بھی عقل سے باہر کی بات ہے ،جبکہ اصل نوٹس دہلی پولس کو بھیجا جانا چاہئے جو کہ سنگین واقعات کے وقع پذیر ہونے کی اصل ذمہ دار سمجھی جاتی ہے ۔سوال یہ نہیں ہے کہ ملزم نے تیزاب آن لائن خریدا یا کہیں اور سے لایا ،بلکہ سوال یہ ہے کہ ان میں بے راہ روی اور ان میں قانون کا کوئی خوف کیوں نہیں ہے ؟۔اگر پولس ان اوقات میں جب سڑکیں ویران رہتی ہیں یا اامدو رفت کم رہتی ہے پولس کی گشت ضروری ہوتی ہے ،لیکن بعض جگہ اس میں لاپر وائی دیکھی جاتی ہے اور بدنام علاقوں سے لڑکیا جان ہتھیلی پر لیکر گزرتی ہیں۔حالانکہ اس طرح کے واقعات میں سخت قانون بننے کے بعد کمی آئی ہے لیکن مکمل طور سے ختم نہیں ہوئے ،خواتین آج بھی اتنا محفوظ نہیں ہیں جس طرح دعوے کئے جاتے ہیں ۔لڑکیوں کاگھروں سے باہر نکلنا غیر محفوظ ہوتا جارہا ہے ۔یک طرفہ پیار و محبت کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور اس میں ناکامی کے بعد سنگین قسم جرائم کا ارتکاب کا جنم لینا اب عام بات ہو گئی ہے ۔اس طرح کے واقعہ بے حد ڈرانے والے ہیں ،حالانکہ تین لڑکوں کو پولس نے گرفتار کیاہے لیکن ابھی اس پر اطمینان ظاہر نہیں کیا جاسکتا۔اس لئے اب مسلہ متاثرہ کی باقی کی زندگی کا ہے کہ وہ کیسے اسے گزار پائے گی ۔اس کی دونوں آنکھیں جزوی طور سے متاثر ہوئیں ہیں جس کی وجہ سے کسی کام کے قابل نہیں رہ گئی۔ متاثرہ ایک معمولی گھرانے سے تعلق رکھتی ہے ۔اس کے والد ربڑ سٹیمپ کا کاروبار کرتے ہیں اور پراپرٹی ڈیلر بھی ہیں، جبکہ اس کی ماں گھریلو ملازمہ ہے۔ وہ تین بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں، جن میں ایک 12 سالہ بہن اور ایک سات سالہ بھائی شامل ہیں۔حقوق انسانی کمیشن کا اس پر اظہار افسوس بجا ہے ، شہر کے مانیٹرنگ سسٹم پر سوال اٹھانا غلط نہیں ہے۔اس کے مطابق ’یہ واقعی بہت پریشان کن ہے کہ فوجداری قوانین میں متعدد ترامیم اور حکام کی جانب سے تیزاب یاکیمیکل کی فروخت پر پابندی لگانے کیلئے اٹھائے گئے مختلف اقدامات کے باوجود ، حملہ آور آسانی سے تیزاب حاصل کر رہے ہیں چاہے وہ آف لائن کے ذریعے ہو یا آن لائن، ایسا لگتا ہے کہ زمینی سطح پر کچھ زیادہ نہیں بدلا ہے۔ یہ واقعہ صریح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ انتظامیہ کے پاس تیزاب یا مختلف اقسام کے تیزاب کی فروخت کو کنٹرول کرنے کیلئے کوئی باقاعدہ نگرانی کا نظام موجود نہیں ہے۔اس میں شک نہیں کہ ایسا نظام بننا چاہئے کہ عام انسان تیزاب جیسا کیمیکل آسانی سے حاصل نہ کرسکے۔اب اس میں کمپنی کا کیا قصور کہ اسے نوٹس جاری کیا جائے ۔یہ ٹھیک ویسا ہی ہے کہ کوئی ایک بلیڈ خریدے اور اس سے اپنی کوئی رگ کاٹ کر خود کشی کرلے ،بعد میں بلیڈ تیار کرنے والی کمپنی کے خلاف نوٹس جاری کردی جائے؟یہ بھی دھیان میں رہنا چاہئے کہ دہلی پولس دہلی حکومت کے ماتحت نہیں ہے بلکہ وہ مرکز کے ماتحت کام کر تی ہے ۔ دہلی کے چیف سیکریٹری یا فلپ کارڈ کمپنی کے بجائے ،اس میں سیدھے طور سے قانونی نظم نسق کو دیکھنے والے ادارے یعنی پولس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کتنا چاق و چوبند رہتی ہے اور جرم کو روکنے میں یا اس کا خوف بٹھانے میں اپنا ہم رول کیسے ادا کرتی ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ ملزم نے جرائم کا ویڈیو دیکھ کر اس جرم کو انجام دیاہے ،اس لئے یہ واضح ہوجاتاہے کہ برائی کی جڑ وہاں ہے جہاں شاید این ایچ آر سی کی نگاہ نہیں پہنچ پارہی ہے! ۔ہمارے سماج میں جرم اور برائیوں کے پھیلنے کی بڑی وجوہات میںسے ایک انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن کا استعمال ہے جس نے سماج و معاشر ے کی تہذیب کو ختم کرکے رکھ دیا ہے بلکہ آداب و سلیقہ چھین بھی لیاہے وہیںجرائم اور فحاشی کو جنم دیاہے ۔اگر نوجوانوں کو انٹرنیٹ کی پہنچ سے روک لیا جائے تو برائیاں اور جرم خود بخود پھیلنے سے رک جائیں گی ۔کیا قومی حقوق انسانی کمیشن اس سمت میں کچھ غور خوض کرے گا یا کچھ سوچے گا؟












