جالے، محمد رفیع ساگر: مقامی بلاک کے دوگھرا کے کنیا مکتب کے احاطے میں علماء و حفاظ کرام کے اعزاز میں ایک خصوصی نشست کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں معزز علمائے کرام اور دانشورانِ ملت نے شرکت کی۔ اس نشست کی صدارت مولانا محمد نسیم سالک قاسمی نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا ارشد فیضی قاسمی، ڈائریکٹر اسلامک مشن اسکول جالے نے انجام دیے۔نشست سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اسرار احمد شگفتہ، سابق پرنسپل مدرسہ قاسم العلوم حسینیہ دوگھرا، نے کہا کہ حفاظِ کرام کو عربی زبان اور دینی علوم کی مکمل تعلیم حاصل کرنی چاہیے تاکہ وہ قرآن کے اصل مفاہیم کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ کچھ مخصوص گروہ قرآن کی علوم کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ایک گہری سازش ہے۔مولانا وصی احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید کی صحیح تفہیم اور اس کے پیغام کو عام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حفاظِ کرام عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی علوم میں بھی مہارت حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ حافظ قرآن صرف قرآن یاد کرنے والا نہ ہو، بلکہ وہ ایک باعمل مسلمان اور معاشرے کے لیے ایک رہنما بھی ہونا چاہیے۔صدر مجلس مولانا محمد نسیم سالک قاسمی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ دینی و عصری علوم کے امتزاج سے ہی ایک متوازن اور کامیاب سماج تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حفاظِ کرام کی خدمات کسی بھی معاشرے کے لیے باعثِ افتخار ہیں اور انہیں مزید علمی و فکری ترقی کی راہ پر گامزن ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مدارس اور عصری اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا وقت کی ضرورت ہے تاکہ نسلِ نو کو متوازن اور کارآمد تعلیم فراہم کی جا سکے۔اس نشست میں مولانا نعیم الدین، ماسٹر مفید عالم، سابق مکھیا سرفراز احمد، ماسٹر ممتاز عنبر، ابو طالب، ظہیر احمد عرف ڈاکٹر جوہی، مرزا جہانگیر بیگ، حافظ حفظ الرحمن، مولانا آفتاب عالم، انجینئر حماد صدیقی، مولانا یونس قاسمی اور مختار انصاری نے بھی خطاب کیا اور دینی و تعلیمی بیداری کی ضرورت پر زور دیا۔پروگرام کے دوران علماء کرام نے اس تاریخی نشست کے انعقاد پر صدرِ اجلاس مولانا محمد نسیم سالک قاسمی کی بھرپور ستائش کی اور ان کی علمی و اصلاحی خدمات کو سراہا۔ مقررین نے کہا کہ اس طرح کے پروگرام نہ صرف علماء اور حفاظ کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوتے ہیں بلکہ ملت کے نوجوانوں میں دینی شعور اجاگر کرنے کا بھی بہترین ذریعہ ہیں۔اس موقع پر 16 حفاظ کرام کو اعزازی شیلڈ اور تحائف سے نوازا گیا، جس سے ان کے والدین اور اساتذہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔پروگرام میں نعتیہ کلام پیش کرکے مذکر کمال نے روحانی ماحول پیدا کر دیا، جس سے حاضرین کافی متاثر ہوئے۔اس موقع پر مولانا نسیم سالک قاسمی کے والد محترم حاجی ابوالکلام اور بھائی جسیم احمد کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔پروگرام میں سابق سرپنچ ذوالفقار احمد، اصغر علی نیتا ، ماسٹر شمس الضحی جوہی ،مولانا فیض الرحمن، حافظ اختر، مولانا مطیع الرحمن ،مولانا بہاء الدین، ڈاکٹر بدرالدجی بدر، ماسٹر علاء الدین، ظفر عالم عرف چھوٹے بھی شریک تھے، جنہوں نے نشست کے انعقاد کو سراہتے ہوئے اسے ملت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔یہ نشست دینی و تعلیمی بیداری کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی، جس میں علمائے کرام نے قوم کے نونہالوں کے لیے رہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔











