غزہ:ایک با خبر اسرائیلی ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ حماس کو غیر مسلح کیے جانے کی آمادگی کے بغیر اسرائیل فائر بندی معاہدے کی پاسداری نہیں کرے گا۔
ریعے نے مزید بتایا کہ اسرائیلی حکام غزہ کے مستقبل ، حماس سے ہتھیار لینے اور اس کا اختیار ختم کرنے پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بات اسرائیلی ٹی وی ‘چینل 12’ نے بتائی۔
اسی طرح یہ بات بھی باور کرائی گئی ہے کہ اسرائیل قیدیوں کی رہائی کے معاملے میں سخت موقف اپنائے گا۔ اسرائیل فائر بندی جاری رکھنے کے لیے تیار ہے بشرطے کہ بقیہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے ایک مخصوص مدت کے دوران میں بات چیت کی جائے جو غزہ میں ابھی تک یرغمال ہیں۔
ذریعے نے زور دیا ہے کہ تل ابیب زندہ یرغمالیوں کی رہائی پر مذاکرات کے بغیر غزہ میں امداد داخل نہ ہونے دینے پر قائم ہے۔مزید یہ کہ اسرائیل کو اس موقف میں امریکا کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو روز قبل اعلان کیا تھا کہ فائر بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا معاملہ اسرائیل پر چھوڑ دیا گیا ہے اور واشنگٹن اسرائیل کے موقف کو سپورٹ کرتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدے کا پہلا مرحلہ کل بروز ہفتہ اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ دوسری جانب قاہرہ میں بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔
یاد رہے کہ معاہدے کے پہلے مرحلے میں مجموعی طور پر 33 اسرائیلیوں کی رہائی مذکور ہے جس کے مقابل تقریبا ایک ہزار فسلطینیوں کو آزاد کیا جانا ہے۔ اس کے علاوہ غزہ کے بعض علاقوں سے اسرائیلی فوج کا انخلا اور امداد کی ترسیل بھی شامل ہے۔
اس وقت 58 کے قریب اسرائیلی غزہ میں بطور قیدی موجود ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ان میں 35 سے زیادہ مارے جا چکے ہیں۔
حماس تنظیم نے غزہ میں فائر بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کر دیا جس کے بعد اسرائیل، قطر اور امریکا کے نمائندوں نے قاہرہ میں تفصیلی بات چیت کا آغاز کر دیا ہے۔
اس سلسلے میں مصری کمیٹی نے جمعرات کے روز ایک بیان میں بتایا کہ متعلقہ فریقوں نے فائر بندی معاہدے کے اگلے مراحل کے حوالے سے تفصیلی بات چیت شروع کر دی ہے۔ اس دوران میں کوشش کی جا رہی ہے کہ متفقہ مفاہمتوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
تین مراحل پر مشتمل جنگ بندی معاہدے کا پہلا مرحلہ یکم مارچ بروز ہفتہ اختتام پذیر ہو گا۔معاہدے میں جنگ بندی کے پہلے 42 روز میں حماس کی جانب سے 33 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی مذکورہ ہے جس کے مقابل سیکڑوں فلسطینی اسیروں کو آزاد کیا جانا مقرر تھا۔ فریقین کے بیچ تبادلے کا یہ سلسلہ دوسرے مرحلے میں مکمل ہو گا۔ اس کے ساتھ غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوج کا انخلا بھی عمل میں آئے گا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے نے زور دیا ہے کہ غزہ کی پٹی یا مغربی کنارے میں حماس کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں ایک صحافی کی جانب سے غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے سے متعلق سوال کے جواب میں حماس کو "شرپسندوں کا گروپ” قرار دیا تھا۔












