
سہرسہ(سالک کوثر امام) سہرسہ نگر پریشد سے نگر نگم میں تبدیلی کے باوجود صفائی کارکنوں کے مسائل جوں کے توں ہیں۔ اپنے حقوق کے لیے لڑنے والے صفائی کارکنان بار بار ہڑتال کرنے پر مجبور ہیں لیکن آج تک ان کے مطالبات پر کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔ اسی تناظر میں صفائی ملازمین ایک بار پھر 28 فروری سے ہڑتال پر ہیں لیکن انتظامیہ نے ابھی تک ان کا خیال نہیں رکھا۔ قابل ذکر ہے کہ نگر نگم کے قیام کے بعد صفائی ملازمین تنخواہوں میں اضافے اور مستقل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مسلسل چوتھی بار ہڑتال پر ہیں۔ صفائی کے کارکن امر کمار نے بتایا کہ یہ تحریک 29 فروری 2024 سے شروع ہوئی تھی، جس کے بعد 3 مارچ 2024 کو انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا۔ اس وقت کے میونسپل کمشنر ممکشو چودھری نے ان کے مطالبات پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن اس کے باوجود مسائل حل نہیں ہوئے تھے۔اس کے بعد 25 جون 2024 کو صفائی ملازمین نے دوبارہ احتجاج کیا جو 29 جون کو ختم ہوا۔ اس دوران جھاڑو دینے والوں نے بقایا تنخواہوں کی ادائیگی سمیت دیگر مطالبات اٹھائے لیکن صرف چار ماہ کی تنخواہیں ادا کی گئیں جبکہ 96 جھاڑو دینے والوں کی تنخواہیں تاحال التوا کا شکار ہیں۔ ایسا کرنے پر مجبور ہو کر صفائی کے کارکنوں نے 20 نومبر 2024 کو تیسری بار تحریک شروع کی۔ 25 نومبر کو ہونے والے معاہدے میں انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ انہیں کسی ایجنسی کے تحت نہیں رکھا جائے گا۔صفائی ملازمین ایک بار پھر 28 فروری 2025 سے ہڑتال پر ہیں۔ ہڑتال کا آج پانچواں دن ہے لیکن میونسپل کارپوریشن انتظامیہ ان کے مطالبات کے حوالے سے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ صفائی ملازمین نے میونسپل کمشنر اور میئر کے خلاف نعرے بازی کی اور خبردار کیا کہ اگر 48 گھنٹوں میں ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ پرتشدد احتجاج کریں گے۔ صفائی ملازم سنگھ کے ضلع صدر کپل ملک نے کہا کہ وہ 9 نکاتی مطالبات کے خلاف مسلسل احتجاج کر رہے ہیں لیکن ہر بار جھوٹی یقین دہانی کر کے تحریک ختم کر دی جاتی ہے۔ اس بار صفائی کے کارکنان ہمہ جہت لڑائی کے موڈ میں ہیں اور جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے احتجاج جاری رہے گا۔266 صفائی ملازمین کی ہڑتال کی وجہ سے میونسپل کارپوریشن کے 46 وارڈوں میں گندگی جمع ہوگئی ہے۔ جگہ جگہ کچرا پھیلا ہوا ہے جس سے وارڈ کے مکینوں کا جینا مشکل ہو گیا ہے۔ گندگی اور کچرے کی وجہ سے انفیکشن پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔میونسپل کارپوریشن کے میئر بین پریا نے صفائی ملازمین کے مطالبات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مستقل کرنے کا معاملہ میونسپل بورڈ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا ہے، بلکہ یہ صرف محکمانہ سطح پر ہی ممکن ہے۔ دیگر مطالبات پر کوئی فیصلہ بورڈ میٹنگ کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔ انہوں نے صفائی ملازمین پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ 8 گھنٹے کے بجائے صرف 1-2 گھنٹے صفائی کرتے ہیں، لیکن تنخواہ پورے مہینے کی چاہتے ہیں۔ ادھر میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی میئر گڈو حیات نے بھی کہا کہ کارپوریشن بورڈ کے اجلاس کے بعد صفائی ملازمین کے مطالبات پر غور کیا جائے گا۔ صفائی ملازمین کے مسائل جلد حل نہ ہوئے تو اس شہر کو جہنم بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔











