
بھاگل پور (پریس ریلیز)انجمن باغ و بہار،برہ پورہ،بھاگل پور اکیسوی صدی کے مشہور و معروف شاعر پروفیسرراشد طراز ؔکے انتقال پر ڈاکٹر محمد پرویز نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چند روز قبل اردو افسانوی دنیا کا ایک معتبر نام پروفیسر قمر جہاں کے انتقال کو اردوادبی دنیا بھول بھی نہیںپائی تھی کہ اردو شاعری کا ایک اور روشن ستارہ پروفیسر راشد طراز ؔادبی دنیا کوکل آخری سلام کہہ کر ڈوب گیا لیکن انکی یادیں ،باتیں اور ادبی کارنامے سالوں سال تک زندہ رہے گی۔ دور جدید میں راشد طراز اپنے طرزکے منفرد شاعرو ادیب تھے۔ انکی غزلوں میںصحت مند زبان کے ساتھ تغزل کا رچائو پایا جاتا ہے۔افکار و خیالات کا تنوع اوراچھوتا پن انکی شاعری کی خصوصیت رہی ہے۔ انکی غزلیں تو رسالوںمیں نظر سے گذری تھیں مگر ان سے میں پہلی بار تنظیم کارواں ،مونگیر کے زیر اہتمام دور جدید کے نامور افسانہ نگار پروفیسر اقبال حسن آزاد کی صدارت میںمشاعرہ کا انعقاد کیا گیا تھا جہاںمیں ان سے ملاتھا،مشاعرہ ختم ہونے پرکھانا محمد ارشد پرویز جو تنظیم کارواں،شجاول پور ،مونگیر کے جنرل سکریٹری ہیں کے گھر پر ہوا تھا۔میں نے دیکھا اس وقت انہیں سانس لینے میںکچھ پریشانی ہورہی تھی میںنے ان سے کہا سر آپکو سیڑھی چڑھنے میں پریشانی ہوگی ،نیچے ہی انتظام کرتا ہوں ،میں نے اور راشد طراز صاحب نے ایک ہی ٹیبل پر کھانا کھایا ،درمیان میں بہت ساری ادبی گفتگو بھی ہوئی۔وہ بیک وقت غزل گو، نظم نگار،رْباعی گو،تنقیدنگار،خودنوشت نگار، مدیر اور ایک بہترین استاد تھے ۔ وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے۔شاعر جوثر ایاغ صاحب سے انکے بہت اچھے مراسم تھے۔انکی پیدائش 28نومبر 1958ء کو سوریہ گڑھا،مونگیر میں ہوئی اور وفات 04مارچ 2025ء کو مونگیر میں۔ انکا اصل نام سید راشد احمد اور قلمی نام راشد طراز۔والد کا نام سید محمد عبدالحق ،والدہ کا نام نجمہ خاتون، اہلیہ کا نام سلطانہ خاتون۔ انہوں نے مگدھ یونیور سٹی سے اردو میں ایم۔اے کیا، پروفیسر قمر جہاں کی نگرانی میں انہوں نے پی۔ایچ۔ڈی کیا، انکی تحقیقی مقالہ کا عنوان "قرۃ العین حیدر کے افسانوں میں تہذیبی شعور ۔ ڈی۔ایچ ۔کالج مونگیر کے شعبہ اردو سے وابستہ ہوئے اور 2013ء میں شعبہ صدر اردو ،مونگیر یونیورسٹی سے سبکدوش ہوئے۔1975ء سے انہوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمان ادب پر چھا گئے۔ انہوں نے رسالہ” آغاز” نکالا۔انہیں کئی ایوارڈ بھی ملے۔ انکی تصانیف میں کاشہ شب،گردش ناتمام،صبح ازل،ستارہ شکستہ،غبار آشنا،جہاں تک روشنی ہوگی،سرگراں،جب فاصلے مختصر ہوئے وغیرہ ہیں۔انکے انتقال پر اظہار تعزیت کرنے والوں میں محمد شاداب عالم،جوثر ایاغ،محمد ارشد پرویز،اقبال احمد اقبال،ڈاکٹر ارشد رٖضا ،ڈاکٹر محمد صدیق،شہزور اختر، ڈاکٹر سید نیر حسن،ڈاکٹر حبیب مرشد خاں، ڈاکٹر اختر اعظم،پروفیسر شاہد جمال رزمی (شعبہ صدر اردو ،مونگیر یونیور سٹی)،سید شبیر احمد جعفری، اے ۔پروفیسر محمد عتیق الرحمن،منظر شفق،صبیحہ کوثر، ڈاکٹر نغمہ بیگم،ڈاکٹر خالدہ ناز، ڈاکٹر سیدہ تفسیر فاطمہ ،محمد امان اللہ خان عرف بوبی،محمد جبرئل،،ڈاکٹر صبیحہ شمیم،،محمد کاظم اشرفی،محمد تاج الدین، مظہر مجاہدی، قمر تاباں،محمد فاروق رضا،محمد اکرم فہمد، محمد اسفندیار ،محمد شارق،محمد آصف انور،محمد خالد حسین،محمد شاہد حسین،ڈاکٹر عمارہ خاتون،بی۔ذکریٰ خاتون،محمد نصر عالم،ایڈوکیٹ صفی الرحمن،ٖڈاکٹر احسان عالم،ڈاکٹر عشرت بیتاب،امان ذخیروی،محمد فیروز اختر،بشریٰ سحر، محمد فاروق اعظم،محمد امان اللہ خان بو بی،محمد شہنواز،،محمد عامر پرویز،ڈاکٹر امتہ الحی زیبی،امان ذخیروی،محمد سہیم الدین،محمد فہیم الدین،،محمد اشعر عالم،محمد دائود عالم،محمد فیض رحمان،محمد معصوم رٖضا عادل،محمد ہارون رشید،نمیر اشرفی،محمد اقدم صدیقی،قمر امان،شیر علی بسمل،انیس نظمی،حافظ مکرم شاہین، ،محمد اشعر عالم،وغیرہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائیں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین۔











