
بھاگلپور(قمر امان) معروف ماہرِ امراضِ استخواں،ڈاکٹر امتیاز الرحمٰن،اور ان کی شریک حیات،ماہرِ طب،ڈاکٹر عمرانہ رحمٰن کے جگر گوشہ،ذھیب رحمٰن،یکم رمضان المبارک کی صبح صادق داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔اس دلخراش سانحے نے نہ صرف ان کے والدین بلکہ پورے علاقے میں غم کی لہر دوڑا دی۔ جس کسی کو بھی اس خبر کی اطلاع ملی،اس کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں،دل غم سے بوجھل ہوگیا،اور ہر حساس دل رکھنے والا شخص اس دکھ میں برابر کا شریک ہو گیا۔غم کے اس اندوہناک لمحے میں لوگ تسلی دینے کے لیے ڈاکٹر امتیاز الرحمٰن اور ڈاکٹر عمرانہ رحمٰن سے ملنے پہنچ رہے ہیں،مگر وہ بھی جانتے ہیں کہ ایسے دکھ میں الفاظ تسلی دینے سے زیادہ بوجھ بڑھا دیتے ہیں۔ایک والد کے لیے اپنے بیٹے کی قبر پر کھڑے ہو کر دعا مانگنا کتنا مشکل ہوتا ہے، اس کا اندازہ تب ہوا جب ڈاکٹر امتیاز الرحمٰن فاتحہ خوانی کے لیے بیٹے کی آخری آرام گاہ پر پہنچے۔ پرانی یادیں تازہ ہو گئیں،ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے،اور نم آنکھوں سے لبوں پر یہ دردناک الفاظ آئے:”جس نے یہ اولاد دی،اسی نے واپس لے لی۔بیٹا،ہم بہت دکھی ہیں تم سے بچھڑ کر!” یہ الفاظ وہاں موجود ہر شخص کے دل کو چیر گئے۔ایک بار پھر ماحول سوگوار ہوگیا،ہر آنکھ اشکبار ہوگئی،اور ہر دل افسردہ ہوگیا۔ ذھیب رحمٰن صرف 13 سال کا ننھا سا چراغ تھا جو اپنی روشنی سے اپنے والدین اور گھر کو منور کر رہا تھا۔وہ چھٹی جماعت سے ساتویں جماعت میں قدم رکھ چکا تھا،اور اس عمر میں والدین اپنے بچوں سے بے حد قریب ہو جاتے ہیں۔وہ ان کے لیے خواب بُنتے ہیں،ان کے بہتر مستقبل کے لیے امیدیں رکھتے ہیں، اور ہر پل ان کے روشن کل کا تصور کرتے ہیں۔شاید ڈاکٹر امتیاز الرحمٰن اور ڈاکٹر عمرانہ رحمٰن نے بھی اپنے بیٹے کے لیے بہت سے خواب دیکھے ہوں گے،لیکن تقدیر نے ایک اور ہی فیصلہ کر رکھا تھا۔یہ وقت ذھیب کے معصوم خوابوں کے پنپنے کا تھا، ماں باپ کی دعاؤں کی تکمیل کا تھا،مگر وہ ایک جماعت سے دوسری جماعت میں جانے کے بجائے ایک اور ہی منزل کی طرف روانہ ہوگیا۔وہ منزل جو دنیا سے کہیں زیادہ ابدی ہے،جو ہمیشہ کے لیے سکون کا وعدہ کرتی ہے۔ڈاکٹر امتیاز الرحمٰن اور ڈاکٹر عمرانہ رحمٰن اپنے شعبے کے بہترین معالجین میں شمار ہوتے ہیں۔انہوں نے ہزاروں مریضوں کا کامیاب علاج کیا،بے شمار زندگیاں بچائیں،لیکن جب اپنے ہی بیٹے کی بیماری کا سامنا ہوا تو ساری مہارت،ساری دوائیں،سب کچھ بے اثر ثابت ہوا۔بھاگلپور کے بہترین ماہرینِ طب نے اپنی تمام تر کوششیں کیں،لیکن وہ بھی قسمت کا لکھا نہیں بدل سکے۔ڈاکٹر امتیاز الرحمٰن کا کہنا ہے کہ اگر طبی ماہرین انفرادی حیثیت میں کام کرنے کے بجائے اجتماعی طور پر ایک منظم ٹیم کی صورت میں علاج معالجہ کریں،تو بہت سی بیماریوں کا بہتر حل نکالا جا سکتا ہے۔وہ جنوبی ہند کی مثال دیتے ہیں،جہاں میڈیکل ماہرین کی اجتماعی کوششوں نے کئی پیچیدہ بیماریوں کا کامیاب علاج ممکن بنایا ہے۔لیکن یہاں،بھاگلپور میں،ہر کوئی اپنی الگ راہ پر چل رہا ہے، اور نتیجتاً کئی قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ذھیب رحمٰن کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد سے ڈاکٹر امتیاز الرحمٰن اور ڈاکٹر عمرانہ رحمٰن غم کے سمندر میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ایک والد کے لیے اپنے بڑھتے ہوئے بیٹے کو یوں کھو دینا سب سے بڑا صدمہ ہوتا ہے،اور ایک ماں کے لیے اپنے جگر کے ٹکڑے کو کھو دینا ناقابلِ برداشت۔آج بھی جب وہ اپنے بیٹے کا ذکر کرتے ہیں،ان کی زبان رک جاتی ہے،الفاظ بے جان ہو جاتے ہیں،اور آنکھیں بے اختیار چھلک اٹھتی ہیں۔یہ دونوں عظیم معالج معاشرے کے لیے قیمتی سرمایہ ہیں۔ اگر وہ اسی طرح غم اور صدمے میں مبتلا رہے تو یہ نہ صرف ان کے لیے،بلکہ پورے سماج کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ہم سب دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صبرِ جمیل عطا فرمائے، اور ان کے جگر گوشے کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین!











