
جالے، محمد رفیع ساگر : مقامی تھانہ حلقہ کے کھیسر اور چندونا کے درمیان ریلوے ٹریک سے 17 فروری کو ملی چچا-بھتیجے کی برہنہ لاشوں کے معاملے میں پولیس نے 20 دن بعد انکشاف کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ سٹی ایس پی اشوک کمار نے جالے تھانہ احاطہ میں منعقد پریس کانفرنس میں بتایا کہ جالے پولیس نے کارروائی کے دوران چندونا موڑ کے قریب ایک بائک پر سوار دو مشتبہ افراد کو حراست میں لیا۔ پوچھ گچھ کے دوران معلوم ہوا کہ یہ دونوں شاطر بدمعاش ہیں اور چچا-بھتیجے کے قتل میں ملوث ہیں۔ قتل لوٹ پاٹ کے دوران مزاحمت کے سبب کیا گیا تھا اور لاشوں کو حادثے کا رنگ دینے کے لیے ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا۔پولیس کے مطابق، گرفتار ملزمان کی شناخت بسنت پور، باجپٹی تھانہ، ضلع سیتامڑھی کے 25 سالہ ابھیشیک کمار سنگھ عرف آیوش عرف آشو ولد سروج سنگھ اور محمد پور، باجپٹی تھانہ ،ضلع سیتامڑھی کے 25 سالہ سنیل کمار ولد ناگیندر مکھیا کے طور پر ہوئی ہے۔ ملزمان کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والی ایک بائک، دو موبائل فون اور جلا ہوا بیلٹ بکل برآمد کیا گیا ہے۔غور طلب ہو کہ مقتولین کی شناخت پوپری سب ڈویژن کے گنگٹی گاؤں کے رہنے والے 26 سالہ چاند بابو نداف اور 19 سالہ ابران نداف کے طور پر ہوئی تھی۔ دونوں 16 فروری کی رات تقریباً 9 بجے موٹر سائیکل سے مداری پور کے لیے نکلے تھے، جہاں چاند بابو نداف کا سسرال ہے۔ رات دیر تک واپس نہ آنے پر اہل خانہ نے ان کے موبائل پر رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ رات 10:30 بجے ابران نداف نے اپنے والد کو فون کر کے گھر واپس آنے کی اطلاع دی، مگر وہ گھر نہیں پہنچا تھا۔اگلی صبح گاؤں کے ایک آٹو ڈرائیور نے اطلاع دی کہ کھیسر اور چندونا کے درمیان ریلوے ٹریک پر دو لاشیں پڑی ہوئی ہیں۔ پولیس اور مقامی لوگوں نے دیکھا کہ دونوں کی لاشیں برہنہ تھیں اور جسم پر زخموں کے نشانات تھے۔ ابتدائی تفتیش میں اندازہ ہوا کہ قتل کے بعد لاشوں کو ٹریک پر پھینکا گیا تھا تاکہ اسے حادثہ ظاہر کیا جا سکے۔ریلوے ٹریک سے لاشیں ملنے کے بعد دربھنگہ ایس ایس پی جگو ناتھ ریڈی جلا ریڈی نے معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے سٹی ایس پی اشوک کمار کی قیادت میں ایک خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی، جس میں صدر سرکل 2 کی ایس ڈی پی او جیوتی کماری، کمتول انسپکٹر اور جالے تھانہ انچارج سندیپ کمار پال شامل تھے۔ پولیس نے موبائل لوکیشن اور کال ڈیٹیلز کی مدد سے ملزمان تک رسائی حاصل کی اور 20 دن کی تفتیش کے بعد گرفتاری عمل میں آئی۔گرفتار ابھیشیک کمار سنگھ کا مجرمانہ رکارڈس رہا ہے۔وہ لوٹ پاٹ اور ڈکیٹی کے معاملے میں سیتامڑھی، بتھناہا، بیرگنیا، باجپٹی اور پوپری تھانہ میں نامزد رہا ہے۔پولیس کی جانب سے دو ملزمان کی گرفتاری اور قتل کے خلاصے کے باوجود مقتولین کے اہل خانہ اور مقامی لوگ پوری طرح مطمئن نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ پولیس نے معاملے کی پرتیں کھولنے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن کئی سوالات کے جوابات اب بھی نہیں ملے۔ کیا واقعی قتل لوٹ پاٹ کے دوران مزاحمت میں ہوا یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ تھی؟ مقتولین کے کپڑے اور دیگر سامان کہاں گئے؟ کیا گرفتار شدہ ملزمان ہی اصل مجرم ہیں یا مزید لوگ بھی شامل ہیں؟پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے اور جلد ہی تمام حقائق کو واضح کیا جائے گا۔ تاہم، 20 دن گزرنے کے باوجود کیس کے کئی پہلو ابھی بھی سامنے نہیں آ سکے، جس سے عوام میں بے چینی برقرار ہے۔











