• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
بدھ, مارچ 4, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

سال 2022 صحافیوں کے لیے بدترین سال ثابت ہوا:سہیل انجم

Hamara Samaj by Hamara Samaj
دسمبر 19, 2022
0 0
A A
سال 2022 صحافیوں کے لیے بدترین سال ثابت ہوا:سہیل انجم
Share on FacebookShare on Twitter

سہیل انجم
گزرنے والا سال یعنی 2022 دنیا بھر میں صحافیوں کے لیے بدترین سال ثابت ہوا۔ امسال کل 363 صحافیوں کو جیل ہوئی جن میں سے بیشتر اب بھی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ امسال صحافیوں کی گرفتاریوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں بیس فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ رپورٹ صحافیوں کی عالمی تنظیم ”کمیٹی ٹو پروٹکٹ جرنلسٹس“ نے پیش کی ہے۔ اس نے عالمی سطح پر اس کا جائزہ لیا ہے کہ یکم جنوری 2022 سے یکم دسمبر 2022 تک صحافیوں کی کیا صور تحال رہی اور کتنے صحافیوں کو گرفتار کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے دیگر کئی ملکوں کے مانند ہندوستان میں بھی صحافیوں کے لیے یہ سال اچھا نہیں گزرا۔رپورٹ بتاتی ہے کہ صحافیوں کے ساتھ حکومت اور پولیس کے برتاؤ کے سلسلے میں ہندوستان پر بھی شدید تنقید ہوتی رہی ہے۔ خاص طور پر جموں و کشمیر میں صحافیوں پر انتہائی سخت قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے نفاذ کے سلسلے میں حکومت تنقیدوں کی زد میں رہی ہے۔ ہندوستان میں اس وقت سات صحافی سلاخوں کے پیچھے ہیں جن میں پانچ مسلمان ہیں اور ان میں سے چار کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ کشمیر کے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیے جانے والوں کو دو سال تک بغیر مقدمہ چلائے جیل میں رکھا جا سکتا ہے۔رپورٹ کا کہنا ہے کہ جن چار کشمیری صحافیوں کو جیل میں ڈالا گیا ہے وہ ہیں آصف سلطان، فہد شاہ، سجاد گل اور منان ڈار۔ جبکہ صدیق کپن، گوتم نولکھا اور روپیش کمار بھی جیل میں بند ہیں۔ صدیق کپن کیرالہ کے صحافی ہیں۔ انھیں پانچ اگست 2020 کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ ہاتھرس میں ایک دلت خاتون کی اجتماعی عصمت دری اور قتل کے واقعہ کی کوریج کے لیے جا رہے تھے۔ وہ ابھی دہلی سے متھرا ہی پہنچے تھے کہ انھیں گرفتار کر لیا گیا۔ ان پر پاپولر فرنٹ آف انڈیا سے تعلق اور دہشت گردی کے لیے فنڈنگ کا الزام ہے۔ بعد میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر حکومت نے پانچ سال کے لیے پابندی لگا دی۔
روپیش کمار ایک آزاد صحافی ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ ماؤ نوازوں کے لیے فنڈ اکٹھا کرتے تھے۔ ان کو جولائی میں جھارکھنڈ کی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ وہ سات برسوں سے آدیواسیوں کے خلاف ہونے والے مبینہ سرکاری مظالم کی رپورٹنگ کر رہے تھے۔ پیگاسس جاسوسی معاملے میں جن صحافیوں کے فون نمبر لیک ہوئے تھے ان میں ان کا بھی فون نمبر تھا۔ گوتم نولکھا ایک صحافی اور سماجی کارکن ہیں۔ وہ ان سولہ افراد میں شامل ہیں جن پر 2018 میں پونے کے نزدیک بھیما کورے گاؤں میں تشدد برپا کرنے کا الزام ہے۔وہ 2020 سے ہی جیل میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں بار بار انسانی اور بنیادی سہولتوں سے محروم کیا گیا۔ ان کی بینائی کمزور ہے۔ جیل میں ان کا چشمہ گم ہو گیا تھا۔ ان کی اہلیہ نے ان کو چشمہ بھیجا لیکن انھیں چشمہ لینے کی اجازت نہیں ملی جس پر انھیں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا تھا۔ سپریم کورٹ نے انھیں جیل سے نکال کر گھر میں نظربند کر دیا ہے۔ لیکن سی بی آئی ان کی نظربندی کی مخالفت کر رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ انھیں دوبارہ جیل میں ڈالا جائے۔ ان پر بھی صدیق کپن کے مانند یو اے پی اے لگا دیا گیا ہے۔ منان ڈار پر بھی یو اے پی اے لگایا گیا ہے۔دوسرے ملکوں میں بھی صحافیوں کی حالت بہتر نہیں ہے۔ انھیں حکومت کے مبینہ مظالم کے خلاف لکھنے کی وجہ سے گرفتار کیا جاتا ہے۔ ہندوستان میں تو اب حکومت پر تنقید کرنا بہت دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان صحافی حکومت کی پالیسیوں پر نکتہ چینی کرتا ہے تو اسے زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہندوستان میں الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ ایسے متعدد صحافی ہیں جنھیں ان کی حق گوئی کی وجہ سے ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ تازہ ترین واقعہ رویش کمار کا ہے۔
ایسے بیشتر صحافی اب سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں اور انھوں نے اپنے یو ٹیوب چینل بنا لیے ہیں جن پر وہ اپنی بات کہتے اور سیاسی و سماجی واقعات کی رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ایسے صحافیوں میں غیر مسلموں کی تعداد زیادہ ہے۔ تاہم ان کو کام کرنے کی آزادی ملی ہوئی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ جس طرح وہ لوگ حکومت پر سخت تنقید کرتے ہیں اگر کوئی مسلم صحافی کرے تو اسے دو دن کے اندر جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ تاہم یہی کیا کم ہے کہ غیر مسلم صحافیوں کو اپنے یو ٹیوب چینل سے اپنی بات کہنے کی آزادی حاصل ہے۔ حالانکہ حکومت کہتی ہے کہ وہ پریس کی آزادی کی حامی ہے اور وہ اس پر کسی بھی قسم کی پابندی لگانے کے حق میں نہیں ہے لیکن مبصرین کے مطابق عملی طور پر حقیقی صحافیوں کے لیے کام کرنا بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے۔سوشل میڈیا دراصل مین اسٹریم میڈیا کے ایک بڑے متبادل کے طور پر ابھرا ہے۔ جو باتیں مین اسٹریم میڈیا پر جسے رویش کمار نے گودی میڈیا نام دیا ہے، نہیں آپاتیں وہ سوشل میڈیا پر آتی ہیں اور جن سرکاری فیصلوں یا پالیسیوں پر مین اسٹیم میڈیا میں بحث نہیں ہوتی ان پر سوشل میڈیا میں بحث ہوتی ہے۔ اسی لیے حکومت سوشل میڈیا سے پریشان ہے۔ وہ سوشل میڈیا کی طاقت سے واقف ہے اس لیے وہ اس پر قدغن لگانے کی تیاری کر رہی ہے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ حکومت سوشل میڈیا کو قابو میں کرنے کے لیے قانون سازی کرنے جا رہی ہے۔بہرحال جن صحافیوں کو غیر جانبداری سے اپنا کام کرنا ہے وہ تو کریں گے ہی خواہ حکومت کتنا ہی سخت قانون کیوں نہ بنا ڈالے۔ حقیقی صحافی ہمیشہ رہے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ نہ تو قانون سازی انھیں اپنی با ت کہنے سے روک پائے گی اور نہ ہی وہ گرفتاریوں سے ڈرنے والے ہیں۔ یہ جرآت صرف ہندوستان کے صحافیوں میں نہیں ہے بلکہ دوسرے ملکوں کے صحافیوں میں بھی ہے۔ دوسرے ملکوں میں بھی ایسے جانے کتنے صحافی ہیں جو قید و بند سے خوف زدہ ہوئے بغیر اپنے فرض منصبی کی ادائیگی میں یقین رکھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنا فرض ادا کرتے رہیں گے خواہ حکومت کچھ بھی کر لے۔

Tags: 2022 yearjournalistsSohail Anjum
ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    مارچ 3, 2026
    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    مارچ 3, 2026
    ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی، پاکستانی کھلاڑیوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ

    ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی، پاکستانی کھلاڑیوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ

    مارچ 3, 2026
    ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کوالیفائر: حیدرآباد میں ٹکٹوں کی فروخت شروع

    ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کوالیفائر: حیدرآباد میں ٹکٹوں کی فروخت شروع

    مارچ 3, 2026
    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    مارچ 3, 2026
    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    مارچ 3, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist