
جالے، محمد رفیع ساگر : مقامی تھانہ حلقہ کے بھیروہا گاؤں میں 13 مارچ کی رات تقریباً 9 بجے ایک دل دہلا دینے والا قتل ہوا، جہاں گاؤں کے ہی آنجہانی شنیچر مکھیا کے بیٹے چھوٹو مکھیا (40 سال) کو پہلے بے رحمی سے پیٹ کر بے ہوش کر دیا گیا اور پھر پک اَپ وین سے تین بار روند کر قتل کر دیا گیا۔یہ واردات اس وقت پیش آئی جب چھوٹو مکھیا اپنی چائے ناشتہ کی دکان بند کر کے لگنما سے گھر واپس جا رہے تھے۔ اسی دوران گاؤں کے ہی شری چند مکھیا، رام ولاس مکھیا، ریوتی دیوی، ومل دیوی، مکیش کمار، سیتا دیوی، آرتی کماری، ڈھکن مکھیا اور اُتم مکھیا نے انہیں گھیر لیا اور لاٹھی ڈنڈوں سے شدید مارا پیٹا، جس سے وہ بے ہوش ہو گئے۔ایف آئی آر کے مطابق، اس کے بعد شری چند مکھیا نے اپنے دروازے سے اپنی پک اَپ وین نکالی اور چھوٹو مکھیا کو تین بار روند کر مار ڈالا۔ واردات کے بعد ملزم شری چند مکھیا اپنے خاندان کے تمام افراد کو پک اَپ وین میں بٹھا کر گاؤں سے فرار ہو گیا۔واردات کی اطلاع ملتے ہی جالے تھانہ کی پولیس دَل بَل کے ساتھ موقع پر پہنچی اور لاش کو اپنے قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے ڈی ایم سی ایچ بھیج دیا۔جالے تھانہ کی ایڈیشنل انچارج پرینکا کماری نے قتل کی ایف آئی آر درج کیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ہی تمام نامزد ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔











