مظفرپور،18 مارچ(نمائندہ) متنازعہ وقف ترمیمی بل کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی اپیل پر ملک کی تمام ملی جماعتوں نے متحدہ طور پر دہلی کے جنتر منتر پر منعقدہ احتجاجی دھرنے میں شرکت کی، جس میں مسلمانوں کے حقوق اور ملک کے آئین کی حفاظت کے لیے آواز بلند کی گئی۔ اس احتجاجی دھرنے میں مختلف سیاسی، سماجی، مذہبی جماعتوں اور مسلم تنظیموں کے رہنماؤں نے شرکت کی اور متنازعہ وقف ترمیمی بل کے خلاف اپنے احتجاج کا اظہار کیا۔قمر فاؤنڈیشن کے چیئرمین تابش قمر اور انصاف منچ مظفرپور کے خازن اعجاز احمد نے اس موقع پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ "ہ دھرنا نہ صرف ایک مظاہرہ تھا بلکہ مسلم قوم کی طاقت کا ایک مظہر تھا۔ یہ دھرنا ملک بھر میں مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ ملک کی تمام ملی جماعتوں کا اتحاد اس بات کا غماز ہے کہ ہم کسی بھی صورت میں اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے اور ہم آئین کے مطابق اپنے مذہبی، ثقافتی اور تعلیمی حقوق کا بھرپور دفاع کریں گے۔”انہوں نے مزید کہا کہ "وقف ترمیمی بل میں ایسی دفعات شامل کی گئی ہیں جو مسلمانوں کے دینی، مذہبی اور ثقافتی حقوق کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ان میں وہ تمام شقیں شامل ہیں جو مسلمانوں کے وقف املاک کی نگرانی اور ان کے انتظامی اختیارات پر غیر ضروری پابندیاں عائد کرتی ہیں۔ ایسے بل کی منظوری نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ پوری ملت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گی۔”تابش قمر نے کہا کہ اس احتجاج کے ذریعے ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم کسی بھی صورت میں اپنے دینی عقائد اور حقوق سے سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے جو آواز بلند کی ہے، ہم اس کی حمایت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ ہیں۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس بل کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔”دھرنے میں مختلف طبقوں کے نمائندوں نے خطاب کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کرے اور ایسے بل کی منظوری سے پہلے ان پر وسیع مشاورت کی جائے۔ دھرنے کے شرکاء نے عزم ظاہر کیا کہ اگر حکومت نے اس بل کو واپس نہ لیا تو وہ ملک بھر میں اس مسئلے پر مزید احتجاجی تحریکوں کا آغاز کریں گے۔اعجاز احمد نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ "ہمیں امید ہے کہ ہماری مشترکہ آواز حکومت تک پہنچے گی اور وہ مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرے گی۔ اس وقت ملک کی فضا میں جو بے چینی ہے، اس کا حل صرف اور صرف آپس میں اتحاد اور بات چیت سے ہی ممکن ہے۔”اس احتجاجی دھرنے میں مختلف ملی جماعتوں کے نمائندوں، مسلم تنظیموں اور سماجی رہنماؤں نے بھرپور شرکت کی اور اپنے احتجاج کا اظہار کیا۔ اس موقع پر مسلمان اپنے آئینی اور دینی حقوق کے تحفظ کے لیے یکجا ہوئے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف ترمیمی بل کو بلا تاخیر واپس لے۔











