
جالے،محمد رفیع ساگر : ضلع تعلیمی کمیٹی دربھنگہ کے رکن اور رکن ضلع پریشد دربھنگہ کے نمائندہ حبیب اللہ ہاشمی نے قاضی بہیڑا ہائی اسکول کا معائنہ کیا، جہاں انہیں معلوم ہوا کہ نویں جماعت کے طلبہ کے لیے سوال نامے کی دستیابی ہی نہیں ہوئی ہے، جس سے تعلیمی عمل بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔معائنہ کے دوران اسکول کے اساتذہ نے حبیب اللہ ہاشمی کو بتایا کہ نویں جماعت کے طلبہ امتحان کی تیاری کے لیے سوال نامے کے انتظار میں ہیں، مگر ابھی تک وہ فراہم نہیں کیے گئے ہیں۔ اس پر جب انہوں نے بلاک تعلیمی افسر سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ پہلی سے آٹھویں جماعت تک کے سوال نامے بلاک ریسورس سینٹر سے فراہم کیے جاتے ہیں، جبکہ نویں اور دسویں جماعت کے سوال نامے کی ذمہ داری ضلع تعلیمی دفتر کی ہے۔جبکہ ضلع تعلیمی دفتر سے رابطہ کرنے پر وہاں کے افسر نے یہ کہہ کر بات ٹال دی کہ وہ میٹنگ میں مصروف ہیں اور ایک گھنٹے بعد بات کریں گے۔ اس پر حبیب اللہ ہاشمی نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افسران کا رویہ انتہائی مایوس کن ہے، کیونکہ ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں کی جاتی، جس کی وجہ سے تعلیمی بدانتظامی کا یہ حال ہے۔حبیب اللہ ہاشمی نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال بھی انہوں نے اسکولوں کے معائنے کے دوران ایسی ہی کئی خامیوں کی نشاندہی کی تھی اور متعلقہ افسران کو آگاہ کیا تھا، لیکن کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ یہ معاملہ صرف ایک اسکول کا نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام کا ہے، جہاں افسران اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہیں اور طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ اگر وقت پر سوال نامے ہی نہیں پہنچیں گے تو اردو میڈیم کے طلبہ کا کیا ہوگا۔حبیب اللہ ہاشمی نے اعلان کیا کہ وہ اس پورے معاملے کو ریاستی وزیر تعلیم کے نوٹس میں لائیں گے اور مطالبہ کریں گے کہ ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنا کر اس معاملے کی مکمل جانچ کرائی جائے اور غفلت برتنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔حبیب اللہ ہاشمی نے مزید کہا کہ آنے والی 7 اپریل کو ہونے والی ضلع پریشد کی میٹنگ میں وہ اس معاملے کو پوری مضبوطی کے ساتھ اٹھائیں گے اور اس مسئلے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے علم دوست افراد اور سماجی کارکنان سے اپیل کی کہ وہ بھی اپنے گاؤں، محلوں اور علاقوں کے اسکولوں کا معائنہ کریں اور اگر کہیں بدانتظامی نظر آئے تو متعلقہ افسران کو فوری طور پر مطلع کریں۔حبیب اللہ ہاشمی نے کہا کہ اردو میڈیم کے اسکول پہلے ہی مسائل کا شکار ہیں، اگر ہم سب نے خاموشی اختیار کی تو آنے والی نسلوں کا بڑا نقصان ہوگا۔











