
مظفرپور،27 مارچ(اسلم رحمانی)آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے وقف ترمیمی بل کے خلاف پٹنہ کے گردنی باغ دھرنا استھل پر جو دھرنا دیا گیا، وہ ایک احتجاج نہیں، بلکہ ایک بیدار ملت کی گونجتی ہوئی للکار تھی،ایسی للکار جس نے ایوانِ اقتدار کے ستونوں میں لرزہ طاری کر دیا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، امارت شرعیہ اور بہار کی تمام دینی و ملی جماعتوں کی اپیل پر منعقد اس اجتماع میں ہزاروں مسلمانوں کی شرکت نے یہ واضح کر دیا کہ ملت اسلامیہ ہندیہ اب بیدار ہو چکی ہے، اور وقف کے تحفظ پر کسی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ ان خیالات کااظہار راشٹریہ جنتا دل کے متحرک و فعال جواں سال لیڈر و بہار قانون ساز کونسل کے رکن قاری صہیب نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ وقف پر شب خون ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا! یہ اللہ کی امانت ہے، ہماری شناخت ہے، اس پر کوئی سودے بازی نامنظور!” وقف محض جائیداد کا نام نہیں، بلکہ یہ قوم کے روحانی، تعلیمی، سماجی اور تاریخی ورثے کا ضامن ہے۔ مدارس، مساجد، خانقاہیں، یتیم خانے، قبرستان سب کچھ اسی وقف سے وابستہ ہے، اور اب حکومت اسی بنیاد پر کلہاڑا چلا رہی ہے۔ قاری صہیب نے کہا کہ دھرنے میں راجد سپریمو لالو یادو کی شرکت اور اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کی گرج دار للکار نے ایوانِ حکومت کو چیلنج کر دیا۔ تیجسوی یادو نہ یہ بل ایوان میں پاس ہونے دیں گے، نہ زمین پر نافذ ہونے دیں گے! ان کے اس اعلان نے نہ صرف بہار بلکہ پورے ملک کے مسلمانوں میں نئی جان پھونک دی۔ قاری صہیب نے تیجسوی کی حمایت کو ایک "فولادی دیوار” قرار دیتے ہوئے کہا کہ جیسے تین طلاق، سی اے اے، این آر سی جیسے مسائل پر وہ ملت کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہے، ویسے ہی وقف کے معاملے پر بھی وہ ہر مورچے پر صفِ اول میں موجود ہیں۔یہ دھرنا صرف احتجاجی مظاہرہ نہیں، بلکہ ایک مستقل تحریک کی بنیاد ہے۔ ایک ایسی تحریک جو دستور کے دائرے میں رہ کر، جمہوری اقدار کے سہارے، حکومت کو اس کالے قانون کو واپس لینے پر مجبور کرے گی۔ قاری صہیب نے کہا ہم اس تحریک کو رکنے نہیں دیں گے۔ اب قوم جاگ چکی ہے، اب ہر در، ہر دروازہ، ہر چوراہا صدائے احتجاج بن چکا ہے۔تیجسوی یادو کے انقلابی لہجے نے جہاں مسلمانوں کو یقین دلایا کہ وہ تنہا نہیں، وہیں حکومت کو بھی خبردار کر دیا کہ دستور کے محافظ اب صف بستہ ہو چکے ہیں۔ملت کا یہ احتجاج تاریخ کا وہ ورق ہے، جو دہائیوں تک مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ وقف کا تحفظ صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں، یہ ایمان، تہذیب اور تشخص کی جنگ ہے،اور یہ جنگ ملت جیت کر ہی دم لے گی۔قاری صہیب نے وقف ترمیمی بل کے خلاف دیے گئے دھرنا کو تاریخ ساز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بے مثال دھرنے کے لیے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، امارت شرعیہ اور علمائے کرام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ملک کی سالمیت کی حفاظت اور بقاء کےلئے فکر مند رہنے والے مقتدر علماء کرام نے نہ صرف بروقت قوم کو بیدار کیا بلکہ ایک متحدہ ملی مورچہ تشکیل دے کر پوری ملت کو ایک پرچم تلے جمع کر دیا۔ قاری صہیب نے ان اداروں کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اس وقت ملت کے وقار کی علامت بن چکا ہے۔ امارت شرعیہ نے جس حکمت و تدبر سے قیادت کا فریضہ انجام دیا ہے، وہ ناقابل فراموش ہے، اور ہمارے جید علمائے کرام جنہوں نے ہر مسلک، ہر مکتبِ فکر کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا، وہ ہمارے لیے سرمایہ افتخار ہیں۔قاری صہیب نے مزید کہا کہ یہ دینی قیادت ہی ہے جس نے قوم کے جذبات کو ایک متحرک طاقت میں تبدیل کیا، جس نے نوجوانوں، طلباء، دانشوروں اور عام مسلمانوں کو ایک صف میں لا کھڑا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے نازک وقت میں جب ملت کو قیادت، حکمت اور جرأت کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، وہاں بورڈ، امارت اور دور اندیش علما نے قوم کی صحیح رہنمائی کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی۔یہ دھرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ جب ملی قیادت جاگتی ہے، تو قوم بیدار ہوتی ہے، اور جب قوم بیدار ہوتی ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کے حقوق سلب نہیں کر سکتی۔ اب یہ کارواں علمائے کرام کی سرپرستی اور جمہوریت د دستور کے محافظ تیجسوی یادو کی مضبوط قیادت میں وقف ترمیمی بل کی واپسی تک اپنے سفر پر گامزن رہے گا۔











