ابو حذیفہ جامی ،
سرسید کالونی مظفر پور
ملک کی جن سات ریاستوں میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے،ان میں بہارنہ صرف شامل ہے ،بلکہ کئی اعتبار سے ممتاز بھی ہے ۔بہارسال 1980 میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ ملا تھا۔بہار میں اردو زبان اوراس سے وابستہ لوگوں کی حالت دیگر ریاستوں کے مقابلے بہت بہتر ہے۔بہار میں جہاں بڑی تعداد میں اردو اساتذہ کی بحالی ہوئی ،وہیں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی خاص دلچسپی سے اردو زبان کو روزگار سے جوڑکر اسے توانائی بخشنے کے لیے سرکاری دفاتر مثلا کلکٹریٹ، سب ڈویزن، بلاک آفس، سرکل اور مختلف شعبوں میں اردومترجمین اور معاون اردو مترجمین کی بحالی کی گئی ۔ اس سے قبل سال 2022میں اردو مترجمین مختلف سرکاری دفاتر میں بحالی کیے گئے ۔حال میں 715 معاون اردو مترجمین کی تقرری کی فہرست جاری کی گئی ہے جس میں251خواتین بھی شامل ہیںجن کا تقرر کلکٹریٹ، سب ڈویزن آفس، بلاک آفس، سرکل آفس میں کیا گیا ہے ۔ اس طرح سے ملک میں بہار کو یہ امتیاز حاصل ہے جہاں اتنی کثیر تعداد میں اردو سے وابستہ لوگوں کو ریاستی حکومت نے باقاعدہ سرکاری ملازمت دی ہے ۔اس طرح سے اردو کے فروغ اور اسے روزگار سے جوڑ کرمایوسی کا شکار ارودو داں طبقہ کو وزیر اعلیٰ نے ایک بڑا تحفہ دے کر یہ یقین دلادیا ہے کہ انصاف کے ساتھ ترقی کے سفر میں دیگر شعبوں کے طرح اردو بھی کسی اعتبار سے پیچھے نہیں ہے ۔
ریاست کی دوسری سرکاری زبان اردو کے فروغ اور اس کے صحیح نفاذاور ترویج کے لیے محکمہ کابینہ سیکریٹریٹ کے زیر انتظام باقاعدہ اردو ڈائریکٹوریٹ محکمہ کابینہ سیکریٹریٹ قائم ہے جو بہار میں اردو کے فروغ اور اس کی ترویج و اشاعت کے لیے ایک فعال ادارہ کے طور پر سرگرم عمل ہے ۔ اس کو مزید مضبوط بنانے کے لیے، ریاستی کابینہ نے 17.04.2018 کو منعقدہ اپنی میٹنگ میں اردو مترجم کیڈر کے مختلف زمروں کے لیے نئی اسامیاں تخلیق کرنے کی منظوری دی۔ تخلیق کی گئی نئی اسامیوں میں بنیادی زمرہ کے عہدے (براہ راست بحالی کی پوسٹیں) اور پروموشن پوسٹ ہیں۔
ان میں معاون اردو مترجم (بنیادی زمرہ) کی اسامیوں کی تنخواہ کی سطح 5 لیول ، اردو مترجم لیول6 (50% بنیادی زمرہ، 50% پروموشن)،سینئر اردو مترجم لیول 8 (پروموشنل پوسٹ)، اس کے علاوہ اردوٹرانسلیٹر آفیسرتنخواہ لیول9 (پروموشن کے عہدے)شامل ہیں۔
ان مقررہ آسامیوں کی منظوری، اسامی اور بحالی کا راستہ صاف کر نے کا حکومت کا مقصد واضح ہے۔ ایک تو اردو زبان کا فروغ دوسرے اردو کے مایوس طلباء کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر انہیں براہ راست سرکاری ملازمتوں سے جوڑنا ہے، ان بحالیوں میں بڑے پیمانے پر بہار مدرسہ بورڈ کے عالم، فاضل پاس ہونے والے طلباء کو بھی ملازمت میں شامل ہونے کا موقع ملا ہے۔ اس کے علاوہ اردو معاون مترجمین کی بحالی سے اردو سے وابستہ لوگوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں کیونکہ کئی سالوں کے بعد اتنے بڑے پیمانے پر اردو سے وابستہ افراد کی بحالی ہو ئی ہے۔ اردو سے متعلقہ اسامیاں جو کئی برسوں سے خالی پڑی تھیں ان سیٹوں پر اردو مترجمین کو بحال کیا گیا ہے ساتھ ہی نئے تخلیق کی گئی اسامیوں کے لیے بھی بحالی ہو رہی ہے ۔ آج اردو کے جن امیدواروں کو تقرر نامے دیے جار ہیں ، اس فہرست میں 715 امیدواروں کا نام شامل ہے ، جن کی فائنل فہرست جاری کر دی گئی ہے ، ان میں 251لڑکیاں بھی شامل ہیں ،جنہوں نے اردو زبان میں ا پنا مستقبل سنوار نے کے لیے اردو کی تعلیم حاصل کی اور بلاآخر ان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔یہ تمام امیدوار مختلف اضلاع ،ڈویزن ، بلاک اور سرکل آفس میں اپنی اپنی ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں ۔ بہار کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہو ا ہے کہ اردو کے شعبہ میں اتنی بڑی تعداد میں خواتین بحال ہوئی ہیں ، جن میں معدودچند کو چھوڑ کر سب مسلم اقلیتی طبقہ سے ہی آتی ہیں ۔ یہ خواتین کو مستحکم بنانے کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے عزم کا عملی اظہار ہے ۔ بہار کی ترقی کے سفرمیں انہیں کسی بھی میدان میںپیچھے نہیں چھوڑا جاسکتا ۔
اردو مترجم اور معاون ا ردو مترجم کی بحالی کے لیے 5 نومبر 2019 کو درخواستیں طلب کی گئیں اور 30 نومبر 2019 تک قبول کی گئیں جس کے لیے تحریری امتحان اور منس ٹیسٹ لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نتیش کما ان اردو عہدوں اور نئی تخلیق شدہ اسامیوں کو پر کرنے کے لیے پرعزم تھے، اس کے لیے نہ صرف اردو مترجمین کے نتائج کا اعلان کیا گیا بلکہ دیگر ضروری پیمانے کو پورا کرنے کے بعد انھیں باقاعدہ طور پر بحال کر لیا گیا اور انھیں سرکاری ملازمین کا درجہ حاصل ہے اور وہ اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی دلچسپی کی وجہ سے، مختلف سرکاری دفاتر کے لیے اردومترجمین کے نئے عہدے نکالے گئے ہیں۔ کلکٹریٹ، سب ڈویزن، بلاک آفس، سرکل آفس میں معاون اردو مترجمین کی بحالی کی گئی ہے۔یہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی طرف سے اردو آبادی بالخصوص مسلمانوں کو دیا گیا ایک بڑا تحفہ ہے اور اسے اردو زبان کے وجود اور تحفظ کے لیے اٹھایا گیا ایک بڑا قدم مانا جائے گا، اس کے ساتھ ہی وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے واضح کیا ہے کہ وہ ہر طبقے کی ترقی کے لیے بلا تفریق کام کرتے ہیں اور کسی قسم کی غفلت نہیں برتتے ہیں۔
یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ بہار میں اردو کی حیثیت ان ریاستوں کے مقابلے بہت بہتر ہے جہاں اسے دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے، کیونکہ کسی بھی زبان کواسی وقت ترقی ملتی ہے جب اسے روزگار سے جوڑا جاتا ہے۔ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی قیادت میں ریاست میں اردو زبان کی ترویج واشاعت کے لیے بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام چل رہے ہیں، بہار میں ایک باقاعدہ اردو ڈائریکٹوریٹہے۔ بڑے پیمانے پر اردو مترجمین اور معاون اردو مترجمین کی بحالی کر کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے واضح کر دیا ہے کہ بہار حکومت ذات پات اور برادری سے اوپر اٹھ کر سب کی ترقی کے لیے کام کر رہی ہے۔











