بہارشریف(محمد راشد عالم) اس سال ماہ رمضان کے آخری جمعہ کی نماز ضلع کی تمام مساجد میں ادا کی گئی۔اسلام میں ماہ مرمضان کے آخری جمعہ کو اہم سمجھا جاتا ہے۔اسے الوداعی جمعہ بھی کہا جاتا ہے۔اسلام میں نماز جمعہ کی بھی بڑی اہمیت ہے ہر سال رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو تہوار کی طرح بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔اس بار بھی ضلع بھر کی مساجد میں الوداعی نماز ادا کی گئی۔یہ الگ بات ہے کہ اس بار ضلع بھر کی مساجد میں نمازیوں نے سیاہ پٹیاں باندھ کر الوداعیہ جمعہ کی نماز ادا کی۔رمضان المبارک کے آخری جمعہ کی نماز یعنی جمعۃ الوداع میں مسلم کمیونٹی کے لوگوں نے سیاہ پٹیاں باندھ کر نماز ادا کی۔اس طرح تمام لوگوں نے مرکزی حکومت کی طرف سے لائے گئے وقف ترمیمی بل کے خلاف احتجاج کیا۔اس موقع پر کئی مسلمان لوگوں نے کہا کہ ہم رمضان کے آخری جمعہ کو حکومت کے خلاف برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نماز پڑھنے آئے ہیں۔ہم مرکزی حکومت کے ذریعہ لائے گئے وقف ترمیمی بل کی مکمل مخالفت کرتے ہیں۔ہم اس بل کو کسی صورت قبول نہیں کرتے ہیں۔ضلع بھر کی تمام مساجد میں آج رمضان المبارک کے آخری جمعہ کی نماز ادا کی گئی۔بہارشریف شہر کی بڑی درگاہ،پل پر شاہی جامع مسجد، گڑھ پر،عماد پور،بنولیہ،چھجو محلہ،سکنات،شیخانہ،خاص گنج، سوہدیہ، ساہو کھر کے علاوہ راجگیر،سیویت، کریانہ، استھانواں، دیسنہ،جانا،گیلانی،مافی،بلچھی شریف، پلٹ پورا،انڈوس،حیدر گنج کڑاہ، سیلاؤ،بڑاکر اور دیگر تمام مقامات پر مسجدوں میں جمعۃ الوداع کی نماز ادا کی گئی۔نماز سے قبل اپنے خطبہ میں امام صاحب نے فرمایا کہ پاکیزہ،بابرکت،رحمت اور بخشش کا مہینہ اب ہم سے رخصت ہو رہا ہے۔اس مہینے میں روزے رکھ کر ہم نے جو کچھ سیکھا ہے اسے سال کے 11 مہینوں میں نافذ کرنا ہے۔ روزے نے ہمیں سکھایا کہ کبھی بھوکے کا مذاق نہ اڑایا جائے،اگر کوئی پانی مانگے تو یاد رکھیں کہ پیاس کے وقت آپ کیا محسوس کرتے تھے، جھوٹ،غیبت،فضول گپ شپ، دھوکہ، فریب،تکبر،گالی گلوچ اور برے الفاظ سے خود کو روکیں جس طرح میں نے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے ایک مہینہ دن رات عبادت کی ہے۔ویسے تو یا سال کے 11 مہینوں تک کرنا پڑتا ہے۔کیونکہ رمضان کا مہینہ اللہ تعالی کی طرف سے ایک تربیت ہے جسے پورا سال پورا کرنا ہوتا ہے۔نماز کے بعد جلا بھر کے مساجد میں نمازیوں نے اللہ تعالی سے ہر طرف امن و امان،خوشحالی،خیر سگالی،اتحاد و ملت،بھائی چارہ کی دعائیں کی۔











