
پھلواری شریف: یکم اپریل (پریس ریلیز): آج پٹنہ کے مشہور ہوٹل امرپالی میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی گئی جس میں پٹنہ سے تعلق رکھنے والے میڈیا سے جڑے بڑی تعداد میں صحافی موجود تھے، اس عظیم الشان پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا انیس الرحمن قاسمی امیرشریعت بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ نے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار، لوک جن شکتی پارٹی کے سربراہ چراغ پاسوان اور آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو سے اپیل کی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں پیش ہونے والے غیر جمہوری اور غیر قانونی وقف بل کی پرزور مخالفت کریں اور ملک میں دم توڑتی جمہوریت کو بچانے کا اپنا آئینی و دستوری حق ادا کریں، حضرت امیر شریعت نے مزید کہا کہ وقف جائیدادیں خالص مسلمانوں کی ملکیت ہیں، ان وقف جائدادوں میں مسجد، مدرسہ، خانقاہیں اور قبرستان ہیں جو مسلمانوں کے لیے خاص ہیں، اگر حکومت وقف ترمیمی بل 2024 کو پارلیمنٹ میں پاس کرانے میں کامیاب ہوگئی تو مسلمان اپنی وقف جائدادوں سے محروم ہوجائیں گے اور پھر مسجد، مدرسہ، خانقاہیں اور قبرستان کا استعمال مسلمانوں کے لیے ناممکن ہوجائے گا جوکہ جمہوری اور سیکولر ملک میں مسلمانوں کو مسلمانوں کی اپنی جائیداد سے محروم کرنے کی بڑی سازش ہے، حضرت امیرشریعت نے کہا کہ وقف ترمیمی بل 2024 کے پاس کرانے کا حکومت کا مقصد صرف اور صرف وقف جائدادوں پر قبضہ کرنا ہے جسے ملک کا مسلمان کبھی برداشت نہیں کر سکتا، حضرت امیر شریعت نے مزید کہا کہ چونکہ ماضی میں یہ پارٹیاں سیکولر کہلاتی رہی ہیں اور مسلمانوں کے ووٹ سے اقتدار حاصل کیاہے۔ اس لیے ان پارٹیوں کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے تاکہ ملک کا جمہوری تانا بانا بکھرنے سے بچ سکے اور مسلمانوں کے درمیان ان کی ساکھ باقی رہے ورنہ آنے والے انتخابات میں مسلمان انہیں سبق سکھانے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
اس موقع پر حضرت امیر شریعت مولاناانیس الرحمن قاسمی نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبرو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے وقف بل کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں، اس موقع پر امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ کی تمام مجالس و تمام کمیٹیوں کے سینئر رکن اور الکریم یونیورسٹی کے بانی و چانسلر احمد اشفاق کریم نے امارت شرعیہ سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے اور دیگر ٹرسٹیان وذمہ داران نے کئی بار سابق امیر شریعت احمد ولی فیصل رحمانی کو امارت شرعیہ کے کاموں کو اصول و ضوابط کے مطابق انجام دینے کی گذارش کی، لیکن انہوں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی، باربار توجہ دلانے کے باوجود اس کا کوئی خیال نہیں کیا، اس لئے ٹرسٹیان نے کئی مرتبہ کی میٹنگ میں غور و خوض کے بعد اور بالخصوص آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ سے نکالے جانے کے بعد یہ بات واضح ہوگئی کہ وہ ایک غیر ملکی شخص ہیں، وہ ہندوستانی نہیں ہیں بلکہ وہ امریکہ کی شہریت رکھتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی وہ عالم بھی نہیں ہیں، ان حالات میں امارت شرعیہ کے تحفظ کے لیے اور امارت شرعیہ کو اصول و ضوابط کے تحت چلانے کے لیے بورڈ آف ٹرسٹیز نے انہیں امیر شریعت سمیت امارت شرعیہ کے تمام عہدوں سے برطرف کر دیا اور جناب مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب جن کی امارت شرعیہ کے لئے طویل خدمات ہیں انہیں امیر شریعت منتخب کیا، کیوں کہ جس وقت امیر شریعت کا انتخاب ہورہا تھا اس وقت احمد ولی فیصل رحمانی کے ساتھ ارباب حل وعقد کی بڑی تعداد نے مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب کو ووٹ دیا تھا، پہلے نمبر لانے والے امیر شریعت احمد ولی فیصل رحمانی مذکورہ وجوہات کی بنا پر معزول کردیا گیا تو بورڈ آف ٹرسٹیز نے ارباب حل وعقد کی رائے کا احترام کرتے ہوئے ان کے بعد دوسرے نمبر پر رہنے والے مولانا انیس الرحمن قاسمی کو منتخب کیا، انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر امارت شرعیہ کے تحفظ کے لیے مجھے وہاں سے الگ ہونا پڑا اور استعفیٰ دینا پڑا تو میں الگ ہونے کے لیے تیار ہوں، تو امارت شرعیہ کے تحفظ کے لیے فیصل رحمانی بھی امارت سے الگ ہوجائیں اور امارت شرعیہ کو بہار کے علماء کے ہاتھوں میں سونپ دیں، پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امارت شرعیہ کے ناظم اعلی مولانا محمد شبلی القاسمی نے کہا کہ اوقاف کے تحفظ کے لیے ہم نے مستقل کوششیں کیں، امارت شرعیہ کے پلیٹ فارم سے برسراقتدار پارٹی سمیت تمام اپوزیشن کے رہنماؤں سے ملاقات کی اور بل کی خطرناکی سے انہیں آگاہ کیا،اور آپ یہ جانتے ہیں کہ امارت شرعیہ نے تحفظ اوقاف کانفرنس کیا جوملک کی سب سے بڑی کاننفرنس رہی اور اس میں ہمارا ساتھ ہمارے دوسرے ذمہ داران اور دیگر اراکین نے دیا، اور وہ ایک تاریخ ساز کانفرنس رہی، آج بھی ہم تمام سرکاروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اوقاف کا تحفظ ہمارے ایمان کا حصہ ہے، ہم اس سے ایک قدم پیچھے ہٹ نہیں سکتے ہیں، پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر راجد رہنما اور سابق چئیرمین مدرسہ بورڈ محب الحسن نے کہا کہ اوقاف کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے، حکومت اپنے منصوبے سے باز آجائے، پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والوں میں سینئر کانگریسی لیڈر نجم الحسن نجمی اور صدر مفتی امارت شرعیہ مفتی سہیل احمد قاسمی بھی شامل ہیں۔











