محمد زاہد امینی
نوح،میوات،سماج نیوز سروس: میوات میں فروغ تعلیم و زیرو ڈراپ آؤٹ مشن کے تحت آج قصبہ پنہانہ میں ‘پڑھےگامیوات بڑھے گا میوات کے عنوان پرایک شاندار سیمینار منعقد ہواجس میں پنچایت راج اداروں کے نمائندوں،اساتذہ کرام وعلاقہ کی تعلیمی،سماجی و ملی تنظیموں کے عہدے داران نے شرکت کی۔بلاک ڈیولپمنٹ اینڈ پنچایت آفیسر آفس پنہانہ کے آڈیٹوریم میں ڈپٹی کمشنر وشرام کمار مینا کی صدارت میں منعقدہ اس سیمینار میں موجود ماہرین تعلیم نےتعلیم کے فروغ اور ہر بچے کو تعلیم سے جوڑنے اور ڈراپ آؤٹ مشن میں اپنا بھرپور تعاون اور تعاون کرنے پر زور دیا۔اس کے علاوہ تمام نے تعلیمی اصلاحات کے حوالے سے اپنی تجاویز بھی ڈپٹی کمشنر کو پیش کیں۔انہوں نے اس موقع پر موجود ماہرین تعلیم اور عوامی نمائندوں سے عہد لیا کہ وہ تعلیم کے فروغ کے لیے اپنی سطح پر کردار ادا کریں گے۔ طلباء، اساتذہ اور والدین کو تعلیم کی اہمیت کو سمجھنے اور اسے معاشرے میں پھیلانے کی تحریک دی جائے گی۔بطورِ مہمان خصوصی شریک ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ جن سرپنچوں اور گرام پنچایتوں کو زیرو ڈراپ آؤٹ مشن میں اہم رول ادا کریں گے اور چمپئن کی طرح کام کریں گے انہیں خصوصی طور پر اعزاز سے نوازا جائے گا۔اسٹریٹ ڈراموں اور مختصر فلموں کے ذریعے تعلیم کو فروغ دیا گیا سیمینار میں لوک فنکار ابھیشیک راجپوت اور ان کی ٹیم نے اسٹریٹ پلے کے ذریعے تعلیم کی اہمیت کے بارے میں سیمینار میں موجود عوامی نمائندوں اور لوگوں کو متاثر کیا۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر اثر انداز کرنے والے ہکو سنگاریا کی تیار کردہ ایک مختصر فلم کے ذریعے تعلیم کا ایک اہم پیغام بھی پیش کیا گیا۔مقررین کے خیالات تعلیم اور سماجی اصلاح سے وابستہ کئی ماہرین تعلیم اور سماجی کارکنوں نے سیمینار میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم نہ صرف انفرادی ترقی کی راہ ہموار کرتی ہے بلکہ معاشرے اور قوم کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ماہرین تعلیم نے کہا کہ میوات میں تعلیم کی سطح کو بہتر بنانے کے لیے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اسکولوں میں جدید سہولیات، قابل اساتذہ کی بھرتی اور ڈیجیٹل لرننگ کو فروغ دینے سے طلبہ کو بہتر تعلیم فراہم کی جاسکتی ہے۔اس موقع پر ٹرینی آئی اے ایس انیرودھ یادو، ایس ڈی ایم پنہانہ کنور آدتیہ وکرم،ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو آفیسر ایم ڈی اے اشوک کمار، ایف ایل این کوآرڈینیٹر کسم ملک،بی ڈی پی او شمشیر نین،سماجی کارکن جسونت گوئل اور اعجاز خان کے علاوہ بڑی تعداد میں معززین اور انتظامی افسران موجود تھے۔












