تل ابیب (ہ س)۔اسرائیل کی داخلی سلامتی کے ادارے کے سابق سربراہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نیتن یاہو نے مجھ سے عدالتی کارروائی میں التواء ممکن بنوانے کے لیے مدد مانگی تھی۔ تاکہ وزیر اعظم کے خلاف کرپشن کے سلسلے میں مقدمات کا فیصلہ موخر رہے۔ شن بیت کی سربراہی سے برطرف کیے گئے رونن بار نے جمعہ کے روز ایک خط میں کہا ہے۔نیتن یاہو نے رونن بار کو شین بیت کے عہدے سے پچھلے ماہ ایک متنازعہ حکم کے نتیجے میں ہٹا دیا تھا۔ جس کے بعد اسرائیل میں جگہ جگہ احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔پچھلے سال ماہ نومبر میں نیتن یاہو نے بار بار کہا تھا کہ ملک میں سیکیورٹی سے متعلق حالات کی خرابی کے بارے میں ایسا خط لکھو جس میں کہا جائے کہ ‘ان حالات کی وجہ سے عدالت میں وزیر اعظم کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جانا چاہیے۔ تاہم نیتن یاہو کے دفتر کی طرف سے جاری کیے گئے رد عمل میں کہا ہے’ سابق سیکیورٹی ذمہ دار کا یہ خط مکمل جھوٹ پر مبنی ہے۔’ اس سلسلے میں جو بات چیت ہوئی تھی وہ مقدمے کی سماعت کے مقام کے حوالے سے تھی، مقدمے کی سماعت روکنے کے لیے نہیں تھی۔












