واشنگٹن (ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس کے دوران روبیو نے بتایا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ اس سے امن قائم ہوگا۔ "ہم بالکل واضح ہیں کہ ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس ملاقات کی وجہ یہی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے العربیہ کو بتایا ہے کہ ہفتہ کو عمان میں ایرانیوں کے ساتھ ہونے والی ملاقات سے تہران کی سنجیدگی کا اندازہ ہو جائے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ ملاقات مذاکرات کے لیے ایران کے ارادوں کی ابتدائی تلاش تھی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو بے دخل کرنا ایک ’اضافہ اور غلط حساب کتاب‘ہوگا۔ٹیمی بروس نے کہا ہے کہ اس طرح کی کارروائی کا خطرہ واضح طور پر ایران کے اس کے پرامن جوہری پروگرام کے دعووں سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔ ایران سے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو بے دخل کرنا ایران کی جانب سے ایک اضافہ اور غلط حساب کتاب ہوگا۔ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے جمعرات کو ٹوئٹ کیا کہ ان کا ملک اقوام متحدہ کی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو نکال سکتا ہے اگر اس پر فوجی حملہ کیا گیا یا اسے بیرونی خطرات جاری رہے۔ اگرچہ امریکہ کا اصرار ہے کہ تہران کے ساتھ بات چیت براہ راست ہوگی۔ ایران نے پہلے اس بات پر زور دیا ہے کہ مذاکرات بالواسطہ ہوں گے اور عمانی وزیر خارجہ ثالثی کریں گے۔












