اوٹاوا (ہ س)۔ کینیڈا میں ہونے والے وفاقی انتخابات میں وزیراعظم مارک کارنی کی قیادت میں لبرل پارٹی نے مسلسل چوتھی بار حکومت بنانے کی سمت میں کامیاب حاصل کی ہے۔ اگرچہ پارٹی کو قطعی اکثریت حاصل نہیں ہوئی، لیکن نتیجہ ان کے لیے ایک اہم واپسی کی نمائندگی کرتا ہے، خاص طور پر جب وہ کچھ وقت پہلے تک اپوزیشن کنزرویٹو پارٹی سے بہت پیچھے چل رہے تھے۔لبرل پارٹی نے 343 رکنی ہاوس آف کامنز میں 165 سیٹوں پر جیت درج کی ہے، جبکہ چار سیٹوں پر آگے چل رہی ہے۔جو کہ اکثریت کے لیے درکار 172 نشستوں سے قدرے کم ہے۔ اس کے باوجود، نتیجہ پارٹی کے لیے حوصلہ افزا ہے، کیونکہ انہوں نے اونٹاریو اور کیوبیک جیسے اہم صوبوں میں مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔وہیں کنزرویٹو پارٹی انتخابات میں اہم اپوزیشن کے طور پر ابھری ہے جس نے 140 کے قریب سیٹیں جیتی ہیں اور 4 سیٹوں پر آگے چل رہی ہے۔ جبکہ بلاک کیوبیکس کائس نے 22 نشستیں حاصل کی ہیں۔ وہیں نیو ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) نے چھ نشستیں جیتی ہیں اور ایک پر آگے چل رہی ہے۔ گرین پارٹی آف کینیڈا نے بھی ایک نشست جیت لی ہے۔کینیڈا کے انتخابات میں خصوصی بیلٹس پیپروں کی گنتی ابھی بھی جاری ہے۔ مکمل نتائج آج دوپہر (مقامی وقت) تک سامنے آنے کی امید ہے۔اس انتخاب میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی کینیڈا مخالف پالیسیوں جیسے ٹیرف اور جارحانہ بیان بازی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ کارنی نے اپنی مہم میں ٹرمپ کی پالیسیوں کی سخت مخالفت کی اور کینیڈا کی خودمختاری کا دفاع کرنے کا عہد کیا۔ ایسے میں اس انتخابی نتیجے کو کارنی کی مضبوط قوم پرست امیج کی جیت قرار دیا جا رہا ہے۔












