واشنگٹن (ہ س)۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ” کے مطابق امریکی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی (CIA) تقریباً 1200 ملازمتیں کم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے، جب کہ دیگر انٹیلی جنس ادارے بھی ہزاروں ملازمین کو فارغ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اخبار نے جمعے کے روز بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایوانِ نمائندگان کو سی آئی اے میں مجوزہ کمی سے آگاہ کر دیا ہے، یہ کمی کئی برسوں میں مرحلہ وار مکمل کی جائے گی۔ اس عمل میں براہ راست ملازمین کو برخاست کرنے کے بجائے، زیادہ حصہ نئی بھرتیوں میں کمی لانے کا ہو گا۔جب سی آئی اے کے ترجمان سے اس رپورٹ کے بارے میں پوچھا گیا، تو انھوں نے تفصیلات کی تصدیق نہیں کی، تاہم کہا کہ ایجنسی کے ڈائریکٹر جون ریٹکلف "تیزی سے ایسے اقدامات کر رہے ہیں تاکہ سی آئی اے کی افرادی قوت قومی سلامتی سے متعلق انتظامیہ کی ترجیحات کے مطابق کام کرے”۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ "یہ اقدامات ایجنسی میں نئی توانائی بھرنے، اْبھرتے ہوئے قائدین کو مواقع فراہم کرنے، اور سی آئی اے کو اپنے مشن کی بہتر انجام دہی کے لیے مضبوط بنانے کی ایک جامع حکمتِ عملی کا حصہ ہیں”۔اس سال کے شروع میں سی آئی اے پہلی ایسی امریکی سیکیورٹی ایجنسی بنی جس نے صدر ٹرمپ کے رضاکارانہ علیحدگی کے پروگرام میں شمولیت اختیار کی۔ اس کا مقصد وفاقی ملازمتوں میں نمایاں کمی لانا ہے۔ایوانِ نمائندگان سے خطاب کرتے ہوئے، ریٹکلف نے کہا تھا کہ ان کی قیادت میں ایجنسی گہری، غیر جانب دار اور کثیر ذرائع پر مبنی تجزیاتی رپورٹس تیار کرے گی، اور ہم کبھی بھی سیاسی یا ذاتی تعصبات کو اپنے فیصلوں پر اثرانداز نہیں ہونے دیں گے”۔ان کا مزید کہنا تھا کہ "ہم دنیا کے ہر کونے، خواہ وہ کتنا ہی تاریک یا مشکل کیوں نہ ہو، سے خاص طور پر انسانی ذرائع سے انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کریں گے۔ ہم صدر کی ہدایت پر خفیہ کارروائیاں کریں گے، وہاں جائیں گے جہاں کوئی نہیں جا سکتا، اور وہ کچھ کریں گے جو کوئی اور نہیں کر سکتا”۔سی آئی اے کے افسران کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہا، "اگر یہ سب کچھ وہی ہے جس کا آپ نے ایجنسی میں شمولیت کے وقت خواب دیکھا تھا، تو تیار ہو جائیں کہ آپ ایک حقیقی فرق ڈالیں گے۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہے، تو یہ نیا کیریئر ڈھونڈنے کا وقت ہے”۔












