تل ابیب (ہ س)۔اگرچہ اتوار کی شب اسرائیلی کابینہ کے اجلاس میں متفقہ طور پر غزہ میں فوجی آپریشن کو وسیع کرنے کی منظوری دے دی گئی … تاہم اجلاس کے دوران اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر اور قومی سلامتی کے (انتہا پسند) وزیر ایتامار بن گوئر کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی۔فوجی سربراہ زامیر نے بن گوئر اور دائیں بازو کی وزیر اوریت ستروک کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "آپ کو اندازہ ہی نہیں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، آپ ہم سب کو خطرے میں ڈال رہے ہیں”۔ یہ بات بن گوئر کے اس مطالبے کے جواب میں کہی گئی جس میں انھوں نے تباہ حال فلسطینی علاقے غزہ کا مکمل محاصرہ جاری رکھنے، امدادی اشیاء اور خوراک کی فراہمی بند کرنے، اور علاقے پر مکمل قبضہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔زامیر نے واضح کیا کہ اسرائیلی افواج غزہ کو "بھوک سے مارنے” کی پالیسی اختیار نہیں کر سکتیں کیوں کہ اس کا منفی اثر فوجیوں کی سیکیورٹی پر پڑے گا۔ انھوں نے بن گوئر کے بیانات کو خطرناک قرار دیا۔اس موقع پر اسرائیل کی اٹارنی جنرل گالی بہاراف میارا نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل قانونی طور پر غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کا پابند ہے۔تاہم بن گوئر اپنے موقف پر قائم رہے اور کہا کہ "وہاں کافی خوراک موجود ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں ان لوگوں کی خود سے مدد کرنی چاہیے جو ہم سے لڑ رہے ہیں۔ بین الاقوامی قانون میں یہ کہاں لکھا ہے؟”اس تلخی کے باوجود ایک اسرائیلی اعلیٰ سیاسی عہدے دار نے پیر کو بتایا کہ کابینہ نے فوجی سربراہ کی غزہ کے لیے تجویز کردہ آپریشنل پلان کی متفقہ منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد "حماس کو شکست دینا اور اسرائیلی قیدیوں کو بازیاب کروانا” ہے، جو وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے بیانات سے مطابقت رکھتا ہے۔












