پیرس (ہ س)۔فرانسیسی وزارت خارجہ نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ جرمنی، برطانیہ اور فرانس ایران کے ساتھ ایک نئے معاہدے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے العربیہ‘‘ کو بتایا کہ اگر ایران میں مذاکرات کی حقیقی خواہش نہیں ہے تو ہم اس پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ یورپیوں کی حیثیت سے ہم 2015 سے ایران کے ساتھ بات چیت کے دروازے کھولنے سے نہیں پیچھے نہیں ہٹے ہیں۔فرانس، برطانیہ اور جرمنی کو یورپی ٹرائیکا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ تینوں 2015 میں ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کے فریق ہیں جو اکتوبر میں ختم ہو رہا ہے۔ ان سب کے پاس سلامتی کونسل میں دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے لیے ایک میکانزم کو فعال کرنے کا اختیار ہے۔لبنان کے بارے میں فرانسیسی وزارت خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ لبنان کی خودمختاری کا احترام کرے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کو جنوبی لبنان میں ان پانچ مقامات سے دستبردار ہو جانا چاہیے جن پر اس نے قبضہ کر رکھا ہے۔ حزب اللہ کے ساتھ شدید جھڑپوں کے بعد گزشتہ 27 نومبر کو لبنان میں جنگ بندی کے معاہدے کے نافذ ہونے کے باوجود اسرائیلی افواج اب بھی جنوبی لبنان کے 5 سٹریٹجک علاقوں میں موجود ہیں اور سرحد کے دونوں اطراف کی نگرانی کر رہی ہیں۔واضح رہے امریکی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے میں اسرائیل کے مکمل طور پر لبنان سے انخلا اور حزب اللہ کے دریائے اللیطانی کے جنوب سے انخلا اور اپنی اسلحہ اور پوزیشنیں فوج کے حوالے کرنے کی صراحت موجود تھی۔












