نئی دہلی، (یو این آئی) لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ انڈمان و نکوبار کے گریٹ نکوبار میں ترقی نہیں بلکہ تباہی کی سازش رچی جا رہی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت جس منصوبے کو "پروجیکٹ” بتا رہی ہے، وہ دراصل بڑے پیمانے پر جنگلات کی کٹائی اور لوگوں کی بے دخلی کا سبب بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت تقریباً 160 مربع کلومیٹر کے بارشی جنگلات کو ختم کیا جا رہا ہے، لاکھوں درختوں کو کاٹنے کے لیے نشان زد کیا گیا ہے اور مقامی برادریوں کو نظر انداز کر کے ان کے گھر چھینے جا رہے ہیں۔اس خطے کا دورہ کرنے کے بعد مرکزی حکومت کے منصوبے پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں کی قبائلی برادری اور آباد کار لوگ انتہائی سادہ اور خوبصورت ہیں، لیکن ان کے حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے۔مسٹر گاندھی نے اسے ترقی نہیں بلکہ "ترقی کی زبان میں چھپی تباہی” قرار دیا۔ انہوں نے اسے ملک کے قدرتی اور قبائلی ورثے کے خلاف سب سے بڑے جرائم میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ اگر ملک کے عوام اس مسئلے کی حقیقت کو سمجھیں اور اس کے خلاف آواز اٹھائیں تو یہ سب روکا جا سکتا ہے۔ کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے انڈومان نکوبار کے گریٹ نکوبار جزیرے میں مجوزہ ترقیاتی پروجیکٹ کے حوالے سے سوال اٹھاتے ہوئے حکومت سے اس پر واضح جواب دینے کو کہا۔مسٹر گاندھی نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکسپر علاقے کے اپنے حالیہ دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گریٹ نکوبار کے جنگل انتہائی قدیم اور حیرت انگیز ہیں، جنہیں پروان چڑھنے میں نسلیں لگی ہیں۔ ان کے مطابق اس پروجیکٹ کے تحت لاکھوں درختوں کی کٹائی اور قریب 160 مربع کلومیٹر رین فاریسٹ کے علاقے کو ختم کیا جا رہا ہے، جو ملک کی قدرتی اور قبائلی وراثت کے لیے سنگین تشویش کا موضوع ہے۔انہوں نے کہا کہ اس عمل میں مقامی قبائلی برادریوں اور باشندوں کے حقوق کی ان دیکھی ہو رہی ہے اور یہ ترقی نہیں، بلکہ ترقی کی زبان میں چھپی ہوئی تباہی ہے۔کانگریس لیڈر نے اس پورے معاملے کو سنگین بتاتے ہوئے کہا کہ اہل وطن کو اس کی سچائی سمجھنی چاہیے اور حکومت کو شفافیت کے ساتھ صورتحال واضح کرنی چاہیے۔












