تل ابیب (ہ س)۔اسرائیلی فوجی ریڈیو نے منگل کے روز بتایا ہے کہ رفح میں امدادی سامان کی تقسیم کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت موراگ اور فیلاڈلفیا کی دو راہ داریوں کے درمیان امداد فراہم کی جائے گی۔ ریڈیو رپورٹ کے مطابق رفح میں تین امدادی مراکز قائم کیے جائیں گے۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان مراکز کا انتظام امریکی نجی کمپنیاں سنبھالیں گی، اور رفح میں واقع ان مراکز میں غزہ کے شہریوں کو داخلے کی اجازت صرف مکمل تلاشی کے بعد دی جائے گی۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ غزہ کے عوام کو خوراک کی فراہمی میں مدد کریں گے۔ انھوں نے حماس پر الزام عائد کیا کہ اس نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ادھر امریکی ویب سائٹ "axios” کے مطابق مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطے کے دورے سے پہلے یا اس کے دوران اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے کسی معاہدے میں پیش رفت ہو سکے گی۔وٹکوف کا کہنا تھا "میں تقریباً روزانہ قطر، مصر اور اسرائیل سے بات کرتا ہوں، اور مجھے امید ہے کہ ہم مثبت پیش رفت میں کامیاب ہو جائیں گے۔ صدر ٹرمپ اسرائیلی قیدیوں کو واپس لانا چاہتے ہیں، اور نیتن یاہو بھی یہی چاہتے ہیں، ہم ایک مربوط حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔وٹکوف نے مزید کہا کہ "اسرائیل ایک خود مختار ریاست ہے اور وہ اپنے فیصلے خود کرتا ہے، جب کہ صدر ٹرمپ اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں”۔ وٹکوف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی قیدیوں کی واپسی اہم ہے، اور حماس کو اپنے ہتھیار ڈالنا ہوں گے۔واضح رہے کہ صدر ٹرمپ 13 سے 16 مئی کے درمیان مشرق وسطیٰ کا دورہ کریں گے، جس کا آغاز سعودی عرب سے ہو گا۔ اس کے بعد وہ قطر اور پھر متحدہ عرب امارات جائیں گے۔












