
پٹنہ17 مئی (پریس ریلیز)آج اسلام کو خطرہ کسی اور سے نہیں بلکہ خود کی ذہنی خرافات سے ہے۔ اسپین کے اندر پہلے مسجدوں میں تقریر کے ذریعہ اختلاف ڈالا گیا ۔وہی ہندستان کے پٹنہ کی مسجد میں ہو رہا ہے ۔ اسلام مخالف طاقتیں مقرر کو حربہ بنا رہی ہیں اور مقتدی کو پتہ نہیں چل رہا ہے۔پٹنہ کی ایک مسجد میں باہری مقرر نے جمعہ کے خطبہ میں دوسرے مذہب کی جانکاری لینے کی اجازت دے دی -یہ کہاں تک جائز ہے -مطلب یہ کہ مذکورہ مقرر کو مذہب اسلام پر ہی شبہ ہے -اس سے اختلاف بڑھے ہی بڑھے گا-
الحمد کے سرپرست اشفاق رحمن کہتے ہیں کہ جمعہ کی تقریر کو یوٹیوب پر نشر کرنا یا اخباروں میں شائع کرانا انتہائ سنگین معاملہ ہے ۔اصلاح کسی ایک نظریہ سے ہو سکتا ہے اور وہ اسلام کا بنیادی نظریہ ہے ۔مختلف ذہنیت سے اختلاف رائے بڑھتی ہے۔جمعہ میں مختلف مکتب فکر ،الگ الگ نظریات اور الگ الگ ذہن کے مقرر سے تقریر کرانا اور پھر اس تقریر کو یوٹیوب اخباروں میں دینا ایک منظم سازش کے تحت کیا جا رہا ہے ۔اس سے قوم میں انتشار بڑھے گا۔یہ ویسا ہی ہوگا لمحوں نے خطا کی ہے اور صدیوں نے سزا پائی ہے۔ اشفاق رحمن کہتے ہیں کہ یہی اسپین میں ہوا تھا -انتشار اتنا بڑھا کہ ایک طاقتور ملک تباہ ہو گیا ۔اسپین کی طرز پریہاں بھی مختلف نظریات کے حامی مقرر کے ذریعہ امت میں تفرقہ ڈالا جا رہا ہے۔
اشفاق رحمن کہتے ہیں کہ خلافت کے دور کو یاد کیجئے،اسپین کی تاریخ کو پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ سب سے پہلے عیسائیوں نے ایک سازش کے تحت اپنے لوگوں کو مسجدوں میں داخل کرایا اور جمعہ میں الگ -الگ مکتب فکر کے نظریہ کو عوام کے ذہن میں پیوست کیا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ مقتدیوں میں زبردست اختلاف ہو گیا- کوئی ایک مقرر کے ہمنوا بن گئے ،کوئی دوسرے کے،کوئی تیسرے اور کوئی چوتھے کے حمایتی ہو گئے- اشفاق رحمن کا کہنا ہے کہ کچھ اسی طرح کی صورتحال پٹنہ کی مسجد میں بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔الگ مسلک اور الگ مکتبہ فکر کے مقرر کو بلا کر جمعہ کی تقریر کرائی جا رہی ہے جس مسلمانوں میں انتشار بڑھ رہا ہے۔
اشفاق رحمن کہتے ہیں کہ کبھی کوئی بڑا مقرر آ جائے تو ان سے تقریر کرائی جا سکتی ہے لیکن ہر جمعہ میں چار -پانچ مقرر باہر سے لائیں جائے یہ مناسب نہیں ہے۔مسلمانوں اور خاص کر مسجد کمیٹیوں کو اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔الگ الگ نظریات ،الگ ذہنیت ،الگ مسلک کے مقرر اور اس کی تقریر چھپنے سے مسجد اور علاقے کا اتفاق مجروح ہوگا۔ اشفاق رحمن کہتے ہیں حضرت عمر فاروق کے زمانے میں یہودی پیچھے بیٹھ کر ان کی تقریر سنتے تھے اور پھر اپنے آقا کو بتاتے تھے ۔جس سے اسلام کا بڑا نقصان ہوا تھا۔بعد میں اس پر نگاہ رکھی جانے لگی اور یہ سلسلہ بند ہو گیا ۔مسجد کی تقریر کو ریکارڈ کرنا ،اسے چھپوانا ،یوٹیوب پر ڈالنے سے مسلمانوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔اس کا اندازہ فوری طور پر نہیں ہوتا ہے ،صدیوں بعد نقصان کا پتہ چلتا ہے۔اسپین مثال ہے ۔مسجدوں کے انتظام کار کو اس سے بچنا چاہئے ،چار مکتب فکر کے مقرر سے تقریر کرانے سے احتیاط برتیں۔











