اٹھائیس سو کلومیٹر کا طویل سفر طے کرتے ہوئے راہل گاندھی کی یاتراآج جب ہریانہ کے راستے قومی دار حکومت دہلی میں داخل ہوئی تو اس میں راہل گاندھی کا انداز ،جوش و خروش دیکھنے لائق تھا ،تاریخی لال قلعہ کی فصیل سے راہل کے خطاب نے ملک کو محبت کی وہ تازگی بخشی ہے،شاید پچھلے کچھ برسوں سے جس کی رمق جاتی رہی تھی اورملک کو اس کا شدت سے انتظار بھی تھا۔کیونکہ اس محبت کی کمی شدت سے محسوس کی جارہی تھی ۔ غلط نہیں کہ اب تک اس محبت کاخون کر کے ، نفرت کوپروان چڑھایا جارہا تھا اور سیاسی روٹیاں سینکی جارہی تھیں،جسے ایک طبقہ سخت کراہیت کی نظر سے دیکھ رہا تھا ۔کہا جارہا ہے کہ ملک میں زعفرانی پارٹیوں نے جس طرح لوگوں کے ذہنوں کوپرا گندہ کرنے کا کام کیا ہے ،کانگریس کا یہ عزم ہے کہ راہل گاندھی اس گندگی کو دور کرکے دم لیںگے اور ان کی یہ کوشش آخری دم تک جاری رہے گی ۔شاید یہی وجہ ہے کہ راہل گاندھی کو محبت اور اتحاد کی بات کرنے کیلئے میلوں کا سفر کرنا پڑا اور نفرت کو پھیلانے اور اسے عام کرنے کی ذمہ داری اپنے کاندھے پر اٹھاناپڑی ۔جبکہ یہ کوئی بھی کر سکتا تھا !۔لیکن ان کی اس ایماندارانہ محنت اور محبت کے پیغام کی جس طرح سے اب بھی ناقدری کی جارہی ہے اس سے سوائے کف افسوس ملنے کے اور کچھ نہیں کیا جاسکتا ۔ اس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ راہل جو الزام عائد کررہے ہیں وہ کچھ غلط نہیں ہیں۔آج دہلی میں راہل کے خطاب کے بعد بی جے پی کے روی شنکر پرساد نے جس طرح اپنا ردعمل دے کر رسی کا سانپ بنانے کی کوشش کی ہے ،اس سے لگتا ہے کہ چین کے معاملے پر راہل کے بیان کے بعد بی جے پی کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا ہے بلکہ وہ بغلیں جھانک رہی ہے ۔ راہل کے بیان میں آخر ایسا کیا غلط ہے؟ انہوںنے وہی بات آج دہلی کے لال قلعہ سے کہی ہے جو پورا ملک کہہ رہا ہے اور جو خود بی جے پی ممبر پارلیمنٹ راکیش ناتھ کچھ دن پہلے پارلیمنٹ میں کہہ چکے ہیں کہ چین کی پالیسی دوغلی ہے اور وہ بھارت کی اقتصادی حالت کو کمزور کرنا چاہتا ہے!۔۔خیر ،کانگریس لیڈر راہل گاندھی تو وزیر اعظم کی خاموشی اور حکومت کے چین کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کے پیچھے عذر کو بھی جاننا چاہتے ہیں ۔شاید یہ بات بی جے پی کو زیادہ چبھتی ہے ،کیا اسے یہ بتا نا نہیں چاہئے کہ چین اگر بھارت کے علاقوں میں نہیں گھسا ہے تو پھر ہماری اس کے ساتھ کئی بار بات چیت کا دور کیوں جاری رہا؟یہی بات تو راہل گاندھی اٹھا رہے ہیں اور وہ اس کا جواب جاننا چاہتے ہیں!۔لیکن اس پر بات کرنے سے بی جے پی کیوں بھاگ رہی ہے،یہ سمجھ سے باہر ہے۔اور وہ ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگتی ہے ۔بڑی عجیب بات ہے کہ آج راہل گاندھی نے جب چین تنازع پر کوئی سوال اٹھایا تو بی جے پی اس کا رخ موڑ تی نظر آئی، اور موضوع کو الجھانے کی کوشش کی گئی ۔ روی شنکر پرساد نے ایک پریس کانفرنس کر کے آج نیا شگوفہ چھوڑا ہے ۔انہوںنے سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت توڑنے والے اس یاترا میں کیوں شامل ہوئے؟ ۔روی شنکر کے ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی کو راہل کی یاترا بھارت توڑنے والی نظر آرہی ہے اور وہ اسے بھی نفرت کے چشمے سے دیکھ رہی ہے !۔بڑے افسوس کی بات ہے کہ بی جے پی کوآخر یہ بات کیوں سمجھ میں نہیں آتی کہ راہل کی یاترا کا مقصد کیاہے ؟کیا راہل کے ساتھ موجود جم غفیر یہ چیخ چیخ کر نہیں کہہ رہاہے کہ وہ اب ملک میں نفرت کی پالیسی سے تنگ آچکے ہیں اور محبت کی بات کرنا چاہتے ہیں !۔بی جے پی کو یہ کسیے سمجھایا جائے کہ راہل جس’ مشن‘ کو لیکر چلے ہیں وہ اڈوانی اور اوما بھارتی کی 1992 والی رتھ یاترا جیسانہیں ہے ، جسکا مقصد ملک میں صرف نفرت کو پھیلانا اور ہندو مسلم کوتقسیم کرنا تھا !بلکہ راہل کی یاترا محبت اور اتحاد کا ایک پیغام ہے جو ملک کو جوڑنے کے لئے ہے،بھائی چارہ اور خیر سگالی کے لئے ہے ۔غور طلب ہے کہ اس یاترا میںراہل گاندھی یہ بات بر سر عام کہہ رہے ہیں کہ سبھی لوگ بلا تفریق مذہب اس میں شامل ہوجائیں اور یہاں مذہب کی کوئی قید نہیں!۔
بہر کیف راہل کی یاترا پر بی جے پی کے بے ہنگم جواب سے تو یہی کچھ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بوکھلائی ہوئی ہے ۔سوال یہ ہے کہ بی جے پی کو بھی اس یاترا میں شامل ہونے سے کیا قباحت ہے ،آخر وہ بھی تو ’دیش ‘ کی بات کرتی رہی ہے اور اپنی ہر اسکیم اور اٹھائے گئے قدم کو دیش ہت میں بتاتی رہی ہے؟۔اب راہل کی یاترا کیوں کھٹک رہی ہے ؟در اصل راہل کی یاترا سے دوری برقرار رکھنے کی نیت صاف بتاتی ہے کہ بی جے پی کا ’دیش ہت ‘راہل کے اتحاد اور دیش ہت میں اٹھائے گئے قدم سے کچھ مختلف ہے!۔بہر حال ،مخالفین کے سخت اعتراضات اور مخالفتوں کے درمیان ہمیں امید ہے کہ راہل اپنے مشن میں کامیاب ہونگے اور ان کا ’پیغام اتحاد‘ ملک میں نفرت پھیلانے والوں کے منہ پر ایک طمانچہ ثابت ہوگا ۔












