گزشتہ روز اتر پردیش کی یوگی حکومت اس وقت سخت مشکل میں پھنس گئی جب الٰہ آ باد ہائی کورٹ نے اس سے بغیر پسماندہ ریزرویشن بلدیہ کے الیکشن کرانے کا حکم صادر کیا ۔عدالت نے یوپی حکومت کو ہدایت جاری کی کہ ریزر ویشن کو اس وقت تک لاگو نہیں کیا جانا چاہئے کہ جب تک کہ سپریم کورٹ کی طرف سے تجویز کردہ ٹرپل ٹیسٹ نہیں ہو جاتا۔ یعنی یوپی حکومت نے 5 دسمبر کے لئے جو نوٹیفکیشن جاری کیا تھا اس کو عدالت نے خارج کر دیا۔عدالت کے حکم کے بعد اب یوگی حکومت کو یہ سوچنا پڑ رہا ہے کہ وہ کرے تو کیا کرے ،کیونکہ’’ ٹرپل ٹیسٹ‘‘ کا عمل اتنا آسان نہیں ہے کہ اسے فوری طور سے نافذ کر لیا جائے اورکاندھوں سے بوجھ اتر جائے ۔عدالت کے مطابق بلدیہ کے الیکشن کی میعاد کار یاتو ختم ہو چکی ہے یا پھر 31جنوری 2023 ختم ہوجائےگی۔اور ٹرپل ٹیسٹ کی ایکسر سائز کو پائیہ تکمیل تک پہنچنے میں خاطرخواہ وقت لگ سکتا ہے۔لہذا ریاستی حکومت اور الیکشن کمیشن جلد سے جلد انتخابات کرائے ۔ عدالت کا صاف کہنا ہے کہ جب تک سپریم کورٹ کی جانب سے لازمی ٹرپل ٹیسٹ شرائط کو ریاستی حکومت ہر لحاظ سے مکمل نہیں کر لیتی ،پسماندہ طبقے کیلئے کوئی ریزر ویشن نہیں دیا جائےگا۔لیکن یوپی حکومت عدالت کے حکم سے انحراف کرتے ہوئے یہ کہہ رہی ہے ایک کمیٹی تشکیل دے کر ٹرپل ٹیسٹ کا عمل مکمل کرے گی ۔اس لئے اس کا کہنا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اس معاملے میں عدالت عالیہ سے رجوع کرے گی اوراپنی بات رکھے گی لیکن وہ کسی بھی حال میں بغیر ریزر ویشن کے الیکشن نہیں کرائےگی!۔ اب گیند یوپی حکومت کے پالے میں ہے یا یوںکہیںکہ فیصلہ اتر پردیش حکومت کی صوابدید پر ہے کہ عدالت کی حکم عدولی سے خود کوکیسے بچائے اور پسماندہ ریزرویشن کے ساتھ کس طرح الیکشن کو ممکن بنائے۔
۔ اس میں دورائے نہیں کہ او بی سی ریزرویشن پر ایک بار پھر سیاست گرم ہوگئی ہے ۔کانگریس کو حکومت کا مذاق اڑانے کا موقع مل گیا ہے ۔اپوزیشن پارٹیاں مطالبہ کرنے لگی ہیںکہ بغیر ریزرویشن انتخابات نہیں ہونے چاہئیں ۔لہذا اتر پردیش کے سامنے ایک طرف کنواں ہے تو دوسری جانب کھائی۔در اصل پسماندہ طبقہ کا ریزر ویشن بی جے پی کیلئے سخت ناگزیر ہے توہیں ایک ٹیڑھی کھیربھی ہےجبکہ اس کی ناک کا سوا ل بناہے۔بی جے پی جوکہ پہلے ہی پسماندہ کو قریب کرنے میں تمام طرح کے جتن کررہی ہے اور اسنے بڑی مشکل سے پسماندہ کو دوسری پارٹیوں سے بدظن کرنے کیلئے جو کارڈ کھیلا تھا اس میں وہ خود کوکافی کامیاب محسوس بھی کررہی ہے ،ایسے میں سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا بی جے پی اتنی آسانی سے یہ قربانی دینے کیلئے تیار ہوجائے گی، کہ الیکشن میں پسماندہ کو نظر انداز کر دیا جائے! ۔ظاہر ہے دوسری پارٹیاںاس تاک میں بیٹھی ہیں کہ کب وہ اس کا سیاسی فائدہ اٹھالے جائیں۔ ایسی صورتحال یوپی حکومت کے لئے بڑا چیلنج بن گئی ہے۔قابل ذکر ہے کہ ٹرپل ٹیسٹ کے مطابق تین شرائط کو پوراکیا جانا ضروری ہے ۔پہلے یہ کہ کمیشن کی تشکیل ،دوسرے اس بات کا تعین کہ ریزرویشن پانے والے فرقہ کی تعداد کیا ہے ، اس کا اعداد شمار کیا جائے۔تیسری سب سے اہم بات یہ ہے کہ ریزر ویشن اس بنیاد پر طے ہو کہ وہ 50 فیصد سے زیادہ نہ ہو۔اس لئے تینوں شرائط کو کم سے کم مدت میںپورا کرنا ایک مشکل عمل ہے اور اب اس کا وقت تقریبا نکل چکا ہے ۔اس لئے یوپی حکومت کو چاہئے کہ وہ یا تو سپریم کورٹ کے مطابق کام کرےیا بغیر کسی تاخیراور حیلے بازی ،وہ شہری باڈی کے انتخابات کرانے کا قدم اٹھائے لیکن سیاسی فائدہ نہ اٹھانے کی کوشش کرے۔












