مقبوضہ بیت المقدس : اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ غذائی تحفظ کی نگرانی کرنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ غزہ شہر میں جنگ کے بعد سے پہلی بار قحط کی تصدیق ہوئی ہے۔انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفکیشن (آئی پی سی) نے اس کی درجہ بندی کو پانچویں مرحلے تک بڑھا دیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ غزہ میں حالات شدید غذائی عدم تحفظ کے پیمانے کی بلند ترین اور بدترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ گورنریٹ، جس میں غزہ شہر اور اس کے آس پاس کے علاقے شامل ہیں، میں قحط کی تصدیق ہو چکی ہے اور ستمبر کے آخر تک دیر البلاح اور خان یونس تک ’تباہ کن حالات‘ پھیلنے کا امکان ہے۔واضح رہے کہ کسی علاقے میں قحط پڑنے کا فیصلہ انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن نامی اقوام متحدہ کے پیمانے کا استعمال کرتے ہوئے کیا جاتا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں پانچ لاکھ سے زائد افراد کو ’بھوک، غربت اور موت‘ کا سامنا ہے۔تاہم اسرائیل کا آئی پی سی کی اس رپورٹ پر کہنا ہے کہ وہ اس میں سامنے آنے والے نتائج کو سختی سے مسترد کرتا ہے، خاص طور پر غزہ شہر میں قحط کے دعوے کو۔
اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے آئی پی سی کے جائزے کو یکطرفہ قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ ’غزہ میں وسیع پیمانے پر انسانی ہمدردی کی کوششوں‘ کو نظر انداز کرتا ہے۔غذائی تحفظ کی نگرانی کے لیے اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ تنظیم، جو خود سرکاری طور پر قحط کا اعلان نہیں کرتی تاہم گزشتہ ماہ اس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ ‘غزہ کے رہنے والوں کو قحط کی بدترین صورت حال کا سامنا ہے۔حماس کے زیر انتظام غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک 271 افراد قحط اور غذائی قلت کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 112 بچے بھی شامل ہیں۔اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے آئی پی سی کی جمعے کے روز سامنے آنے والی رپورٹ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایسا لگتا ہے کہ جب غزہ کے تشویش ناک حالات کو بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں بچے تو ایسے میں ایک نیا لفظ سامنے آجاتا ہے جیسے کہ اب ہوا ہے، اب جو لفظ یا سامنے آیا ہے وہ ’قحط‘ کا ہے۔انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ ’یہ کوئی معمہ نہیں ہے بلکہ یہ اخلاقی گراوٹ اور اور خود انسانیت کی ناکامی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ’قحط صرف خوراک کا نہیں ہے بلکہ انسانی بقا کے لیے درکار نظام اور ایسے اداروں کا بھی ہے کہ جو ان حالات میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔‘
اقوام متحدہ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی واضح ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو خوراک اور طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنائے۔انھوں نے کہا کہ ہم اس صورتحال کو بغیر کسی روک ٹوک کے جاری رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ مزید بہانے نہیں، کارروائی کا وقت کل نہیں آج اور ابھی ہے۔ ہمیں فوری طور پر جنگ بندی، تمام یرغمالیوں کی فوری رہائی اور مکمل اور بلا روک ٹوک انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
رفاہ میں آئی پی سی کا کہنا ہے کہ اس نے اس علاقے کا تجزیہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ پٹی کے جنوب میں واقع یہ علاقہ اب ’بڑے پیمانے پر غیر آباد‘ ہے۔اپنی رپورٹ میں آئی پی سی نے آئندہ مہینے یعنی ستمبر کے دوران غزہ کی پٹی میں سامنے آنے والے حالات سے متعلق بھی پیش گوئی کی ہے۔آئی پی سی نے آنے والے دنوں سے متعلق کہا ہے کہ غزہ کے متعدد علاقوں میں بڑے پیمانے پر بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے، جن میں سانس کی شدید بیماریاں شامل ہیں ان کے علاوہ غذائی قلت مناسب اور صاف پانی اور حالات میسر نہ ہونے کی وجہ سے پانی والے اسہال، خونی اسہال، خسرہ اور پولیو جیسے امراض پھوٹ سکتے ہیں۔اسرائیل کی وزارت خارجہ نے آئی پی سی پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے حماس کی جعلی مہم کو پورا کرنے کے لیے ایک من گھڑت رپورٹ شائع کی ہے۔اس میں تنظیم پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے اسرائیل کے خلاف جھوٹے الزامات عائد کرنے کے لیے اپنے ہی قوانین کو توڑ مروڑ کر پیش کیا اور اپنے ہی معیار کو نظر انداز کیا۔اسرائیل کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ آئی پی سی نے ’اپنے عالمی معیار کو تبدیل کیا‘، قحط کا سامنا کرنے والوں کی حد کو 30 فیصد سے گھٹا کر 15 فیصد کر دیا اور ساتھ ہی ’شرح اموات کے دوسرے معیار کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔تاہم اسرائیل کی جانب سے سامنے آنے والے ان الزامات کو آئی پی سی کی جانب سے مسترد کیا گیا ہے۔












