دمشق (یو این آئی) شام کے صدر احمد الشرع نے اعلان کیا ہے کہ شامی اور اسرائیلی وفود دو طرفہ سکیورٹی معاہدے سے متعلق مذاکرات میں آگے بڑھ رہے ہیں الشرع نے اتوار کو صحافیوں سے ایک ملاقات کے دوران کہا کہ دو طرفہ معاہدے کی طرف پیش رفت ہو رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ "ملک کے مفاد میں کسی بھی معاہدے یا فیصلے کو اپنانے میں ہچکچاہٹ نہیں ہو گی شامی صدر نے مزید وضاحت کی کہ زیرِ بحث معاہدہ 1974 میں طے شدہ شامی اور اسرائیلی افواج کے درمیان جولان کی مقبوضہ شامی پہاڑیوں پر کنٹرول لائن کی واپسی پر مبنی ہو گا۔اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے درمیان معاشی انضمام کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ وہ کسی ایسے فیصلے یا معاہدے کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں کریں گے جو شام اور خطے کے مفاد میں ہو۔ یہ بات مقامی میڈیا نے بتائی۔لبنان کے بارے میں بات کرتے ہوئے شامی صدر نے کہا کہ "ایسے لوگ موجود ہیں جو حزب اللہ کے ساتھ حساب چکانے کے لیے نئے شام کا سہارا لینا چاہتے ہیں”، تاہم نئی قیادت اس سے دور ہے۔ الشرع کا کہنا تھا "میں لبنانی – شامی تعلقات کی نئی تاریخ رقم کرنے اور ماضی کی وراثت سے یادداشت کو آزاد کرنے کا خواہاں ہوں۔ کچھ ہمیں دہشت گرد اور وجودی خطرہ بنا کر پیش کرتے ہیں اور کچھ نئے شام کو حزب اللہ کے خلاف حساب چکانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہم نہ یہ ہیں اور نہ وہ۔”یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ، سابق صدر بشار الاسد کے بڑے حامیوں میں شامل رہی اور برسوں تک خانہ جنگی میں شامی حکومت اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں کے شانہ بشانہ لڑتی رہی۔یاد رہے کہ شامی وزیر خارجہ اسعد الشيبانی نے 20 اگست کو پیرس میں اسرائیلی وزیر برائے تزویراتی منصوبہ بندی رون ڈیرمر سے ملاقات کی تھی۔گزشتہ سات ماہ سے اسرائیلی فوج جبل الشیخ اور جنوبی شام کے بعض علاقوں میں 15 کلومیٹر چوڑی ایک سکیورٹی پٹی پر قابض ہے اور 40 ہزار سے زائد شامی باشندوں پر مشتمل علاقے پر کنٹرول قائم کیے ہوئے ہے۔واضح رہے کہ اسرائیل 1967 سے جولان کی پہاڑیوں کے بیشتر حصے پر قابض ہے اور 2024 کے اواخر میں سابق شامی حکومت کے خاتمے کے بعد اس نے اپنے قبضے کی حدود کو مزید وسعت دی۔












