تہران (یو این آئی) ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے دوٹوک الفاظ میں واضح کردیاکہ ایران امریکہ کے مطالبات کے آگے کسی صورت نہیں جھکے گا۔ایرانی سپریم لیڈر نے تہران میں ایک مذہبی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےکہاکہ وہ ایران کو فرمانبردار بنانےکے خواہاں امریکہ کے خلاف سختی سے کھڑے ہوں گے۔جیو نیوز کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر نے امریکہ سے براہِ راست مذاکرات کی تجویز مسترد کردی، انہوں نےکہاکہ دھمکیوں میں امریکہ سے بات چیت نہیں ہو سکتی اور وہ لوگ جو ہمیں امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی دھمکیاں دیتے ہیں، وہ حقیقت سے ناواقف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمنوں نے ایرانی عوام اور ریاست کے رشتے کو کمزور سمجھنے میں غلطی کی۔سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ دشمنوں نے فوجی حملوں میں ناکامی کے بعد سمجھ لیا کہ ایران کو جنگ سے زیر نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اسلامی نظام کو جھکنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ سپریم لیڈر کا حالیہ بیان ایسے وقت میں سانے آیا جب ایران اور یورپی رہنماؤں نے جمعہ کو تہران کے جوہری پروگرام پر باضابطہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا۔یاد رہےکہ ایران نے امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات اس وقت معطل کردیے تھے جب امریکہ اور اسرائیل نے جون میں 12 روزہ جنگ کے دوران تہران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی۔












