نئی دہلی :اتر پردیش اسٹیٹ حج کمیٹی سے دوبار منتخب مرکزی حج کمیٹی کے سابق ممبر حافظ نوشاد احمد اعظمی نے مرکزی وزیر حج محترمہ اسمتی ایرانی سے سخت مطالبہ کیاہے کہ وہ ملک کے عازمین کے مفاد ات کے تحت سنجیدگی دکھائیں اور بلاتاخیر حج 2023 کا فارم ایشو کرائیں۔مسٹر اعظمی نے آج ایک بیان میں مرکزی وزیر حج مسزمحترمہ اسمتی ایرانی پر حج کے تئیں غیر سنجیدہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ محترمہ کو حج کا چارج جولائی میں مل گیا تھا اور روایت یہ رہتی ہے کہ حج ختم ہونے کے بعد سعودی عرب سمیت جن جن ملکوں سے حاجی جاتے ہیں وہاں دوسرے حج کی تیاریاں شروع کردی جاتی ہیں مگر یہاں پر 12 نومبر کو حج کانفرنس بلائی گئی اور حج کی شروعات کی گئی جس میں طرح طرح کے پروپیگنڈے ہوئے کہ حج سستاہورہاہے اور ہرطرح کی بدعنوانی سے پاک حج ہوگا مگر محترمہ وزیر اور وزارت کی طرف سے اس طرح کا کوئی عمل نہیں ہورہاہے جس سے حج سستا ہو اور شفافیت ہو کیوں کہ پہلے ہی غیر قانونی طریقے سے 8 رکنی کمیٹی بناکر برسر اقتدار پارٹی کے عہدہ داران کو حج کمیٹی کا چیئرمین اور وائس چیئر مین بنادیا گیا اور اس طرح کٹھ پتلی کی طرح سے وہ لوگ حکومت کے اشارے پر کام کررہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ قدیمی روایت رہی ہے کہ حج کانفرنس حج کمیٹی آف انڈیا کے ذریعہ بلائی جاتی ہے اور اس کی منس کی کارروائی اور رپورٹ وغیرہ حج کمیٹی کے افسران کے ذریعہ جاری کی جاتی ہے مگر اس روایت کو بالائے طاق رکھ کر کانفرنس کی کارروائی رپورٹ وزارت نے بہت تاخیر سے اب جاری کیاہے اس میں بھی کسی طرح کی شفافیت نظر نہیں کیوں کہ کارروائی رپورٹ میں کس کی طرف سے کیا مشورے آئے ہیں وہ واضح نہیں ہے اور ایک سازش کے تحت حکومت کی نظر میں جو چیزیں تھیں جیسے حج سستا ہونے کے نام پر 40 دن کے بجائے 20 دن کے بارے میں غور کرنا جبکہ یہ قطعی طور سے سستا نہیں ہوسکتا کیوں کہ وہاں جو رہائشی مکان ملتاہے وہ دس دن کیلئے لیں یا ایک مہینہ کے لیے وہ پورے سیزن کا کرایہ ہوتا ہے مدینہ میں آپ ایک دن رہیں یاتین دن اس کا بھی کرایہ اتنا ہی دینا ہے ضروری ارکان کیلئے بسیں اتنی ہی بار چلنی ہیں اس لیے معصوم عازمین حج کو بہکانے جیسی بات ہے انھوں نے کہاکہ سول سروسیز کی کوچنگ جو حج کمیٹی آف انڈیا میں چل رہی ہے وہ باضابطہ کمیٹی نے اتفاق رائے سے قرار داد پاس ہوئی ہے اور وزارت سے اس کی منظوری لی ہے اس کا الگ ایک بجٹ ہے۔مسٹر اعظمی نے کہاکہ ہم نے اس سلسلے میں 18 نومبر کو ایک تفصیلی خط وزیر موصوفہ اور وزارت کو تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا تھا مگر حج سستا کرنے کا یہ کون سا طریقہ ہے کہ مکہ میں مکان جب دیر سے ہم جائیں گے تو ہمیں مہنگا ملے گا۔ روایت کے مطابق نومبر کے پہلے ہفتہ میں حج کا فارم آجاناچاہیے تھا اب دو مہینہ کی تاخیر ہونے کے بعد بھی ابھی تک کچھ طے نہیں ہے کہ یہ فارم کب آئیں گے انھوں نے کہا کہ وزیر موصوفہ حج ایکٹ 2002 کی رو سے اور قدیمی روایت کو نظر میں رکھتے ہوئے جو سوسالہ ادارہ حج کمیٹی آف انڈیا ہے اس کا لحاظ رکھ کر ہی ملک کے عازمین حج کو سہولت پہنچائی جاسکتی ہے۔ انھوں نے کہا حج ایکٹ 2002 کی رو سے حج کمیٹی آف انڈیا ایک خالص مسلم ادارہ ہے اور اس کے اثاثہ کی مالک کمیٹی ہے اور کمیٹی کھرد برد نہ کرپائے اس کیلئے حکومت کے چار افسران معمور کیے گئے ہیں مگروزیر اور وزارت حج ایکٹ اورقدیمی روایات کی توہین کررہے ہیں۔مسٹر اعظمی نے کہاکہ حج ہمارا غیر ملکی سفر ہے اس لیے حکومت کی ہمیں انتظام کے ماتحت رہنا ہے لیکن حکومت ہمارے اس ادارہ پر قبضہ نہیں کرسکتی مسٹر اعظمی نے کہاکہ حکومت کو یہ معلوم ہوناچاہیے کہ یہ سارے معاملات عدالت عظمیٰ کے علم میں ہے اور ذرائع ابلاغ کے ذریعہ عوام کی عدالت بھی دیکھ رہی ہے انھوں نے مؤدبانہ اپیل کیاکہ وزیر موصوفہ اس سلسلے میں سنجیدگی سے مظاہرہ کرتے ہوئے حج 2023 کو ایک مثالی حج بنانے کیلئے کام کریں جس سے ملک میں ہی نہیں غیر ممالک میں بھی ان کی اوران کی حکومت کی طرف سے ایک اچھا پیغام جائے۔












