رانچی:دورِ جدید کے عظیم بلے باز ویراٹ کوہلی نے جنوبی افریقہ کے خلاف ہندوستان کی 17 رنز سے فتح میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر میچ کے لیے 120 فیصد تیاری کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں۔ اپنے 17 سالہ بین الاقوامی کیریئر میں 300 سے زائد ون ڈے اور 220 سے زیادہ دیگر فارمیٹس کے میچ کھیلنے کے باوجود، ویراٹ کوہلی رانچی میں پہلا ون ڈے شروع ہونے سے کافی پہلے پہنچ گئے تھے۔ عالمی کرکٹ کے تجربہ کار کھلاڑی ہونے کے باوجود انہوں نے حالات کو سمجھنے کے لیے اضافی بلے بازی کی مشق کی۔ ان کا پرانا اصول-اپنا 120 فیصد دینا آج بھی کامیاب رہا اور نتیجتاً انہوں نے اپنی 52ویں ون ڈے سنچری اسکور کی، جو ہندوستان کو پہلے ون ڈے میں 17 رنز کی فتح دلا گئی۔ ون ڈے میں اپنا 44واں پلیئر آف دی میچ” حاصل کرنے کے بعد کوہلی نے کہا:”میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اگر میں کسی میچ کے لیے پہنچ رہا ہوں تو 120 فیصد تیاری کے ساتھ پہنچتا ہوں۔ میں یہاں جلد آیا تاکہ حالات کو سمجھ سکوں۔ دن میں دو بیٹنگ سیشن اور شام میں ایک سیشن کرتا ہوں تاکہ میری تیاری مکمل ہو جائے۔ میچ سے ایک دن پہلے میں نے آرام کیا کیونکہ میں 37 سال کا ہوں اور ریکوری بھی ضروری ہے۔ میں میچ کو اپنے دماغ میں واضح طور پر دیکھتا ہوں اور مجھے لگتا ہے کہ میں اتنا ہی شارپ اور متحرک ہوں کہ فیلڈرز اور تیز گیندبازوں کو چیلنج دے سکوں۔کوہلی نے مزید کہاآج میچ میں ایسے کھیل کر بہت اچھا لگا۔ پچ پہلے 20-25 اوورز تک اچھی تھی، پھر تھوڑی سست ہو گئی۔ میں نے بس سوچا کہ میدان میں جا کر کھیلوں اور گیند کو ماروں۔ کرکٹ کھیلنے کا اصل مزہ یہی ہے اور میں یہی محسوس کرنا چاہتا تھا۔ جب شروعات ملی اور حالات بنے، تو برسوں کا تجربہ کام آیا ۔ہندوستان نے پہلے بیٹنگ کی۔ یسشوی جیسوال 18 رنز پر آوٹ ہوئے تو چوتھے اوور میں کوہلی نے بیٹنگ سنبھالی اور روہت شرما کے ساتھ ایک شاندار سنچری شراکت قائم کی۔ انہوں نے 48 گیندوں میں نصف سنچری، 102 گیندوں میں سنچری اور 120 گیندوں میں 135 رنز بنائے، جن میں سات چھکے شامل تھے۔ یہ ون ڈے میں ان کے کیریئر کی صرف پانچویں بار ہے جب انہوں نے کسی میچ میں پانچ یا زیادہ چھکے لگائے۔ہندوستان نے رانچی کے بھرے ہوئے اسٹیڈیم میں 349 رنز بنائے۔ یہ ویراٹ کوہلی کا اس سال کا دوسری ون ڈے سنچری تھی، پہلی انہوں نے دبئی میں پاکستان کے خلاف بنائی تھی ۔ویراٹ نے کہا:”جب آپ 300 کے قریب ون ڈے اور 15-16 سال میں اتنا کرکٹ کھیل چکے ہوں، تو بس یہ ضروری ہے کہ کھیل سے جڑے رہیں۔ اگر آپ نیٹس میں ڈیڑھ دو گھنٹے بغیر رکے بیٹنگ کر سکتے ہیں، تو سب ٹھیک ہے۔ اگر فارم خراب ہو تو میچوں کی ضرورت پڑتی ہے، لیکن جب تک آپ گیند کو اچھی طرح مار رہے ہیں اور اچھا کرکٹ کھیل رہے ہیں، میرے تجربے میں سب کچھ فٹنس، ذہنی تیاری اور کھیل کے جوش سے سنبھل جاتا ہے۔”انہوں نے مزید کہا”میں زیادہ تیاری میں یقین نہیں رکھتا۔ میری کرکٹ ہمیشہ ذہنی رہی ہے۔ میں ذہنی طور پر تیار اور جسمانی طور پر مضبوط رہنے کے لیے روزانہ محنت کرتا ہوں۔ یہ اب کرکٹ سے تعلق نہیں رکھتا، بلکہ میری زندگی کا حصہ ہے۔ جب فٹنس اور ذہن ٹھیک ہو اور کھیل دماغ میں صاف نظر آئے، تو ایک دن جب شروعات ملتی ہے، رنز خود بخود آ جاتے ہیں۔












