پانچ سال قبل سن2016 میں جس نوٹ بندی پر ملک کا ایک بڑا طبقہ سخت ناراض تھا اور اس فیصلے کے خلاف ملک کا اپوزیشن سڑکوں پر اترا ہوا تھا اور جس کے خلاف عدالت عالیہ میں تقریبا پانچ درجن درخواستیں دائر کی گئی تھیں ،ا ن کو عدالت نے نہ صرف خارج کر دیابلکہ نوٹ بندی کے مرکزی حکومت کے فیصلے کو درست قرار دیاہے ۔عدالت عالیہ کی پانچ ججوں کی بنچ کے چار ججوں کی اکثریت سے آئے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حکومت اور آربی آئی کے باہم مشورے سے نوٹ بندی کا فیصلہ لیا گیا تھا اس سلئے اسے غلط نہیں کہا جاسکتا۔ اس طرح عدالت عالیہ میں پچھلے کئی ماہ سے 58درخواستیں دائر کی گئی تھیں ان کو خار ج کردیا گیا۔عدالت کے اس فیصلے کے بعد اب سیاست گرم ہوگئی ہے ۔بھارتیہ جنتا پارٹی کانگریس پر حملہ بولتے ہوئے سو۱ر ہے ،بی جے اسے ملک کے مفاد میں بتا رہی ہے جبکہ کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ کہنا مکمل طور پر گمراہ کن اور غلط ہے کہ سپریم کورٹ نے نوٹ بندی کو جائز قرار دیا ہے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے اپنے ایک تنقیدی بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ آیا نوٹ بندی کے اعلان سے پہلے ریزرو بینک ایکٹ 1934 کی دفعہ 26(2) کو صحیح طریقے سے لاگو کیا گیا تھا۔ جبکہ انہوں نے کہاکہ نوٹ بندی ایک تباہ کن فیصلہ تھا ،جس نے معاشی ترقی کو روک دیا اور لاکھوں ملازمتیں ضائع ہوگئیں۔دوسری طرف جے رام رمیش کے مطابق، عدالت کے فیصلے میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ نوٹ بندی کے مقاصد پورے ہوئے یا نہیں۔ نوٹ بندی پر سپریم کورٹ کا فیصلہ صرف طریقہ کار تک محدود ہے اور اس کا نوٹ بندی کے نتائج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دوسری طرف کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے بھی نوٹ بندی کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کی طرف سے نافذ کی گئی نوٹ بندی کے نتیجے میں 120 لوگوں کی جانیں گئیں، کروڑوں لوگوں کی نوکریاں چلی گئیں، غیر منظم شعبہ تباہ ہوا، کالا دھن کم نہیں ہوا، جعلی نوٹوں میں اضافہ، مودی سرکار کا نوٹ بندی کا فیصلہ بھارتی معیشت پر ہمیشہ گہرا زخم بنا رہے گا۔ادھر بی جے پی نے اسے ملک کے مفاد میں بتاتے ہوئے حکومت کا دفاع کیا اور سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے تاریخی قرار دیا۔اس کے ساتھ کانگریس لیڈر راہل گاندھی سے پوچھا کہ کیا وہ نوٹ بندی کے خلاف مہم چلانے پر قوم سے معافی مانگیں گے۔ سابق مرکزی وزیر اور سینئر بی جے پی لیڈر روی شنکر پرساد نے کہا کہ نوٹ بندی نے دہشت گردی کی ریڑھ کی ہڈی کو توڑنے میں اہم کردار ادا کیا،اس لئے کہ یہ فیصلہ ملک کے مفاد میں لیا گیا تھا، جس کی وجہ سے معیشت بھی صاف ستھری ہو گئی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے نوٹ بندی کے فیصلے کی حمایت میں جاری بیانوں کو کانگریس کسی طور سے قبول کرنے تیار نہیں ہے اور وہ اب بھی کہہ رہی ہے کہ نوٹ بندی کا جو مقصد تھا اس میں حکومت کامیاب نہیں ہو سکی ہے ،ظاہر ہے اس کا یہ الزام غلط نہیں لگتا ۔سوال یہ ہرگزنہیں ہے کہ فیصلہ درست تھا یا ناہیں ،سوال یہ ہے ضرور اٹھ رہا ہے کہ کہ کیا اس کا مقصد پورا ہوسکا یا نہیں ؟جس طرح سے حکومت علیٰ الاعلان اور بہ بانگ دہل کہہ رہی تھی کہ نوٹ بندی دہشت گردی کی مالی معاونت، جعلی نوٹوں اور منی لانڈرنگ وغیرہ کو روکنے کیلئے کی گئی ہے ،اس میں کامیابی دور کی بات بلکہ سوال یہ ہے کہ ملک کی معیشت پر اس کا جو اثر پڑا اس کےلئے ذمہ دار کسے ٹھہرایا جائے۔لوگوں پر جس طرح سے مصیبت کا پہاڑ ٹوٹا اور بعض کی قطاروں میں کھڑے جانیں چلی گئیں کیا یہ قدم ناقص منصوبہ بندی کی علامت نہیں ؟جبکہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس سے ملک میں کالا دھن واپس آئے گا ،دعویٰ یہ بھی کیا گیا کہ دہشت گردی کو لگام لگے گی ،لیکن اس کی حقیقت بھی سب کے سامنے ہے ۔ایک خبر کے مطابق جموں وکشمیر میں محض ایک سال میں پونے دوسو دہشت گرد مارے گئے اور جسے پولس اپنی بڑی کامیابی کے طور پر دیکھ رہی ہے ،اس کامطلب کہ اس سے پہلے ان کی تعداد کہیں زیادہ تھی؟۔ کشمیر پولس اے ڈی جی پی کے مطابق صرف رواں سال 2022کے دوران دہشت گردانہ حملوں میں 26مار دئے گئے ۔اب گزشتہ پانچ سال کا ریکارڈ کی ہوگا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔بلا شبہ اسکیمیں اور حکومت کے فیصلے عوام کے حق میں اور ملک کے حق میں لئے جاتے ہیں۔لیکن نوٹ بندی کے فیصلے کے بعد جو نتائج سامنے آئے وہ اس قدر ہنگامی ثابت ہوئے کہ ان کو کنٹرول کرنا حکومت کیلئے مشکل ہوگیا ،وزیر اعظم مودی کو ٹی وی چینل پر عوام سے یہ کہنا پڑا کہ میں آپکا درد اور مشکل سمجھ سکتا ہوں ، مجھے پچاس دن اور دیجئے!۔سال 13نومبر 2016کے دن گوا میں اپنی ایک اسپیچ کے دوران مودی نے عوام کو بھروسہ میں لینے کی کوشش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے یہ بھی کہا تھا کہ مجھے پچاس دن کی مہلت کے بعد پھر عوام میرے لئے جو چاہیں سزا تجویز کریں!۔
اس میں شک نہیں کہ عدالت کا جو بھی فیصلہ ہو قابل قبول ہونا چاہئے ،لیکن سوال یہ بھی جائز ہے کہ حکومت نوٹ بندی کے مقاصد کو حاصل کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوئی!۔بلاشبہ نوٹ بندی کے بعد ملک میں جس طرح سے ہنگامی حالات پیدا ہوئے وہ پریشان کرنے والے تھے۔اس دوران غریب لوگوں تک کی تمام جمع پونجی تک بنکوںمیں جمع کرالی گئی تھی جس سے یومیہ مزدوری کرنے والا سخت بوکھلا ہوگیا ۔ہر عمر کے لوگ بینکوں کے باہ رکئی کئی دن قطاروں میں کھڑے نظر آئے ۔جن میں خواتین ،بچے اور بوڑھے بھی تھے ،جس میں کئی بیمار پڑے یا جان سے ہاتھ دھو بیٹھے! لیکن اس کا احساس شاید کسی کو نہیں ہوا!۔ لیکن اس عمل کے باوجود کہیں کوئی کالا دھن سامنے نہیں آسکا جبکہ تقریبا پورے نوٹ بنکوں میں واپس لوٹ آئے۔اس لئے سوال یہ تھا کہ بلیک منی تھی تو وہ کہاں گئی، کیوں سامنے نہیں آئی،اس کا کوئی ذکر کہیں کیوں نہیں ہے؟دہشت گردی پر کوئی لگام کیوں نہیں لگ سکی ،ہمارے فوجی جوان اب بھی کیوں شہید ہو رہے ہیں؟۔نئے دہشت گرد کون ہیں جبکہ پولس کادعویٰ ہے کہ وہ پچھلے سالوں میں کشمیر کے نوجوانوں کو راستے پر لانے اور انہیں دہشت گردی سے باز رکھنے میں کامیاب ہوئی ہے !۔اس لئے ان سب دعوں اور الزامات کے درمیان اس بات کا احتساب کیوں نہیں ہونا چاہئے کہ نوٹ بندی کے مطلوبہ مقاصد میں ہم کتنا کامیاب ہوپائے اور ناکام ہوئے تو کیوں ہوئے ،یہ بھی جائزہ لیا جائے کہ اگر نوٹ بندی کے فیصلے سے معیشت صاف ستھری ہوئی ہے تو ملک میں لوگ اب تک بے روزگار کیسے بیٹھے ہیں؟۔












