دیوبند،سماج نیوزسروس: جامعہ مظاہر علوم سہارنپور میں سالانہ تحفظ ختم نبوت اجلاس مدرسہ کے امین عام و نائب ناظم مفتی سید محمد صالح الحسنی کی صدارت میں منعقد ہوا ۔دارالعلوم دیوبند کے استاد حدیث مولانا افضل حسین کیموری مہمان خصوصی رہے ۔ اجلاس میں شعبہ تحفظ ختم نبوت کے طلبہ نے اپنی سالانہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور فتنہ قادیانیت کے تعاقب میں مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور کا کردار جیسے عناوین پر طلبہ نے تقاریر کیں اور دور حاضر کا نیا فتنہ ایکس مسلم کے سلسلہ میں بہترین مکالمہ پیش کیا ۔ اجلاس کی نظامت مولوی محمد نوازش بسی راؤ نے اورقاری احمد شریف کرناٹکی کی تلاوت کلام پاک اور مولوی عبد الوارث سہارنپوری کی نعت پاک سے جلسہ کا باضابطہ آغاز ہوا۔ اس دوران طلبہ اپنی بہترین علمی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ۔ مدرسہ کی طرف سے شعبہ کے تمام طلبہ کو فی طالب علم 1500؍روپئے کا انعام بھی دیا گیا ۔طلبہ کے پروگرام کے بعد دارالعلوم دیوبند سے تشریف لائے ہوئے مہمان مکرم مولانا افضل حسین کیموری نے مدرسہ کی مرکزیت واہمیت کو اجاگر کیا اور پروگرام کو لائق ستائش قرار دیتے ہوئے گاؤں دیہات میں آزمائشوں کا سامنا کرتے ہوئے طلبہ کو کام کرنے کی ترغیب دی انھوں نے علم کا حقیقی سرچشمہ وحی الہٰی کو قرار دیتے ہوئے طلبہ کو کامل انہماک سے علم حاصل کرنے کی ترغیب دی ۔صدر جلسہ مفتی سید محمد صالح الحسنی نے شہر و اطراف شہر سے تشریف لائے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عقیدہ ختم نبوت کو دین کی اساس قرار دیا، اور اسے کامل نعمت بتلاتے ہوئے نئی نبوت کو زحمت اور فتنہ بتلایا۔ناظم مدرسہ وشیخ الحدیث مفتی محمد طاہر نے طلبہ کو ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہوئے فرمایا کہ یہاں سیکھ کر اپنے اپنے علاقوں میں تحفظ ختم نبوت کا کام کریں۔اجلاس میں شہر وقرب وجوار سے علماء ، ائمہ مساجد ، عوام ومتولیان بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔اجلاس کو کامیاب بنانے میں مولانا محمد اکرم بستوی، مولانا محمد جاوید سہارنپوری، مفتی شعیب احمد، مولانا جمیل احمد ، مولانا سلیم احمد ، قاری محمد معاذ، قاری محمد طاہر ، نے اہم کردار ادا کیا، شرکاء اجلاس میں بطور خاص پیر جی مولانا سید محمد عثمان ، مولانا محمد احمد ، مولانا خالد سعید ، مولانا محمد حیان ، قاری صلاح الدین ، قاری مسعود احمد موجود رہے۔ناظم مدرسہ مولانا مفتی محمد طاہر کی دعا پر اجلاس کا اختتام ہوا۔












