سیتامڑھی : اتراکھنڈ کے بی جے پی لیڈر گردھاری لال ساہو کی جانب سے خواتین کے بارے میں دیے گئے متنازع بیان نے ریاست اور ملک کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ان کے بیان نے بہار ریاست کو لے کر بھی تنازع کھڑا کر دیا، جب انہوں نے کہا کہ بہار میں ’’20–25 ہزار میں لڑکیاں مل جاتی ہیں‘‘۔ اس بیان کے بعد سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔گردھاری لال ساہو کا متنازع بیان:بی جے پی لیڈر گردھاری لال ساہو نے حال ہی میں ایک عوامی پروگرام میں خواتین کے حوالے سے توہین آمیز بیان دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’بہار میں 20–25 ہزار میں لڑکیاں مل جاتی ہیں‘‘۔ یہ بیان نہ صرف خواتین کی عزت و وقار پر حملہ تھا بلکہ بہار ریاست کو بدنام کرنے کی کوشش بھی تھی۔ اس بیان نے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں شدید ردِعمل پیدا کیا۔ کئی خواتین تنظیموں اور اپوزیشن رہنماؤں نے اسے قابلِ مذمت اور سماج کو تقسیم کرنے والا بیان قرار دیا۔راجد رہنماؤں کا احتجاج:سنیل کشواہا (راجد ضلع صدر اور سابق رکنِ اسمبلی):راشٹریہ جنتا دل کے ضلع صدر اور سابق ایم ایل اے سنیل کشواہا نے گردھاری لال ساہو کے بیان کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیان خواتین کی توہین ہے اور کسی بھی مہذب معاشرے میں ایسی ذہنیت قابلِ قبول نہیں۔ گردھاری لال ساہو کا بیان نہ صرف خواتین کے خلاف ہے بلکہ بہار ریاست کو بدنام کرنے کی سازش بھی ہے۔ بہار کو اس طرح پیش کرنا بالکل غلط اور ناقابلِ قبول ہے۔اندرانی رائے (راجد خاتون رہنما):راجد کی خاتون رہنما اندرانی رائے نے اس بیان پر خاص طور پر سخت احتجاج درج کرایا۔ انہوں نے کہا کہ گردھاری لال ساہو کا بیان خواتین مخالف اور قابلِ مذمت ہے۔ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ بی جے پی نے سماج میں خواتین کے احترام کے بارے میں کچھ نہیں سیکھا۔ اس سے بھی زیادہ سنگین بات یہ ہے کہ انہوں نے بہار جیسی ریاست کو اس طرح بدنام کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے بیانات سماجی یکجہتی اور خواتین کے بااختیار بنانے کے خلاف ہیں۔












