صادق شروانی
نئی دہلی، سماج نیوز سروس:ورلڈ پیس ہارمنی کے چیئرمین حاجی شکیل سیفی نے بالی ووڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان کے خلاف مبینہ جارحانہ بیان بازی اور ٹرولنگ پر سخت اعتراض کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ حقائق اور ذمہ داری کے بغیر نفرت پھیلا رہے ہیں جو ملکی اتحاد اور آئین دونوں کے خلاف ہے۔حاجی شکیل سیفی نے سوال کیا کہ کوئی ایک فنکار پر بنگلہ دیش یا بین الاقوامی مسائل پر اعتراضات کا الزام کیوں لگا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کرکٹ سے متعلق فیصلے بی سی سی آئی کرتا ہے، شاہ رخ خان نہیں۔انہوں نے کہا کہ شاہ رخ خان نہ صرف ہندوستان کے سب سے بڑے ستاروں میں سے ایک ہیں بلکہ وہ ایک زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے شہری بھی ہیں اور سماجی خدمت اور فلاحی کاموں میں ان کی شراکتیں مشہور ہیں۔ اس کے باوجود ان کے اور ان کے خاندان کے خلاف جو زبان استعمال کی جا رہی ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔حاجی شکیل سیفی نے کہا کہ ہندوستان آئین کے تحت چلنے والا ملک ہے، کسی کے ذاتی خیالات یا نفرت سے نہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی طاقت اس کی گنگا جمونی ثقافت میں ہے، جہاں ہندو، مسلمان، سکھ اور عیسائی سبھی مل کر ہندوستان کو مضبوط کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جہاں بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف مظالم کے خلاف احتجاج جائز ہے، وہیں ہر فرد کو مذہب کی عینک سے دیکھنا غلط ہے۔حاجی شکیل سیفی نے اپیل کی کہ اختلاف ہو سکتا ہے زبان اور سلیقہ برقرار رکھا جائے۔ فنکاروں کو نشانہ بنا کر نفرت پھیلانا قومی مفاد میں نہیں۔جئے ہند، جئے بھارت” کے نعرے کے ساتھ انہوں نے اتحاد، امن اور آئین کے احترام کی ضرورت کو دہرایا۔












