سید پرویز قیصر
سڈنی میں شروع ہوئے پانچویں ایشیز ٹسٹ کے پہلے دن انگلینڈ نے سریز میں پہلی مرتبہ شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کیا اور بارش اور کم روشنی کی وجہ سے جب پہلے دن کا کھیل ختم ہوا تھا تواس نے45 اوور میں تین وکٹ پر 211 رن بنائے تھے۔ جوروٹ103 بالوں پر آٹھ چوکوں کی مدد سے آوٹ ہوئے بغیر72 رن پر کھیل رہے تھے۔ اپنی اس اننگ کے دوران وہ آسڑیلیا کے خلاف چھٹے سب سے زیادہ رن بنانے والے بلے باز بن گئے۔ وہ میچ کے دوسرے دن پانچویں سب سے زیادہ رن بنانے والے بلے باز بن سکتے ہیں۔
جو روٹ نے 2013 سے اب تک آسڑیلیا کے خلاف جو39 ٹسٹ میچ کھیلے ہیں انکی74 اننگوں میں40.80 کی اوسط اور51.24 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ پانچ سنچریوں اور19 سنچریوں کی مدد سے2734 رن بنائے ہیں۔ وہ سات مرتبہ اپنا کھاتہ کھولنے میں ناکام رہے تھے اور انکا سب سے زیادہ اسکور180 رن ہے جو انہوں نے ؒلارڈز میں جولائی2013 میں466 منٹ میں338 بالوں پر18 چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے بنایا تھا۔ اس میچ میں انگلینڈکو 347 رن سے کامیابی ملی تھی۔
آسڑیلیا کے خلاف انگلینڈکی جانب سے سب سے زیادہ رن بنانے کا ریکارڈ جیک ہوبس کے پاس ہے جنہوں نے1908 اور1930 کے درمیان 41 ٹسٹ میچوں کی71 اننگوں54.26کی اوسط کے ساتھ12 سنچریوں اور15 نصف سنچریوں کی مدد سے3636 رن بنائے تھے۔ تین مرتبہ وہ اپنا کھاتہ کھولنے میں ناکام رہے تھے اور ان کا سب سے زیادہ اسکور187 رن رہا جو انہوں نے ایڈیلیڈ میں جنوری1912 میں ہوئے ٹسٹ میچ میں334 منٹ میں351 بالوں پر15 چوکوں کی مدد سے بنائے تھے۔ اس میچ میںانگلینڈکو سات وکٹ سے کامیابی اپنے نام کی تھی۔
ڈیوڈ گاور آسڑیلیا کے خلاف انگلینڈکی جانب سے دوسرے سب سے زیادہ رن بنانے والے بلے باز ہیں۔بائیں ہاتھ کے اس بلے باز نے1978 اور1991 کے درمیان جو42 ٹسٹ میچ کھیلے انکی77 اننگوں میں44.78 کی اوسط اور54.61 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ نو سنچریوں اوردو نصف سنچریوں کی مدد سے3269 رن بنائے تھے۔ وہ تین مرتبہ صفرکا شکار ہوئے تھے اور ان کا سب سے زیادہ اسکور215 رن رہا جو انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف برمنگھم میں اگست1985 کو452 منٹ میں314 بالوں پر25 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے بنایا تھا۔ اس میچ میں انگلینڈ ایک اننگ اور 118 رن سے فاتح رہی تھی۔
آسڑیلیا کے خلاف انگلینڈکی جانب سے تیسرے سب سے زیادہ رن بنانے والے بلے باز جیف بائیکاٹ ہیںجنہوں نے1964 اور1981 کے درمیان آسڑیلیا کے خلاف جو38 ٹسٹ کھیلے انکی71 اننگوں میں0 47.5 کی اوسط اور34.37 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ سات سنچریوں اور14 نصف سنچریوں کی مدد سے2945 رن بنائے تھے۔ وہ تین مرتبہ اپنا کھاتہ کھولنے میں ناکام رہے تھے اور ان کا سب سے زیادہ اسکور191 ر ن رہا تھا جو انہوں نے لیڈز میں اگست1977 میں629 منٹ میں471 بالوں پر23 چوکو ں کی مدد سے بنایا تھا اور اپنی ٹیم کی ایک اننگ اور 85 رن کی جیت میں ایک اہم کردار ادا کیا تھا۔
والی ہیمنڈ نے1928 اور1947 کے درمیان آسڑیلیا کے خلاف جن33 ٹسٹ میچوں میں حصہ لیا تھا انکی58 انگوں میں 51.85 کی اوسط اور38.07 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ نو سنچریوں اور سات نصف سنچریوں کی مدد سے2852 رن بنائے تھے۔ وہ د و مرتبہ اپنا کھاتہ نہیں کھول پائے تھے اوران کا سب سے زیادہ اسکور251 رن رہا تھا جو انہوں نے سڈنی میں دسمبر1928 میں461منٹ میں605 بالوں پر30 چوکوں کی مدد سے بنایا تھا اور اپنی ٹیم کو آٹھ وکٹ سے جیت دلائی تھی۔
انگلینڈکی جانب سے آسڑیلیا کے خلاف پانچویں سب سے زیادہ رن بنانے والے بلے باز ہربرٹ سٹکلیف ہیں جنہوں نے1924 اور1934 کے درمیان جو 27 میچ کھیلے تھے انکی46 اننگوں میں66.85 کی اوسط کے ساتھ آٹھ سچریوں اور16 نصف سنچریوں کی مدد سے2741 رن بنائے تھے۔ وہ صرف ایک مرتبہ اپنا کھاتہ کھولنے میں ناکام رہے تھے اور ان کا سب سے زیادہ اسکور194 رن رہا تھا جو انہوں نے سڈنی میں دسمبر1932 میں436 منٹ میں496 بالوں پر13 چوکوں کی مدد سے بنائے تھے اور اپنی ٹیم کی دس وکٹ کی جیت میں ایک اہم کردار اداکرنے میں کامیاب رہے تھے۔












