نیویارک، (یواین آئی) وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو اتوار کے روز نیویارک کے ایک حراستی مرکز میں موجود تھے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی امریکی ملک میں فوجی کارروائی کا حکم دیا، جس کا مقصد مادورو کی گرفتاری اور وینزویلا کے وسیع تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنا بتایا جا رہا ہے۔ہفتے کی صبح شروع ہونے والی اس غیر معمولی کارروائی کے دوران دارالحکومت کاراکاس کے بعض علاقوں میں بجلی منقطع ہو گئی، جب کہ متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی اسپیشل فورسز نے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو حراست میں لے کر ہیلی کاپٹر کے ذریعے ساحلی علاقے میں موجود ایک امریکی بحری جہاز تک منتقل کیا، جہاں سے دونوں کو امریکہ لے جایا گیا۔بعد ازاں صدر ٹرمپ نے فلوریڈا میں اپنے مارا لاگو ریزورٹ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس وقت تک وینزویلا کے معاملات کی نگرانی کرے گا، جب تک وہاں محفوظ، مناسب اور منصفانہ انتقالِ اقتدار ممکن نہیں ہو جاتا۔ٹرمپ انتظامیہ گزشتہ کئی مہینوں سے مادورو پر امریکہ کو منشیات کی ترسیل میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کرتی آ رہی تھی۔ اسی تناظر میں کیریبین خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی کی گئی اور مبینہ منشیات بردار کشتیوں پر مہلک میزائل حملوں کے ذریعے دباؤ بڑھایا گیا۔مادورو کو لے کر آنے والا طیارہ ہفتے کی رات نیویارک سٹی کے قریب اترا، جہاں سے انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے شہر منتقل کیا گیا اور سخت سیکیورٹی میں بروکلین کے میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر پہنچایا گیا۔امریکی حکام کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں صدر مادورو کو پرواز کے دوران ہتھکڑیوں اور آنکھوں پر پٹی کے ساتھ دیکھا گیا، جبکہ بعد میں انہیں امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کے دفاتر میں ایک راہداری سے گزرتے دکھایا گیا، جہاں انہیں نئے سال کی مبارک باد بھی دی گئی۔ نارکو دہشت گردی کی سازش سمیت مختلف وفاقی الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کیے جانے کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مادورو کو پیر کے روز مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔تاہم یہ اب بھی غیر واضح ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا پر عملی طور پر کس طرح نگرانی یا کنٹرول قائم کرے گی۔ امریکی افواج فی الوقت ملک پر براہِ راست قابض نہیں ہیں، جب کہ مادورو کی حکومت بظاہر بدستور اقتدار میں موجود ہے اور واشنگٹن کے ساتھ تعاون پر آمادہ دکھائی نہیں دیتی۔وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے ہفتے کی دوپہر دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ قومی ٹیلی وژن پر خطاب کرتے ہوئے اس امریکی کارروائی کو اغوا قرار دیا۔ انہوں نے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے مادورو کو وینزویلا کا واحد آئینی صدر قرار دیا۔ بعد ازاں وینزویلا کی ایک عدالت نے روڈریگز کو عبوری صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالنے کا حکم دیا۔صدر ٹرمپ نے یہ عندیہ بھی دیا کہ امریکی فوجی وینزویلا میں تعینات کیے جا سکتے ہیں اور کہا کہ واشنگٹن زمینی فوج بھیجنے سے خوفزدہ نہیں۔ ان بیانات کے ساتھ ساتھ وینزویلا کے تیل کے وسیع ذخائر میں ٹرمپ کی دلچسپی بھی نمایاں ہو کر سامنے آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ بڑی تیل کمپنیاں وہاں بھیجے گا، جو اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے خستہ حال انفرااسٹرکچر کی مرمت کریں گی اور اس کے بعد بڑی مقدار میں تیل عالمی منڈی میں فروخت کیا جائے گا۔مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف لاطینی امریکہ بلکہ عالمی سیاست میں ایک نئے اور خطرناک موڑ کی علامت ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔












