دیوبند،سماج نیوز سروس:نانوتہ کی تاریخی جامع مسجد میں ایک نعتیہ محفل کا انعقاد بعد نماز عشاء شاعر اسلام قاری احسان محسن کی صدارت میں کیا گیا۔ یہ پروگرام نانوتہ میں جاری 10روزہ سیرت طیبہ کے پروگرام کے تحت انعقاد پذیر ہوا۔ اس میں دور دراز سے تشریف لائے ہوئے شعرائے کرام نے شرکت کی۔ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مولانا محمد اویس صدیقی نانوتوی نے کہا کہ نے نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مقصدیت اور تاریخ پر گفتگو کی۔ انہو ںنے کہا کہ نعت اور نعتیہ محفلیں محض رسمی سطح کی چیزیں نہیں ہیں، بلکہ نعت گوئی اور نعت خوانی اپنی مقصدیت کے لحاظ سے بحیثیت مجموعی امت محمدیہ کے فرائض میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے جذبہ محبت کی تسکین ، عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آبیاری، ناموس رسالتؐ کا تحفظ اور حریم نبوی کا دفاع اس کے اعلیٰ ترین مقاصد ہیں ۔ مولانا محمد اویس صدیقی نانوتوی نے کہا کہ حضرت حسان بن ثابتؓ نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ممبر سے یہ خدمت انجام دی ہے۔ محمد اویس صدیقی نانوتوی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میڈیا کا استعمال کس طرح کیا۔ انہو ں نے بتایا کہ زمانہ جاہلیت میں اشعار کا کردار میڈیا کی طرح تھا ، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعار کو میڈیا بطور ذرائع ابلاغ کے استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ ؐ نے میڈیا وار (میڈیا کی جنگ) لڑی ہے ۔ ڈاکٹر اویس نے کہا کہ اس بات کا ثبوت سیرت طیبہ کا وہ واقعہ ہے جس میں مشرکین مکہ نے محض میڈیا جنگ میں شمشیر وسناں کے معرکہ پر ا کتفا نہیں کیا بلکہ اس معرکہ حق وباطل میں ان باطل پرستوں نے زبان تخیل کی طاقت کو بھی کام میں لانا شروع کیا اور اپنے عہد کے شعراء اور خطیب حضرات کی صلاحیتوں کے ذریعہ مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے قدم روکنے کی کوشش کی ۔ اس سلسلہ میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل معلوم کرنے کے لئے طبرانی میں حضرت عمار بن یاسرؓ کی یہ روایت پیش کی ۔ انہوں نے ترجمہ کرتے ہوئے بتایا کہ جب مشرکین نے ہماری ہجو میں کہنا شروع کیا تو آپؐ نے فرمایا تم بھی ترکی بہ ترکی جواب دو۔ ڈاکٹر اویس صدیقی نے کہا کہ غزوۂ خندق کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایاکہ بتائو میری طرف سے اعدائے اسلام کا اپنی زبان کے ذریعہ کون دفاع کرے گا۔ چنانچہ اس خدمت کے لئے تین انصاری صحابہ نے اپنے نام پیش کئے، جن میں حضرت حسان بن ثابتؓ ، حضرت عبداللہ بن رواحہؓ اور حضرت کعب بن مالکؓ تینوں نے اپنے اپنے میدان مقررکرلئے۔ مثلاً حضرت حسان ؓ نے مدح سرائی کرکے دفاع کیا اور حضرت عبداللہ ؓنے جو دفاع کیا ان کی رزمیہ شاعری تھی ۔ انہو ں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خدمت کے لئے مسجد نبوی میں ایک منبر بھی بنوایا تھا تاکہ وہ سب بیٹھ کر اشعار سنایا کریں ۔ مشرکین کی ہجو میں کہے گئے اشعار کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں کے اشعار قریش کے دلوں پر تیر کی ضرب سے زیادہ کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ ابتدائے اسلام میں شعراء اسلام نے کس طرح زبان وادب کے ذریعہ حریم اسلام کی حفاظت کی ۔ مشرکین کے اٹھائے ہوئے گندے سیلاب پر بندھ باندھا اور ناموس رسالت کا تحفظ کرکے کس طرح اپنے نامہ اعمال کو منور کیا۔












