دیوبند،سماج نیوز سروس: جامعہ رحمت گھگھرولی میں مغیثی خانقاہ کے زیرِ اہتمام حسبِ روایت ماہانہ روحانی و اصلاحی مجلس کے ساتھ تقریبِ تکمیلِ حفظِ کلامِ اللہ کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں قرب و جوار سے تعلق رکھنے والے علماء، معززین اور عوام نے شرکت کی۔اس موقع پر مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے فیضِ ہدایت رحیمی، رائے پورکے شیخ الحدیث مولانا محمد طاہرنے خصوصی شرکت کی اور جامعہ کے 23 حفاظ کرام کے قرآن پاک کی تکمیل کرائی۔ مولانا محمد طاہر نے اپنے خطاب میں کہا کہ قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا مقدس اور آخری کلام ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ سب سے عظیم ہیں، اسی طرح ان کا کلام بھی سب سے اعلیٰ اور باعظمت ہے۔ قرآنِ کریم کو حفظ کرنا اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے، اور جس شخص کو اللہ تعالیٰ یہ سعادت عطا فرما دے، اس کے ساتھ اللہ اپنی خاص رحمت اور خصوصی عنایت کا معاملہ فرماتے ہیں۔ مولانا نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قرآن سکھانے اور پڑھانے والوں کو ہمیشہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے، انہیں معمولی یا کمتر نہ سمجھا جائے، کیونکہ علم کی بے ادبی انسان کو علم و عمل دونوں کی برکات سے محروم کر دیتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نسلیں قرآن سے جڑی رہیں، تو ہمیں خود بھی ادب، عاجزی اور شکر کے جذبے کے ساتھ اس نعمت کی حفاظت کرنی ہوگی۔قبل ازیںجامعہ احمد العلوم خانپور کے نائب ناظم مفتی محمد صابرنے اخلاقیات کے موضوع پرگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مومن کے ایمان کی تکمیل کا معیار اس کے اچھے اخلاق ہیں۔ جس قدر انسان کے اخلاق بلند ہوں گے، اسی قدر اس کا ایمان مضبوط ہوگا۔ انہوں نے حاضرین کو تلقین کی کہ غیبت، بدگمانی اور بدسلوکی جیسے اخلاقی امراض سے خود کو محفوظ رکھا جائے اور نبی کریم ﷺ، صحاب کرامؓ اور اولیائے اللہ کے اعلیٰ اخلاق کو اپنی عملی زندگی کا نمونہ بنایا جائے۔ جامعہ رحمت کے ناظمِ تعلیمات مولانا عبد الخالق مغیثی نے قرآنِ کریم کے فضائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہی وہ مقدس کتاب ہے جو نبی کریم ﷺ پر نازل ہوئی اور جس نے انسانیت کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم بھی اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ اس کے احکام کو سمجھ کر اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں۔ مجلس کے خادم مولانا ڈاکٹر عبد المالک مغیثی نے اجتماعی ذکر کرایا اور تمام معزز مہمانوں اور شرکائے مجلس کا شکریہ ادا کیا۔












