ناظم منصوری
مرادآباد،سماج نیوز سروس: یہ خبر نہایت رنج و غم کے ساتھ سپرد اشاعت کی جاتی ہے کہ مغربی یوپی کے مشہور و معروف تعلیمی ادارہ جامعہ قاسمیہ دارالعلوم زکریا ٹرانسپورٹ نگر کے بانی و مہتمم اور شیخ الحدیث مولانا محمد سالم قاسمی گزشتہ شب دار فانی سے دار جادوانی کی طرف کوچ کر گئے وہ گزشتہ کچھ سالوں سے علیل تھے۔ان کے انتقال کی خبر سن کر دینی حلقوں کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقہ میں بھی غم کی لہر دوڑ گئی۔ کثیر تعداد میں سوگوار ان کی رہائش گاہ واقع ٹرانسپورٹ نگر پہنچے۔ اور تعزیت کی۔ مرحوم ایک دینی اور مذہبی شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ مرادآباد کے مشہور ایکسپورٹر بھی تھے۔ جمعیۃ علماء ہند سے وہ پوری زندگی وابستہ رہے۔ مرحوم نے مرادآباد کی سرزمین پر ایک دینی تعلیم کے ادارہ کا قیام کیا۔ جس کو جامعہ قاسمیہ دار العلوم زکریا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ دین کی خدمت کو ترجیح دی۔ وہ ایک معزز عالم دین تھے۔ وہ ہندوستان کے بڑے عالم دین میں شمار تھے وہ ایک مقبول مدرس اوربا کمال محدث تھے۔ اللہ رب العزت نے انتظامی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔اسی کے ساتھ آپ ایک بڑے کامیاب تاجر تھے۔ ادارہ کی پختگی اور الولعزمی ذت گرامی کا خاص وسف تھا۔ آج وہ دینی تعلیمی تجارتی اور سماجی میدان میں اپنے حصہ کی خدمات کے انتھک نقوش چھوڑ کر اپنے رب حقیقی کی بارگاہ میں ہمیشہ کے لئے منتقل ہو گئے۔ ایک باکمال عالمکی رحلت سارے عالم کا نقصان اور معاشرہ کا غم ہے۔ مولانا کی وفات نہ صرف آپ حضرات بلکہ لئے تمام حضرات کے لئے باعث ملال ہے۔ مرحوم مولانا اپنی ۶۳؍سال کی زندگی مکمل کر کے رخصت ہوئے۔ انہوں نے اپنے پچھے پانچ بیٹے اور پانچ بیٹیاں اور ایک اہلیہ کو چھوڑا ۔ جن میں مولانا محمد ہاشم، مولانا ابو ذر ،ابو بکر، ابو عبیدہ، محمد سعد ہیں۔ جامعہ کی وسیع مسجد میں بعد نماز ظہر نماز جنازہ ان کے فرزند مولانا ابو ذر نے ادا کرائی۔ انہیں آزاد نگر میں واقع قبرستان میں ہزاروں افراد کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا۔ تدفین و تعزیت کرنے والوں میں امام شہر حکیم سید معصوم علی آزاد، جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی، تنظیمی سکریٹری احمد عبد اللہ،جمعیۃ علماء یوپی کے صدر مفتی محمد عفان منصور پوری، مفتی شبیر احمد،مولانا اسلم ٹانڈہ، مولانا خضر محمد دیوبند، مفتی سید فہد علی، شہر جمعیۃ کے صدر مولانا طاہر قاسمی،مولانا اسجد قاسمی ندوی،مفتی زعیم احمد قاسمی نسیمی، مولانا تنزیل الرحمن، قاری نفیس الرحمن، مفتی عبد الحق،مفتی رضوان، مولانا سالم،حافظ محمد عالم، مولانا زبیر عالم، نجم الاسلام ، حافظ برکت اللہ، مفتی محمد فاروق،مولانا مرغوب الرحمن، مولانا عبید الرحمن، مولانا شریف سیتا پوری،انعام اللہ، مظاہر خاں، مفتی توحید، مولانا عبد الناصر،مفتی فاروق، محمد کاشف کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔












