نئی دہلی، (یو این آئی؍ایجنسیاں)طویل عرصے سے زیر بحث بھارت امریکہ تجارتی معاہدے کے حوالے سے ایک بڑا انکشاف سامنے آیا ہے۔ امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے دعویٰ کیا کہ بھارت امریکہ تجارتی معاہدہ ناکام ہو گیا کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون نہیں کیا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب حال ہی میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ مودی جانتے ہیں کہ وہ ہندوستان کی طرف سے روسی تیل کی خریداری سے ناخوش ہیں اور امریکہ کسی بھی وقت ہندوستان پر محصولات بڑھا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بیان دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تجارتی معاہدے پر بات چیت کے دوران دیا۔تاہم وزارت خارجہ نے امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے ردعمل ظاہر کیا ہے۔ وزارت نے کہا کہ "پی ایم مودی اور صدر ٹرمپ نے 2025 سے آٹھ بار فون پر بات کی ہے۔” مزید برآں، انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے جامع شراکت داری کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ دونوں ممالک گزشتہ سال 13 فروری سے تجارتی معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ بات چیت ایک متوازن، باہمی طور پر فائدہ مند معاہدے پر مرکوز تھی اور کئی مواقع پر دونوں ممالک ایک معاہدے تک پہنچنے کے بہت قریب آچکے ہیں۔لٹنک نے ایک پوڈ کاسٹ میں کہا، "میں نے پوری ڈیل ترتیب دی تھی، لیکن ٹرمپ ڈیل کے قریب ہیں۔ مودی صدر کو فون کرنے والے تھے، لیکن بھارت اس سے بے چین تھا، اس لیے مودی نے فون نہیں کیا۔ ان کے مطابق، ڈیل تیار تھی، لیکن لیڈر ٹو لیڈر کال کی ضرورت تھی، جو نہیں ہوا۔” امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کے تعلق سے جاری غیر یقینی صورتحال کے درمیان ہندوستان نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کئی مرتبہ تجارتی معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں اور اس سلسلے میں امریکی وزیرِ تجارت کا میڈیا میں آیا بیان درست نہیں ہے۔ ہندوستان نے واضح کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی مفاد پر مبنی معاہدے میں اس کی دلچسپی اب بھی برقرار ہے۔ہندوستان نے یہ بھی واضح کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان اچھے تعلقات ہیں اور دونوں رہنما آٹھ مرتبہ ٹیلی فون پر بات چیت کر چکے ہیں۔وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے اور اس بارے میں امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لیوٹنک کے بیان سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ”ہم نے وہ تبصرے دیکھے ہیں۔ ہندوستان اور امریکہ 13 فروری سے ہی دو طرفہ تجارتی معاہدے پر بات چیت کے لیے پرعزم رہے ہیں۔ اس کے بعد سے دونوں فریقوں کے درمیان متوازن اور باہمی مفاد پر مبنی تجارتی معاہدے پر کئی دور کی بات چیت ہو چکی ہے۔ کئی مواقع پر ہم معاہدے کے بہت قریب بھی پہنچے ہیں۔ ان مذاکرات کے بارے میں کی گئی تشریحات اور جن تبصروں کی رپورٹنگ کی گئی ہے، وہ درست نہیں ہیں۔”انہوں نے کہا کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان باہمی مفاد پر مبنی تجارتی معاہدے میں ہندوستان کی دلچسپی اب بھی برقرار ہے اور اسے امید ہے کہ یہ جلد کسی نتیجے تک پہنچے گا۔












