• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
ہفتہ, مئی 2, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

فضائے پر سکوت میں ادائے گردباد

پروفیسر غضنفر

Hamara Samaj by Hamara Samaj
جنوری 4, 2023
0 0
A A
فضائے پر سکوت میں ادائے گردباد
Share on FacebookShare on Twitter

بگولے بھی ہوا ہی ہوتے ہیں مگر وہ ہوا کی مانند مسلسل بہتے نہیں بلکہ کبھی کبھی کسی کسی صورت حال میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ تب اٹھتے ہیں جب کسی جگہ کی فضا ہوا سے خالی ہو جاتی ہے۔اور یہ اس زور و شور کے ساتھ اٹھتے ہیں کہ ان کے زد سے بہت کچھ بیٹھ جاتا ہے۔ یہ اپنے ساتھ بہت ساری زمینی اشیاءکو اوپر اٹھا لے جاتے ہیں اور ان خاکساروں کو بھی خلاؤں میں اڑا ڑا کر آسمان کی سیر کرا دیتے ہیں۔بگولے ہوا بھی باندھتے ہیں اور جب ہوا باندھتے ہیں تو سخت ترین گانٹھیں بھی کھل جاتی ہیں۔ مٹی میں پیوست مضبوط جڑیں بھی اکھڑ جاتی ہیں۔انھیں دیکھ کر آنکھیں حیرت میں پڑ جاتی ہیں۔جب بھی میں ایک دہلوی شخص کو دیکھتا ہوں تو مجھے بگولے یاد آ جاتے ہیں۔وہ بھی جب اٹھتا ہے تو زمین اور آسمان دونوں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔وہ بھی ہوا باندھتا ہے اور جب ہوا باندھتا ہے تو اس کی سنسناہٹیں دور دور تک پہنچ جاتی ہیں۔ لوگوں کے دل ودماغ میں گڑگڑاہٹیں اور ہونٹوں پر بڑبڑاہٹیں شروع ہو جاتی ہیں۔ آپ اس شخص کی تشبیہ پٹاخے اور پھلجھڑی سے بھی دے سکتے ہیں۔ وہ بھی پھوٹتا ہے تو دور تک دھمک پیدا کر دیتا ہے۔فضاوں میں آتشیں مادہ بکھیر دیتا ہے۔اور چھوٹتا ہے تو فضا کو رنگ برنگی شعاعوں سے جگمگا دیتا ہے۔ پٹاخے اورپھلجھڑی کی طرح وہ بھی پھوٹ چھوٹ کر کچھ دیر بعد سرد پڑ جاتا ہے۔ مگر وہ ہمیشہ سرد پڑا نہیں رہتا۔کچھ دنوں بعد پھر سلگ اٹھتا ہے۔ ٹھیک ویسے ہی جس طرح ققنس اپنی خاکستر سے دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے۔اس گردبادی آدمی کو آپ چاہیں تو پٹاخہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جیسے ہی سینک لگتی ہے اس کا فلیتہ آگ پکڑ لیتا ہے اور پھر فضا میں دھماکے ہونے لگتے ہیں۔
میں اس آتش گیر شخص کو اس وقت سے دیکھ رہا ہوں جب اس کے سرکی لٹیں ناگن کی طرح سیاہ اور چمکیلی تھیں اور اسی کی طرح لہراتی بھی تھیں۔چمکیلی تو وہ آج بھی ہیں مگر اب ان پر ٹینو پالش چڑھ چکی ہے۔ لٹیں لہراتی تو اب بھی ہیں بس فرق اتنا آیا ہے کہ وہ پہلے ناگن کی سی لہراتی تھیں اور اب برق جیسی۔ پہلے ان کی سیاہیاں حشر اٹھاتی تھیں اور اب ان کی سفیدیاں قیامت ذھاتی ہیں۔وہ ہوا کی طرح ہمیشہ بہاؤ میں نہیں رہتا بلکہ کبھی کبھار گردش میں آتا ہے اور جب آتا ہے تو بونڈر بن جاتا ہے۔ اپنے اطراف میں چاروں طرف جھکڑ اٹھا دیتا ہے۔ ساکت فضاؤں کو نچا کر رکھ دیتا ہے۔ بگولوں کی مانند وہ پر سکون فضا میں بھی بھنور ڈال دیتا ہے۔ کبھی یہاں تو کبھی وہاں گردشوں کا بازار گرم کر دیتا ہے۔
کبھی جی میں آیا کہ کالے کوٹ میں قیامت
ڈھانا ہے تو کورٹ میں پہنچ گیا۔ کبھی جی نے اکسایا کہ کتابیں چھاپنی ہیں تو گھر میں چھاپا خانہ کھول دیا۔ کبھی دماغ نے فلیتہ لگایا کہ کسی کے خرمن کو پھونکنا ہے تو تیل کا پیپا اور ماچس کی ڈبیہ لے کر یہ شعر پڑھتے ہوئے
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو
حیطۂ خرمن تک پہنچ گیا۔ کبھی دل نے کہا :
کہ تمہاری اردو کے پروگرام میں یہ ایسی تنگ دامانی کیوں ؟ اس کی محفلوں میں کشادگی سروسامانی کیوں نہیں ؟کب تک ترقی پسندی کے احاطے میں بنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد میں کچے فرش پر پیشانی رگڑتے رہوگے؟،کب تک ادارہ ¿ادبیات جدید کے اوبڑ کھابڑ مٹھ پر متھا ٹیکتے رہوگے ، کب تک بلی ماران کی بلیوں کے دربوں جیسی محفل تنگ میں’گھستے رہو گے‘ کب تک سکڑی ہوئی کسی جامعی بزم اور ابو الفضل کے کسی ٹھوکر کے نکڑ پر منعقدہ کسی منی سی منی مجلس میں شرکت کرتے رہو گے؟ تم تو کشادہ قلب ہو ، ذہنی وسعت رکھتے ہو ، سینے میں فراخ دلی بھی ہے ، تو کیوں نہ اپنی اردو کو مقامیت کے تنگ و تاریک کوچے سے نکال کر کسی عالمی مقام تک لے جاتے؟ اسے دریاؤں کی طرح وسیع و عریض کیوں نہیں بنا دیتے ، دل کا یہ کہنا تھا کہ اس کے ذہن میں حرارت اور ہاتھوں میں حرکت پیدا ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے بزم اردوئے عالم آراستہ ہوگئی۔ میر و غالب کے گلی کوچوں میں اردو کی عالمی صدائیں بھی گونجنے لگیں۔ اردو والوں کی سماعتوں میں ا ٓفاقی افکار سنائی دینے لگے۔وہ شخص اس طرح کے گردبادی کرشمے کرنے میں اس لیے کامیاب ہو جاتا ہے کہ قدرت نے اس کے ہاتھ میں الہ دین کا چراغ تھما دیا ہے اور اسے اس چراغ کو رگڑنا بھی آتا ہے وگرنہ چراغ تو بہتوں کے پاس ہیں مگر ان میں سے جن نہیں نکلتا کہ انھیں رگڑنا نہیں آتا اور شاید رگڑنے کی ان کے دل میں چاہ بھی نہیں ہوتی مگر اس شخص کے دل میں رگڑنے کی ایسی شدید چاہت ہے کہ جب زور مارتی ہے تو وہ چراغ کے ساتھ ساتھ کچھ اور چیزوں کو بھی رگڑ ڈالتا ہے اوراس کی زد میں کبھی کبھی تو وہ اشیاءبھی آ جاتی ہیں جنھیں نہیں آنا چاہئیں۔
قدرت نے اسے صرف لمبے بال ہی نہیں دیے ہیں بلکہ ہاتھ اور پاؤں بھی لمبے عطا کیے ہیں۔پاوں اتنے لمبے کہ ڈگ بھرے تو ایک جست میں دہلی۔سے ڈگ شاہی پہنچ جائے۔ہاتھ اتنے لمبے کہ دلی میں بیٹھے بیٹھے شملہ کی پہاڑیوں کے پیڑوں سے سیب توڑ لائے۔ بلا شبہ اس کے دست و پا اتنے دراز ہیں کہ مرکز میں رہ کر بھی حاشیوں کے دل و دماغ بلکہ کبھی کبھار گردن تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔قد بھی اسے اتنا اونچا بخشا گیا ہے کہ بنا کسی تردد کے وہ دور سے ہی پہچان لیا جاتا ہے۔ وہ دل ،دماغ ،ہاتھ پاؤں ،گھر دوار، اندر باہر ہر طرف سے مضبوط ہے۔ اس کے معاشرتی روابط اور دنیاوی رشتے ناطے بھی مضبوط ہیں اور اس قدر مضبوط ہیں کہ پیغام آفاقی جیسا پولیسیا آدمی جس کی وردی پر بڑے بڑے با رعب بلے بھی ٹنگے رہتے تھے اور جو کسی باگڑ بلے کی آنکھوں سے کم ڈراؤنے نہیں لگتے تھے،بھی اس شخص سے پنگا نہیں لے پاتا تھا۔ اس کی توانا شخصیت کے مظاہر ملاحظہ کرنا ہو تو ادبی ،علمی اور ثقافتی محفلوں میں چلے جائیے اور ماہرین علم وفن کے محنت ومشقت سے تیار کیے گئے مقالوں پر اس کے فی البدیہ تبصرے سماعت فرمائیے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ کیسے تقریروں سے تحریروں کے بخیے اڈھڑتے ہیں ؟کمزور خیالات بکھرتے ہیں۔ضعیف دلیلوں کے پرخچے اڑتے ہیں۔
طاقٹ لسانی کیا کیا گل کھلاتی ہے۔ دور بیں اور بلند نگاہی دل ودماغ کو کہاں کہاں تک پہنچاتی ہے۔ ضیائے تبحر علمی کیسا کیسا رنگ ونور دکھاتی ہے۔قدرت اس پر اتنی مہرباں ہے کہ دھن اور تن کی فراوانی کے ساتھ ساتھ من کی روانی بھی اس نے اسے بخش دی ہے۔ اس کے من کی موجیں جب جوش میں آتی ہیں تو تہوں سے علم وفن کے موتی بھی لانے لگتی ہیں مگر وہ ایسا بے پروا اور من موجی ہے کہ ان موتیوں کو کسی مناسب جگہ پر سجانے کے بجائے انھیں ادھر ادھر لٹا دیتا ہے۔ ہوا میں اڑا دیتا ہے۔ مٹی میں ملا دیتا ہے۔اس کے بہت سارے گوہر تاب دار تو فیس بک کے صفحات پر پڑے پڑے ماند پڑ جاتے ہیں۔
خدا نے اسے ایسا قلم کا دھنی بنایا ہے کہ اس کے نوک خامہ سے نثرو نظم دونوں طرح کے ادب پارے نکلتے ہیں اور اکثر فی البدیہ نکلتے ہیں۔خدا نے ایسی قوت گویائی عطا کی ہے اور اس میں اس بلا کی شوخی و برجستگی کی بجلیاں بھر دی ہیں کہ وہ اپنے خالق کے ساتھ بھی چہلیں کرنے سے باز نہیں آتا۔ تحریری و تقریری طاقتیں اور اوپر سے بے خوفی اور بے باکی کی قوتیں اسے ایک ایسا بجار بنا دیتی ہیں کہ وہ جسے روندنا چاہے روند دے۔جس جانب کی فصلوں کو ملیامیٹ کر نا چاہے ملیامیٹ کر دے۔ جدھر تباہی مچانا چاہے تباہی مچا دے مگر وہ ایسا نہیں کرتا،اسے جدھر مارنا ہوتا ہے ادھر ہی سینگ مارتا ہے۔جسے سینگ پر اٹھانا ہوتا ہے ،اسے ہی اٹھاتا ہے۔جسے پٹکنا ہوتاہے اسے ہی پٹکتا ہے۔قوت ارادی (ول پاور) بھی اس کے اندر غضب کی ہے۔یہ وہی قوت ہے جسے استاد محترم شہریار صاحب نے اپنے اس شعر میں پیش کیا ہے:
کہیے تو آسماں کو زمیں پر اتار لائیں
مشکل نہیں ہے کچھ بھی آگر ٹھان لیجیے
جی ہاں شہریار کی یہ وہی’ ٹھان‘ ہے جو اس دہلوی البیلی شخصیت کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے اور اسی کی بدولت اس کی سارے زمانے سے ٹھنی ہوئی ہے۔یہ ایسی قوت ہے کہ اس نے جب جب جو جو ٹھانی تب تب سو سو پوری ہوئی : اس نے ٹھانی کہ کالے کپڑوں میں اپنا اجلا رنگ چمکانا ہے سو چمکایا۔اس نے ٹھانی کہ کٹگھرے میں لوگوں کے ناطقے بند کرنا ہے سو کیا۔ اس نے ٹھانی کہ دنیائے ادب میں اردو کی بزم عالم سجانی ہے ،سو سجائی۔اس نے ٹھانی کہ اشاعتی سلسلہ شروع کرنا ہے سو کیا۔ اس نے ٹھانی کہ سستے داموں میں مہنگی کتابیں دستیاب کرانی ہے سو کرائی۔ اس نے ٹھانی کہ کیمرے میں کائنات کو اتارنا ہے،سو اتارا۔ اس نے ٹھانی کہ سادہ منظروں میں رنگ ونور بھرنا ہے سو بھرا۔ اس نے ٹھانی کہ کچھ تعلیم گاہوں کے درودیوار کو اونچا اٹھانا ہے سو اٹھایا۔اس نے ٹھانی کہ کچھ کاخ امرا کی فصیلوں کو جھکانا ہے سو جھکایا۔اس نے ٹھانی کہ ہزار صفحے سے زیادہ کی کتاب مرتب کرنی ہے سو کی۔اس نے ٹھانی کہ ڈاکومینٹری بنانی ہے سو بنائی۔اس نے ٹھانی کہ کسی کی بینڈ بجانی ہے سو بجائی۔اس نے ٹھانی کہ پانی میں آگ لگانی ہے سو لگائی۔بالوں میں براقی آجانے کے بعد تک بھی اس نے خود کو بگولا بنائے رکھا۔ کبھی یہاں تو کبھی وہاں گرد باد اٹھاتا رہا۔اپنی گردشوں سے دنیا کو نچاتا رہا۔پستیوں کو اوپر اٹھاتا رہا۔بلندیوں کو نیچے گراتا رہا سر بلندوں کو دھول چٹاتا رہا۔ دانشوروں کا ہوش اڑاتا رہا۔
دوست نوازی اور عدو سازی اسے دونوں پسند ہیں اس لیے یہ کہنا آسان نہیں کہ دوست زیادہ ہیں یا دشمن مگر یہ بتانا بھی مشکل نہیں کہ اس کے دشمنوں کی تعداد کم نہیں ہے۔ جس طرح لوگ دوستی کے لیے انوائٹ کرتے ہیں وہ شخص لوگوں کو دشمنی کی دعوت دیتا ہے مگر دشمن ٹکر کے نہیں ملتے۔اسکا ثبوت یہ ہے کہ اس کی للکار پر کوئی بھی لبیک نہیں کہتا ، اکثر فیس بک پر اس کے چیلنجنگ جملے بے نیل و مرام رہ جاتے ہیں۔ ایک طرف اس کے دشمن ہیں کہ سینے میں جذبۂ عداوت ابلنے کے باوجود احتیاط برتتے ہیں کہ دشمنی کا ڈھکن الٹنے نہ پائے اور دوسری جانب وہ ہے کہ لڑنے بھڑنے کے لیے ہر وقت کمان پر تیر چڑھائے رہتا ہے۔
دشمنی کے معاملے میں تو وہ ایسا اتاولا اور جوش سے بھرا رہتا ہے کہ ان سے بھی پنگا لے لیتا ہے جن کے آگے جاتے ہوئے لوگوں کے پاؤں کانپتے ہیں۔ اس کی تقریروں اور تحریروں سے ایسے ایسے شگوفے پھوٹتے ہیں کہ آنکھوں میں رنگ کی جگہ ریزے بھر دیتے ہیں ، ایسے ایسے پٹاخے چھوٹتے ہیں کہ سماعت کے پردوں کے پراخچے اڑا دیتے ہیں۔اس کے کمینٹس بتاتے ہیں کہ وہ پردے میں رہ کر کوئی بات نہیں کرتا بلکہ میدان میں آکر للکارتا ہوا اسے جس کے متعلق جو کہنا ہوتا ہے ببانگ دہل کہہ دیتا ہے۔اردو کے ادبی میدانوں میں معرکے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں،مگر پہلے کے معرکوں میں ایک فریق کے سامنے دوسرا فریق سینہ سپر ہوتا تھا مگرآج کے میدان میں اس یودھا کے سامنے کوئی ہوتا ہی نہیں اور اگر ہوتا ہے تو اس کا سینہ سہما اور سکڑا ہوا ہوتا ہے جیسے شہ بولنے سے پہلے ہی اس نے اپنی مات قبول کر لی ہو، اسکے ہر عمل اور ہرایک حرکت سے اس کی گرد بادی شخصیت کا ثبوت ملتا ہے۔
اگر اس کی گرد بادی شخصیت سے گرد جھڑ جائے اور صرف باد رہ جائے تو اس کے جھونکوں سے فضاؤں میں فصلیں لہلہا اثھیں۔ رحمان عظیم سے یہ دعا ہے کہ وہ اس گرد بادی رحمان (اے۔رحمان)کے جھونکوں میں اپنی رحمانی پھونک بھی شامل کر دے تاکہ شیطانی بلیات سے بچا جاسکے۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    ایس آئی آر اور مردم شماری میں لاپروائی نہ برتیں: حاجی افضال

    ایس آئی آر اور مردم شماری میں لاپروائی نہ برتیں: حاجی افضال

    اپریل 30, 2026
    وزیر صحت ڈاکٹر پنکج کمار سنگھ نے سائنسی سمپوزیم کا کیا افتتاح

    وزیر صحت ڈاکٹر پنکج کمار سنگھ نے سائنسی سمپوزیم کا کیا افتتاح

    اپریل 30, 2026
    نشہ مکت ابھیان، ’’ بڑی دیر کر دیتا ہوں میں‘‘

    نشہ مکت ابھیان، ’’ بڑی دیر کر دیتا ہوں میں‘‘

    اپریل 30, 2026
    میں نے اس طرح کی جمہوریت کبھی نہیں دیکھی

    میں نے اس طرح کی جمہوریت کبھی نہیں دیکھی

    اپریل 30, 2026
    ایس آئی آر اور مردم شماری میں لاپروائی نہ برتیں: حاجی افضال

    ایس آئی آر اور مردم شماری میں لاپروائی نہ برتیں: حاجی افضال

    اپریل 30, 2026
    وزیر صحت ڈاکٹر پنکج کمار سنگھ نے سائنسی سمپوزیم کا کیا افتتاح

    وزیر صحت ڈاکٹر پنکج کمار سنگھ نے سائنسی سمپوزیم کا کیا افتتاح

    اپریل 30, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist