نئی دہل،سماج نیوز سروس: دہلی میں بی جے پی کے وزراء اور رہنماؤں کی جانب سے سکھ گروؤں کی بے ادبی کا معاملہ اتوار کے روز مزید سنگین ہو گیا۔ اتوار کو عام آدمی پارٹی کے دہلی پردیش کنوینر سوربھ بھاردواج کی قیادت میں پارٹی کے ایم ایل اے، کونسلرز، عہدیداران اور بڑی تعداد میں کارکن سڑکوں پر اتر آئے اور پیدل مارچ کرتے ہوئے بی جے پی ہیڈکوارٹر پر زبردست احتجاج کیا۔ اس دوران آپ نے سکھ گروؤں کی توہین کرنے والے بی جے پی کے وزراء اور رہنماؤں سے عوامی معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی۔ جب آپ کے کارکن بی جے پی ہیڈکوارٹر پہنچنے والے تھے تو دہلی پولیس نے بیریکیڈ لگا کر انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا اور ایک ایک کرکے سب کو حراست میں لے لیا۔ سوربھ بھاردواج سمیت کئی رہنماؤں کو پولیس آئی پی اسٹیٹ تھانے لے گئی، جہاں انہوں نے دھرنا دیا اور بی جے پی کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔آپ کا کہنا ہے کہ گرو صاحب کی توہین، ہندوستان برداشت نہیں کرے گا۔ بی جے پی حکومت کے وزراء کی جانب سے شری گرو تیغ بہادر جی کے تعلق سے بنائی گئی فرضی ویڈیو اور گرو مہاراج کی بے ادبی کے خلاف بی جے پی دفتر کے باہر عام آدمی پارٹی نے ہلہ بول احتجاج کیا۔ اس فرضی ویڈیو سے بی جے پی کی سکھ مخالف ذہنیت ایک بار پھر بے نقاب ہو گئی ہے۔جب بی جے پی کے وزراء اور رہنماؤں کی جانب سے شری گرو تیغ بہادر جی اور سکھ سماج کی بے ادبی کے خلاف آپ کے رہنما اور کارکن سڑکوں پر اترے تو آمرانہ بی جے پی کی دہلی پولیس نے دہلی پردیش کنوینر سوربھ بھاردواج، سنجیو جھا سمیت کئی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔ اگر بی جے پی یہ سمجھ رہی ہے کہ عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں کو حراست میں لے کر وہ اپنا گناہ چھپا لے گی تو یہ اس کی بہت بڑی بھول ہے۔ بی جے پی کے رہنماؤں اور وزراء نے گرو صاحب اور سکھ سماج کی توہین کی ہے اور اس شرمناک حرکت پر بی جے پی کو معافی مانگنی ہی پڑے گی۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ بی جے پی کے وزراء اور رہنماؤں نے سکھ گروؤں کی توہین کی ہے۔ عام آدمی پارٹی کا مطالبہ ہے کہ گروؤں کی بے ادبی پر بی جے پی کے وزراء اور رہنماؤں کی جانب سے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا عوامی طور پر معافی مانگیں۔ اب یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ بی جے پی کے وزیر کپل مشرا نے دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ اور قائدِ حزبِ اختلاف آتشی کی ویڈیو میں جھوٹے الفاظ شامل کر کے اسے پھیلایا اور ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ فارنسک رپورٹ سے صاف ہو گیا ہے کہ کپل مشرا کی جانب سے پھیلائی گئی ویڈیو فرضی تھی، اس لیے کپل مشرا کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔سوربھ بھاردواج نے موقع پر موجود پولیس انتظامیہ سے سوال کیا کہ جب بی جے پی نے آپ کے ہیڈکوارٹر کے باہر دو گھنٹے تک احتجاج کیا تھا تو دہلی پولیس کو کوئی دقت نہیں ہوئی۔ اس وقت بی جے پی کے پردیش صدر وریندر سچدیوا اور وزیر منجندر سنگھ سرسا کو حراست میں نہیں لیا گیا، لیکن اب جب عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے، کونسلرز اور بڑی تعداد میں کارکن بی جے پی ہیڈکوارٹر پر احتجاج کے لیے آئے ہیں تو انہیں حراست میں لیا جا رہا ہے۔ آخر دہلی پولیس یہ دوہرا رویہ کیوں اپنا رہی ہے؟ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ جب پنجاب پولیس ایک دن میں ویڈیو کلپ کی فارنسک جانچ کرا سکتی ہے تو دہلی پولیس کو 15 دن کیوں لگ رہے ہیں؟ اس کا صاف مطلب ہے کہ جان بوجھ کر دہلی حکومت ویڈیو کلپ کی جانچ کو ٹالنا چاہتی ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ کپل مشرا نے جعلسازی کی ہے۔اس موقع پر براری سے ایم ایل اے سنجیو جھا نے کہا کہ بی جے پی کے وزراء ، اراکینِ اسمبلی اور رہنماؤں نے اپنی گھٹیا سیاست کے لیے گرو صاحب کی توہین کی اور فرضی ویڈیو چلائی۔ اس سے سبھی کو ٹھیس پہنچی ہے، خاص طور پر سکھ برادری کے لوگ زیادہ دکھی ہیں کہ بی جے پی اپنی اوچھی سیاست کے لیے گرو صاحب کی بے ادبی کر رہی ہے۔ عام آدمی پارٹی گروؤں کی توہین کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کرے گی۔سنجیو جھا نے کہا کہ بی جے پی نے ایک فرضی ویڈیو بنائی جس میں گرو صاحب کی توہین کی گئی۔ جب اس ویڈیو کی فارنسک لیب میں جانچ ہوئی تو وہ فرضی پائی گئی۔ عام آدمی پارٹی پہلے دن سے ہی کہہ رہی تھی کہ یہ ویڈیو جعلی ہے اور دہلی کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے بنائی گئی ہے۔ بی جے پی اکثر فرضی ویڈیوز بناتی رہتی ہے، لیکن اس بار اس نے گرو صاحب کا نام لے کر ان کی توہین کی ہے، جو ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ اسی لیے آج عام آدمی پارٹی بی جے پی ہیڈکوارٹر کے سامنے احتجاج کرنے آئی ہے۔ آپ کا مطالبہ ہے کہ بی جے پی کے تمام رہنما گھٹنے ٹیک کر اور گردوارے جا کر گرو صاحب کے سامنے معافی مانگیں۔ انہیں اس بے ادبی کا جواب دینا ہوگا، ورنہ یہ احتجاج جاری رہے گا۔سنجیو جھا نے کہا کہ اسمبلی اسپیکر وجیندر گپتا قوانین سے بالاتر نہیں ہیں۔ ہمیں امید تھی کہ اسپیکر قواعد، ضوابط اور طریقہ کار کو سمجھتے ہوں گے۔ اگر کوئی ویڈیو عوامی ڈومین میں ہے تو وہ صرف اسمبلی کی ملکیت نہیں رہتی۔ اب جب بی جے پی کے لوگ پکڑے گئے ہیں تو اسمبلی اسپیکر کے ذریعے ایک بار پھر توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بی جے پی ملک کی عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہے اور فرضی ویڈیوز بناتے بناتے اب گروؤں کی توہین کرنے لگی ہے، جو ایک شرمناک عمل ہے۔سنجیو جھا نے کہا کہ بی جے پی نے اس بار سنگین بدعملی کی ہے۔ اس نے اپنی گندی سیاست چمکانے اور دہلی کے اصل مسائل سے بچنے کے لیے فرضی ویڈیو بنائی۔ اس بار بی جے پی نے فرضی ویڈیو کے ذریعے گرو صاحب کی توہین کی اور انہیں اپنی گھٹیا سیاست میں گھسیٹا۔ اب فارنسک جانچ میں بھی یہ ثابت ہو چکا ہے کہ وہ ویڈیو جعلی تھی۔ عام آدمی پارٹی گروؤں کی توہین کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کرے گی، اسی لیے آج ہم بی جے پی کے ہیڈکوارٹر آئے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی کے تمام بڑے رہنماؤں سے کہا کہ وہ معافی مانگیں۔ اگر وہ ملک کے سماجی ہم آہنگی کو خراب کرنے کی کوشش کریں گے تو سکھ سماج اور ملک کی عوام انہیں معاف نہیں کرے گی۔اس موقع پر آپ کے ترجمان گھنیندر بھاردواج نے کہا کہ دہلی حکومت کے بی جے پی وزیر کپل مشرا نے گرو صاحب کے حوالے سے ایک ایسی ڈاکٹرد اور فرضی ویڈیو جاری کی جو سراسر جھوٹی تھی۔ کپل مشرا نے گرو صاحب کے نام کو بی جے پی کی تنگ نظر سیاست میں گھسیٹنے کا کام کیا ہے۔گھنیندر بھاردواج نے کہا کہ کپل مشرا نے گرو صاحب کی توہین کی ہے اور اس توہین پر پوری دہلی اور ملک بھر کے سکھ سماج میں شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ کپل مشرا کی یہ ویڈیو مکمل طور پر جعلی تھی، یہ بات عام آدمی پارٹی پہلے دن سے کہہ رہی تھی۔ پنجاب میں اس ویڈیو کی فارنسک جانچ ہوئی اور یہ واضح ہو گیا کہ کپل مشرا کی بنائی گئی ویڈیو پوری طرح فیک اور ڈاکٹرد تھی۔ اس ویڈیو کے معاملے میں کپل مشرا کے خلاف پنجاب میں ایف آئی آر بھی درج ہو چکی ہے۔گھنیندر بھاردواج نے کہا کہ بی جے پی اور وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا، جو اخلاقیات پر بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، اگر ان میں اور بی جے پی کی قومی قیادت میں ذرا سی بھی اخلاقی جرأت باقی ہے تو وہ کپل مشرا کو فوری طور پر برطرف کریں۔ کپل مشرا کے خلاف دہلی میں بھی ایف آئی آر درج ہونی چاہیے اور بی جے پی انہیں جیل بھیجے۔ کپل مشرا کے خلاف ایف آئی آر درج ہو چکی ہے، اس لیے انہیں جیل جانا پڑے گا اور پنجاب پولیس کسی بھی وقت انہیں گرفتار کر سکتی ہے۔گھنیندر بھاردواج نے کہا کہ اگر بی جے پی نے کپل مشرا کے خلاف کارروائی نہیں کی اور انہیں برطرف نہیں کیا تو دہلی اور ملک کا سکھ سماج بی جے پی کو معاف نہیں کرے گا۔ بی جے پی کے خلاف یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی، جب تک کپل مشرا کو برطرف نہیں کیا جاتا۔












