تہران، (یواین آئی) ایران میں برسوں کی سب سے بڑی احتجاجی تحریک کے دوران خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جہاں امریکہ کی ممکنہ مداخلت کے خدشے کے پیشِ نظر اسرائیل نے اپنی سکیورٹی تیاریوں کو انتہائی سطح پر پہنچا دیا ہے۔اسرائیل نے امریکہ کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے کے پیشِ نظر انتہائی ہائی الرٹ کی حالت اختیار کر لی ہے۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق ویک اینڈ پر ہونے والے سکیورٹی اجلاسوں میں اس امکان پر غور کیا گیا کہ اگر واشنگٹن عملی قدم اٹھاتا ہے تو اسرائیل کو کس حد تک تیار رہنا ہوگا۔ تاہم ان ذرائع نے یہ واضح نہیں کیا کہ ہائی الرٹ کی اس کیفیت کا عملی مطلب کیا ہے۔ یہ تفصیلات اتوار کو خبر رساں ایجنسی رائٹرز میں شائع ہوئیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی، جس میں ایران میں امریکی مداخلت کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ایک اسرائیلی ذریعے کے مطابق یہ بات چیت موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں نہایت اہم سمجھی جا رہی ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں بارہا ایران میں مداخلت کا عندیہ دے چکے ہیں اور تہران کو مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے باز رہنے کی تنبیہ کر چکے ہیں۔ ہفتے کی شب انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ امریکہ مدد کے لیے تیار ہے۔امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز کا جائزہ لیا ہے، تاہم تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس میں محدود نوعیت کے ممکنہ حملے پر سنجیدہ غور جاری ہے۔اسی دوران تہران میں ہفتے کی شب ایک اور احتجاجی مظاہرہ ہوا، جبکہ ملک بھر میں انٹرنیٹ کی بندش بدستور جاری ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں خدشہ ظاہر کر رہی ہیں کہ حکومت احتجاج کو دبانے کے لیے مزید سخت اقدامات کر سکتی ہے۔ یہ مظاہرے دو ہفتے قبل شروع ہوئے تھے اور گزشتہ جمعرات سے ان کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا ہے۔واضح رہے کہ یہ احتجاج 28 دسمبر کو تہران کے بازار میں تاجروں کی ہڑتال سے شروع ہوئے تھے، جس کی بنیادی وجوہات میں کرنسی کی قدر میں کمی اور عوام کی قوتِ خرید میں نمایاں گراوٹ شامل تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان مظاہروں میں حکومت مخالف سیاسی نعرے بھی شامل ہو گئے، جس کے باعث انہیں اسلامی جمہوریہ کے قیام کے بعد درپیش سنگین ترین چیلنجز میں شمار کیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ 2022-2023 کے مظاہروں کے بعد سب سے بڑے احتجاج ہیں، جو مہسا امینی کی موت کے بعد شروع ہوئے تھے۔یہ تمام صورتحال ایک ایسے پس منظر میں سامنے آ رہی ہے جب ایران نے رواں سال جون میں اسرائیل کے ساتھ بارہ روزہ جنگ کا سامنا کیا تھا، جس کے دوران ایرانی جوہری اور فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا اور شہری مقامات بھی متاثر ہوئے۔ اس عرصے میں امریکہ نے بھی ایران کے بعض اہم جوہری مراکز پر فضائی حملے کیے تھے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔












