ٹرمپ کے جنون، خلیجی دھمکیوں اور عالمی امن کے بگڑتے توازن کے بیچ ایران آج محض مشرقِ وسطیٰ کی ایک اہم ریاست نہیں رہا، بلکہ وہ عالمی سیاست کا ایسا دہکتا ہوا مرکز بن چکا ہے جہاں داخلی اضطراب، علاقائی رقابت اور عالمی طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے سے ٹکرا کر ایک خطرناک اور غیر یقینی منظرنامہ تشکیل دے رہے ہیں۔ بظاہر یہ بحران مہنگائی، بے روزگاری، عوامی احتجاج اور ریاستی جبر کی صورت میں دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے پس منظر میں عالمی طاقتوں کی وہ شطرنجی بساط ہے جس میں ایران کو کبھی دباؤ کا ہدف، کبھی سیاسی مہرہ اور کبھی عبرت کا نشان بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تہران کی سڑکوں سے اٹھنے والی آوازیں اب محض ایرانی سماج کی بازگشت نہیں رہیں، بلکہ واشنگٹن، تل ابیب، ریاض، ماسکو اور بیجنگ کے اقتداری ایوانوں میں بھی گونج رہی ہیں۔
گو کہ ایران میں اسلامی انقلابِ کو چالیس برس سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، مگر ایران ایک دفعہ پھر تاریخ کے اسی نازک دہانے پر کھڑا ہے جہاں داخلی کمزوریاں بیرونی مداخلت کو دعوت دیتی نظر آرہی ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ایران میں عوامی احتجاج نے شدت اختیار کی ہو۔ ۱۹۹۹ کے طلبہ مظاہرے ہوں، ۲۰۰۹ کی گرین موومنٹ یا ۲۰۱۹ کے معاشی احتجاجات—ہر مرحلہ پر ایرانی حکومت کے ذریعہ عوامی ناراضگی کو طاقت، سنسرشپ اور گرفتاریوں کے ذریعہ دبایا گیا۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج عالمی ماحول کہیں زیادہ کشیدہ، طاقتوں کے مفادات مزید جارحانہ اور تصادم کے امکانات حد سےزیادہ تباہ کن ہو چکے ہیں۔
معاشی بحران: احتجاج کی اصل جڑ
حالیہ احتجاجات کی جڑیں ایران کی شدید معاشی بدحالی میں پیوست ہیں۔ افراطِ زر چالیس فیصد سے تجاوز کر چکا ہے، ریال اپنی تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ چکا ہے اور نوجوانوں میں بے روزگاری ایک سماجی بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ سالوں سے جاری امریکی پابندیوں نے تیل کی برآمدات کو محدود کر کے ریاستی آمدنی کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کا براہِ راست بوجھ عام شہری پر پڑ رہا ہے۔ روٹی، دودھ، گوشت، ایندھن اور دواؤں جیسی بنیادی اشیاء عام آدمی کی قوتِ خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ ایسے حالات میں جب ریاستی اشرافیہ پر بدعنوانی، مراعات اور طاقت کے ناجائز استعمال کے الزامات سامنے آتے ہیں تو عوامی غصہ فطری طور پر سڑکوں پر پھوٹ پڑتا ہے۔
لیکن یہ احتجاج محض معاشی مطالبات تک محدود نہیں رہے۔ جلد ہی ان میں سیاسی نعرے شامل ہو گئے—آزادیٔ اظہار، شہری حقوق، خواتین کی سماجی حیثیت اور نظامِ ولایتِ فقیہ پر براہِ راست سوال اٹھنے لگے۔ یہ وہ مرحلہ تھا جہاں ریاست اور عوام کے درمیان خلیج مزید گہری ہو گئی۔
ریاستی ردعمل اور آئینی سوالات
ایرانی ریاست نے حسبِ روایت سخت گیر ردعمل اختیار کیا۔ انٹرنیٹ کی بندش، غیر ملکی میڈیا پر پابندیاں، مقامی صحافیوں کی گرفتاری اور سیکیورٹی فورسز کو کھلی چھوٹ—یہ سب وہ اقدامات ہیں جو وقتی طور پر احتجاج کو دبا تو سکتے ہیں، مگر یہ حقیقت ہے کہ ان اقدام سےآئینی اور اخلاقی سوالات کا بھی ظہور ہوتاہے۔ایران کا آئین عوامی شمولیت، عدلِ اجتماعی اور ریاستی ذمہ داری کی بات تو کرتا ہے، مگر عملی سیاست میں طاقت کا جھکاؤ اکثر عوام کے بجائے اداروں کی طرف دکھائی دیتا ہے۔ یہی تضاد عوامی اعتماد کو کمزور کرتا ہے اور احتجاجی لہر کو اخلاقی جواز فراہم کرتا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق حالیہ کریک ڈاؤن میں سینکڑوں شہری ہلاک اور ہزاروں گرفتار ہو چکے ہیں۔ اطلاعات پر قدغن نے اگرچہ حقائق کو دھندلا دیا، مگر سوشل میڈیا کے توسط سے سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز نے ریاستی بیانیہ کی دیواروں میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔
قیادت کا خلا اور بیرونی مفادات
ایرانی احتجاجی تحریکوں کی سب سے بڑی کمزوری آج بھی وہی ہے جو ماضی میں تھی: منظم قیادت اور واضح سیاسی لائحۂ عمل کا فقدان۔ جلاوطن اپوزیشن، خصوصاً رضا پہلوی، مغربی میڈیا میں نمایاں ضرور ہے، مگر ایران کے اندر اس کی سیاسی جڑیں کمزور ہیں۔ یہی خلا عالمی طاقتوں کے لیے سب سے بڑی کشش رکھتا ہے، کیونکہ بے سمت عوامی غصہ آسانی سے اسٹریٹجک مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
امریکہ اور ٹرمپ کی جارحانہ حکمتِ عملی
اسی پس منظر میں امریکہ، بالخصوص ڈونالڈ ٹرمپ نےایک بار پھر جارحانہ کردار اختیار۔کیا ہے۔ ٹرمپ کی “میکسیمم پریشر” پالیسی محض سفارتی دباؤ نہیں بلکہ کھلا سیاسی جبر ہے، جس کا مقصد ایران کو معاشی طور پر اس حد تک کمزور کرنا ہے کہ داخلی انتشار ریجیم چینج میں بدل جائے۔ ۲۰۱۸ میں جوہری معاہدے سے علیحدگی کے بعد یہ پالیسی عملی طور پر ناکام ثابت ہوئی، مگر اس کے باوجود ٹرمپ اسی راستے کو واحد حل کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ان کے بیانات میں انسانی حقوق کی ہمدردی کم اور انتخابی سیاست، اسرائیلی مفادات اور خلیجی اتحاد کی خوشنودی زیادہ جھلکتی ہے۔
خلیج فارس: ممکنہ عالمی آتش فشاں
اگر یہ کشیدگی جنگ میں بدلی تو خلیج فارس اس کا پہلا اور سب سے خطرناک میدان ہوگی۔ ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے محفوظ نہیں رہیں گے۔ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ دنیا کے تیل کا تقریباً ایک تہائی اسی راستے سے گزرتا ہے۔ ایک معمولی جھڑپ بھی تیل کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی مہنگائی، غذائی بحران اور کساد بازاری کی صورت میں سامنے آئیں گے۔
اسرائیل، پراکسی جنگ اور خفیہ محاذ
ایران اور اسرائیل کے درمیان تصادم اب محض بیانات تک محدود نہیں رہا۔ سائبر حملے، خفیہ کارروائیاں، سائنس دانوں کی ٹارگٹ کلنگ اور پراکسی جنگیں اس تنازع کو مسلسل بھڑکا رہی ہیں۔ اسرائیل ایران کو اپنا وجودی خطرہ سمجھتا ہے، جبکہ ایران اسرائیلی بالادستی کو خطے کے لیے ناسور قرار دیتا ہے۔ یہ خفیہ جنگ کسی بھی لمحے کھلے تصادم میں بدل سکتی ہے۔
روس، چین اور عالمی طاقت کا توازن
روس اور چین اس بحران کو محض علاقائی مسئلہ نہیں سمجھتے۔ ماسکو کے لیے ایران مشرقِ وسطیٰ میں اس کی اسٹریٹجک دفاعی لائن ہے، جبکہ بیجنگ کے لیے ایران توانائی، تجارت اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا کلیدی ستون ہے۔ ایران پر کسی بھی فوجی حملے کا مطلب روس چین بلاک کو براہِ راست چیلنج کرنا ہوگا، جس کے نتائج یوکرین جنگ سے کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔
بھارت کے لیے اس بحران کی معنویت
بھارت کے لیے ایران کا بحران محض سفارتی معاملہ نہیں بلکہ قومی سلامتی اور معاشی استحکام کا امتحان ہے۔ چابہار بندرگاہ، وسط ایشیا تک رسائی، توانائی کی ضروریات اور خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں بھارتی شہری—سب اس بحران سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایران میں عدم استحکام کی صورت میں بھارت کی علاقائی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے، جس کا فائدہ براہِ راست چین اور پاکستان کو پہنچے گا۔ نئی دہلی کو امریکی دباؤ، روسی تعلقات اور علاقائی مفادات کے درمیان نہایت نازک توازن قائم رکھنا ہوگا۔
تاریخ کا سبق اور مستقبل کا راستہ
تاریخ ہمیں بار بار خبردار کرتی ہے کہ بیرونی مداخلت نے عراق، لیبیا اور افغانستان کو کیا دیا—تباہ شدہ ریاستیں، بکھرا ہوا سماج اور نہ ختم ہونے والا تشدد۔ ایران کوئی کمزور یا نوآبادیاتی ریاست نہیں، بلکہ ہزاروں سالہ تہذیب، مضبوط قومی شناخت اور مزاحمتی سیاست کا حامل ملک ہے۔ یہاں پائیدار تبدیلی بم باری، پابندیوں یا بیرونی دباؤ سے نہیں بلکہ داخلی مکالمہ، آئینی اصلاحات اور عوامی شمولیت سے ہی ممکن ہے۔
المختصر یہ کہ ایران عہد حاضر میں عالمی طاقتوں کی شطرنج پر سب سے حساس مہرہ بن چکا ہے۔ اگر یہ مہرہ غلط چلا تو صرف بساط نہیں، عالمی امن بھی الٹ سکتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ایران میں تبدیلی آئے گی یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ یہ تبدیلی جنگ، تباہی اور خونریزی کے ذریعہ آئے گی یا عقل، مکالمہ اور تاریخ سے سبق سیکھنے کے نتیجہ میں۔ ایران میں امن اب صرف ایک ملک کی ضرورت نہیں رہا، بلکہ پوری دنیا کی ناگزیر ذمہ داری بن چکا ہے۔












