طبی ادارے اور نفرت کی سیاست ؛ پیشہ ورانہ اقدار کے لئے سنگین چیلنجز نازش احتشام اعظمی انسانی زندگی کے سفر میں طبی ادارے ہمیشہ سے وہ مقدس پناہ گاہ رہے ہیں جہاں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا انسان کو صرف ایک ‘وجود کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ یہ وہ مقتل نہیں جہاں رنگ و نسل اور عقیدے کی بنیاد پر فیصلے ہوں، بلکہ یہ وہ آستانے ہیں جہاں مسیحائی کا جذبہ تمام دنیاوی تعصبات سے بلند ہو کر خدمتِ خلق کے الہامی فریضے میں مصروف رہتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کبھی معاشروں پر جہالت کی تاریکی چھائی یا سیاست کے ایوانوں سے نفرت کی آندھیاں اٹھیں، طبی اداروں نے ہمیشہ ایک روشن مینار کی طرح غیر جانبداری اور ہمدردی کی شمع کو فروزاں رکھا۔ طب کا مشن محض جسمانی عوارض کا علاج نہیں بلکہ یہ انسانی وقار کی بحالی اور ایک ایسی فضا کی تخلیق ہے جہاں ہر فرد خود کو محفوظ اور معتبر تصور کرے۔ لیکن آج ہم ایک ایسے پر آشوب دور سے گزر رہے ہیں جہاں سیاست کی زہریلی لہروں نے ان پاکیزہ اداروں کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نفرت کی سیاست، جو تقسیم در تقسیم کے فلسفے پر پلتی ہے، اب ہسپتالوں کی راہداریوں اور میڈیکل کالجوں کے کمرہ جماعت تک رسائی حاصل کر چکی ہے، جس کے نتیجے میں پیشہ ورانہ اقدار کا وہ ریشمی جالا تار تار ہو رہا ہے جسے بننے میں صدیوں کی محنت اور لاکھوں جلیل القدر اطباء کی ریاضت شامل تھی۔ نفرت کی اس سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس نے ‘ہم اور وہ’ کی ایک ایسی خلیج پیدا کر دی ہے جس نے انسانیت کو گروہوں میں بانٹ دیا ہے۔ جب یہ تقسیم شعور کی سرحدوں کو پار کر کے طبی اداروں کے نظام میں سرایت کرتی ہے، تو وہ غیر جانبداری دم توڑ دیتی ہے جو اس پیشے کی روح ہے۔ حالیہ برسوں میں ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جو دلوں کو دہلا دینے والے اور ضمیر کو جھنجھوڑنے والے ہیں۔ جب فرید آباد کے الفلاح میڈیکل کالج جیسے اداروں پر سنگین الزامات لگتے ہیں یا جموں کے شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں میرٹ پر آنے والے طلبہ کی شناخت کو بنیاد بنا کر ہنگامہ آرائی کی جاتی ہے، تو یہ صرف چند افراد یا اداروں کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ یہ اس پورے نظام کی شکست کا اعلان ہوتا ہے جو انسانیت کی خدمت کے لیے وضع کیا گیا تھا۔ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ اب میرٹ اور قابلیت کی جگہ شناخت اور تعصب نے لے لی ہے، اور نیشنل میڈیکل کمیشن جیسے ریگولیٹری اداروں کے فیصلے بھی بسا اوقات سیاسی دباؤ یا تادیبی کارروائیوں کا عکس نظر آنے لگتے ہیں۔ یہ صورت حال کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے، کیونکہ جب مسیحا کے ہاتھ میں مرہم کے بجائے نفرت کا ترازو آ جائے، تو پھر شفا کی امیدیں دم توڑنے لگتی ہیں۔ طب کے چار بنیادی ستون—احسان، عدمِ نقصان، انصاف اور انسانی وقار—آج اس سیاسی یلغار کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ اخلاقیات کا تقاضا تو یہ تھا کہ معالج کے سامنے جب کوئی سسکتا ہوا انسان آئے تو اسے صرف اس کا درد نظر آئے، لیکن سیاست کی عینک نے معالجین کی بصارت کو دھندلا دیا ہے۔ جب علاج کی سہولیات کی فراہمی میں مریض کا عقیدہ یا اس کی سیاسی وابستگی حائل ہونے لگے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ انسانیت کا زوال شروع ہو چکا ہے۔ اس تعصب کا براہِ راست اثر صحت کے شعبے تک رسائی پر پڑتا ہے۔ ایک خوف زدہ اقلیت یا کمزور طبقہ جب ہسپتال کی عمارت کو شفا خانہ سمجھنے کے بجائے ایک ایسا مقام سمجھنے لگے جہاں اس کی تذلیل ہو سکتی ہے یا اسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے، تو یہ بد اعتمادی معاشرے میں ایک ناسور کی طرح پھیل جاتی ہے۔ لوگ بیماری چھپانے لگتے ہیں، وہ سرکاری یا بڑے اداروں میں جانے سے کتراتے ہیں، اور یوں ایک چھوٹی سی بیماری ایک بڑے وبائی خطرے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہ صرف ایک طبی بحران نہیں بلکہ ایک سماجی المیہ ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے۔ اس نفرت انگیز فضا کا ایک انتہائی تکلیف دہ پہلو وہ اخلاقی کشمکش ہے جس سے آج کے دور کے دیانت دار ڈاکٹرز اور نرسیں گزر رہے ہیں۔ ایک طرف ان کا پیشہ ورانہ حلف ہے جو انہیں ہر حال میں خدمت کا درس دیتا ہے، اور دوسری طرف وہ ادارہ جاتی دباؤ یا سیاسی مداخلت ہے جو انہیں مخصوص نظریات کا پابند بنانا چاہتی ہے۔ وہ معالجین جو آج بھی اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے مساوی علاج کی وکالت کرتے ہیں، انہیں اکثر و بیشتر بائیکاٹ، دھمکیوں اور ملازمت سے محرومی کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ صورت حال پیشہ ورانہ خود مختاری کو قتل کر دیتی ہے اور ایک ایسے کلچر کو جنم دیتی ہے جہاں خاموشی کو عافیت سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ طبی شعبے میں خاموشی بے حسی کے مترادف ہے، اور یہ بے حسی بالآخر پورے نظامِ صحت کو بنجر بنا دیتی ہے۔ جب ڈاکٹر ذہنی تناؤ اور اخلاقی بوجھ تلے دب جائے گا تو اس کی مسیحائی میں وہ تاثیر باقی نہیں رہے گی جو ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑتی ہے۔ میڈیکل تعلیم، جو کسی بھی قوم کے مستقبل کی ضامن ہوتی ہے، آج تعصب کی آماجگاہ بنتی جا رہی ہے۔ کالجوں کا ماحول جو کبھی علم و تحقیق اور انسانیت کی درس گاہ ہوا کرتا تھا، اب وہاں بھی شناخت کی سیاست کے پہرے بٹھا دیے گئے ہیں۔ اگر ہم اپنے آنے والے ڈاکٹروں کی تربیت ہی نفرت اور امتیاز کے ماحول میں کریں گے، تو ہم ان سے یہ توقع کیسے رکھ سکتے ہیں کہ وہ عملی زندگی میں جا کر ایک متنوع معاشرے کے ساتھ انصاف کریں گے؟ جب نصاب میں تبدیلی کی جائے، داخلوں میں میرٹ کو پسِ پشت ڈالا جائے اور فیکلٹی کی تقرری میں علمی قابلیت کے بجائے نظریاتی ہم آہنگی کو ترجیح دی جائے، تو یہ علم کے ساتھ خیانت ہے۔ سائنسی تحقیق، جو حقائق کی متلاشی ہوتی ہے، اب بسا اوقات مخصوص سیاسی بیانیوں کو تقویت دینے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا اور ڈیٹا کو اپنی مرضی کے نتائج کے لیے استعمال کرنا سائنسی دیانت کے خلاف ہے، جس کا نتیجہ غلط پالیسی سازی اور معصوم جانوں کے ضیاع کی صورت میں نکلتا ہے۔ عوامی اعتماد، جو کسی بھی طبی ادارے کی اصل بنیاد ہوتا ہے، اب تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر اور مریض کا رشتہ وہ نازک رشتہ ہے جو مکمل بھروسے پر قائم ہوتا ہے۔ اگر مریض کو یہ شک ہو جائے کہ معالج کے دل میں اس کے لیے ہمدردی نہیں بلکہ تعصب ہے، تو علاج کی آدھی تاثیر وہیں ختم ہو جاتی ہے۔ سوشل میڈیا اور میڈیا کا ایک مخصوص طبقہ اس آگ کو مزید ہوا دیتا ہے، جہاں افواہوں کو سچ بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور اداروں کے خلاف منظم مہم چلائی جاتی ہے۔ اس صورت حال میں طبی اداروں کی قیادت کو ایک انتہائی نازک توازن برقرار رکھنا ہوتا ہے، لیکن افسوس کہ اکثر اوقات وہ دباؤ میں آ کر اپنی اخلاقی جرات کھو بیٹھتے ہیں۔ عالمی سطح پر بھی ہمیں یہی منظر نامہ دکھائی دیتا ہے جہاں جنگ زدہ علاقوں میں ہسپتالوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور وبائی امراض کے دوران مخصوص گروہوں کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے۔ یہ سب اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ جب طب سیاست کا آلہ کار بن جائے تو انسانی جان کی قیمت کوڑیوں کے مول ہو جاتی ہے۔ تاہم، اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں بھی امید کی کرنیں موجود ہیں۔ طبی ادارے اگر چاہیں تو وہ اس نفرت کی سیاست کے خلاف ایک مضبوط ڈھال بن سکتے ہیں۔ ہسپتال وہ جگہ ہے جہاں انسان اپنی سب سے بے بس حالت میں ہوتا ہے، اور یہی بے بسی انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔ اگر ہم اپنے اداروں میں کثیر لسانی خدمات، ثقافتی اہلیت کے پروگرام اور تعصب کے خلاف ‘صفر رواداری کی پالیسی اپنائیں، تو ہم معاشرے کو ایک نیا رخ دے سکتے ہیں۔ پیشہ ورانہ تنظیموں اور ریگولیٹری اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنی آنکھیں کھلی رکھیں اور کسی بھی قسم کی اخلاقی خلاف ورزی پر سخت ایکشن لیں۔ ڈاکٹروں کی مسلسل اخلاقی تربیت اور ان کے ساتھ کھلے مکالمے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بیرونی سیاسی دباؤ کا مقابلہ کر سکیں۔ یہ ایک وجودی امتحان ہے، جس میں ہمیں یہ ثابت کرنا ہے کہ طب ایک مقدس فریضہ ہے، کوئی سیاسی اکھاڑہ نہیں۔ بالآخر، یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ نفرت کی سیاست کا یہ طوفان عارضی ہو سکتا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں طبی اداروں کی ساکھ کو جو زخم لگیں گے، انہیں بھرنے میں صدیاں لگ جائیں گی۔ ہمیں ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کے لیے جدوجہد کرنی ہوگی جہاں صحت کا حق ہر انسان کے لیے برابر ہو، جہاں ہسپتال کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی مریض کی شناخت صرف ‘انسان ہو۔
اور جہاں معالج کا ہاتھ صرف شفا دینے کے لیے اٹھے۔ طب کی روح کا تحفظ دراصل ہماری مشترکہ تہذیب اور انسانیت کا تحفظ ہے۔ اگر ہم نے آج ان چیلنجز کا مقابلہ نہ کیا اور اپنی پیشہ ورانہ اقدار پر سمجھوتہ کر لیا، تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام طبی پیشہ ور افراد، دانشور اور سول سوسائٹی متحد ہو کر اس زہریلے رجحان کے خلاف سینہ سپر ہو جائیں تاکہ مسیحائی کا یہ بھرم قائم رہ سکے اور انسانیت کی اس مقدس امانت کو ہم صحیح سلامت اگلی نسلوں تک پہنچا سکیں۔












